137

کشمیر۔۔۔ پاکستان کی خام خیالی؟

”پاکستانیوں کو کشمیر کے معاملے میں کسی خام خیالی میں نہیں رہنا چاہیئے“۔ اگر یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی تو نہ صرف اس کی زبان کھینچی جاتی، بلکہ اس کی جان بھی جاتی۔ لیکن یہ بات خود وزیرِ اعظم عمران? خان کے حواری اور پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود? قریشی نے کشمیریوں سے یکجہتی کے ایک اجتماع کے بعد ایک پریس کانفرنسس میں ببانگِ دہل کہی۔ انہوں نے تو یہ بھی کہا کہ اقوامَ متحدہ کی سیکوریٹی کونسل کے پانچ مستقل اراکین میں سے سے کوئی بھی پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس سے چند روز پہلے وہ یہ کہہ رہے تھے کہ چین جو ہمارا یار ہے ، کشمیر کے معاملہ میں ہمارے موقف کی حمایت کرے گا۔
پھر انہوں نے یہ بھانڈا بھی پھوڑا کہ مسلم امہ میں سے ہر ایک اپنے مفادات میں مبتلا ہے۔
حد تو یہ ہے کہ مسلم امہ کا خود ساختہ محافظ ( یعنی عظیم ملک سعودی عرب)، خود بھارت کے ساتھ اہم تجارتی اور معاشی معاہدے کر رہا ہے۔ اس کا تناظر یہ تھا کہ دنیا میں تیل کی فراہمی کی سب سے بڑی کمپنی آرامکو نے اعلان کیا کہ وہ بھارتی کمپنی ، ریلائنس‘ کے بیس فی صد حصص خرید رہی ہے۔ قیاس کے مطابق ، ریلائنس ، دنیا میں تیل کی صفائی کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ کیا اسی کو تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو ، نہیں کہتے؟
مسلم امہ کے اہم ممالک میں ملیشیا ، اور ترکی بھی شامل ہیں۔ ان کی بھی زبانی جمع خرچ ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ انہیں بھاتی اقدام پر تشویش تو ہے لیکن پاکستان اور بھارت کو اس معاملہ کو باہمی طور پر پر امن طور پر حل کرنا چاہیئے۔ سب کا یہ کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو یہ تنازعہ اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے تحت حل کرنا چاہیئے۔ اس سے زیادہ ٹالنے والے بات کوئی ہو ہی نہیں سکتی، کیونکہ یہ معاملہ ستّر سال سے ایسے ہی ٹل رہا ہے۔
یہاں یہ سمجھنا ضرور ی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قرارد یں اصل میں کیا ہیں؟ اس ضمن میں سنہ اڑتالیس کی قرار داد نمبر سینتالیس ہے جو بنیادی ہے۔ اس کے تحت تین کام کیئے جانے تھے۔ سب سے پہلا یہ تھا کہ ’پاکستان وہاں سے ان پاکستانی نیم فوجی جتھوں اور ہر طرح کی فوج کو نکال لے گا، جو کشمیر پر حملے میں ملوث تھے۔ پھر بھارت وہاں سے امن اور قانون نافذ کر نے والے اداروں کو بتدریج کم کر دے۔ اور آخر میں رائے میں بھارت رائے شماری کروائے گا۔ اس قرار پر مکمل ووٹنگ نہیں ہوئی، بلکہ اس کے پیرا گرافوں پر ووٹنگ ہوئی۔ بھارت اور پاکستان نے اس پر ااعتراضات کیئے۔ آخرِ کار ایک کمیشن قائم کرنے پر اتفاق ہو ا۔ جس کے نتیجہ میں یہ قرار داد، تین حصوں میں تقسیم کی گئی۔
پہلے حصہ میں جنگ بندی طے پائی۔ دوسرے میں پاکستان کشمیر سے ہر قسم کے فوجی اور نیم فوجی دستے نکالنے کا پابند ہوا۔ اور تیسرے کے تحت ہندوستان اور پاکستان کو پابند کیا گیا کہ وہ کمیشن سے بات چیت کی بنیاد پر کشمیر کے مستقبل کو طے کریں جس میں عوامی رائے کا احترام کیا جائے گا۔ بھارت اس فیصلہ پر خوش تھا کیونکہ اس کے تحت پاکستان کو جارح قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان اس تبدیل شدہ قرار داد کی قبولیت میں بھی اڑنگے لگاتا رہا۔ اور یوں معاملہ وہیں کا وہیں رہا۔ جب سے اب تک اقوامِ متحدہ اس معاملے میں کیاکر پائی ہے ، وہ سب کے سامنے ہے۔
گزشتہ ستر سالوں میں معاملات بدلتے چلے گئے۔ پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر میں پاکستانی شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پاکستان نے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کا ہزاروں میل کا خطہ چین کو تحفہ میں دے دیا۔ اور گزشتہ ستر سال میں عسکر ی قوتوں کے انخلا کے بجائے ہم بھارتی کشمیر میں مسلسل بالواسطہ یا براہِ راست عسکری کاروائیاں کرتے رہے۔ آخر ہم نے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کے گلگت اور بلتستان کے علاقہ کو، جو اس کشمیر کا اکثریتی جغرافیائی حصہ ہے ،پاکستان کی سپریم کورٹ کے طابع کر دیا۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کے تحت آپ اقوامِ متحدہ کی حمایت شاید ہی حاصل لرسکیں۔ دوسری جانب بھارتی انتظام یافتہ کشمیر کے مسلم وزرائے اعلیٰ اور حکومتیں بھارت سے ہر قسم کا تعاون کرتی رہے۔ بھارت بھی وہاں اپنی کاروایئاں کرتارہا۔ اور اب اس نے وہ قصہ ہی ختم کردیا۔
ہم اس خوش فہمی میں بھی رہے کہ بھارت کی حزبِ اختلاف مودی سرکار کا اس معاملہ میں ساتھ نہیں سے گی۔ اس کے برخلاف سوائے کانگریس کے، حزبِ اختلاف کی تقریباً ہر جماعت حلومت کے ساتھ ہے۔ خود کانگریس کے اہم رہنماﺅں میں اس معاملہ پر اتفاق نہیں ہے۔ کانگریس کے اہم رہنما ششی تھرور نے جو ایک دانشور بھی ہیں اور جو اقوامِ متحدہ سے بھی منسلک رہے ہیں، واضح طور پر کہا ہے کہ جب تک اقوامِ متحدہ کہ پہلی قرار داد پر عمل نہیں ہوتا، پاکستان کا مقدمہ کمزور رہے گا۔
جہاں تک زمینی حقائق ہیں پاکستان کے وزیرِ اعظم اور عسکری طبقات ہیں، وہ کسی بھی فوجی فتح کی توقع نہیں رکھتے، بلکہ اب سفارتی حل ڈھونڈنے پر زور دے رہے ہیں۔ یہ وہی حلقے ہیں جو کشمیر کو ہر صورت آزاد کرانے کی میٹھی گولیاں نہ صرف عوام کو کھلاتے رہے ہیں بلکہ ، خود ان کے اپنے کارکن ہمیشہ بھارت پر عسکری فتح کے خواب پر نشوو نما پاتے رہے ہیں اور پاکستانی عوام کا تعاون حاصل کرتے رہے ہیں۔
ایک اور زمینی حقیقت یہ بھی ہے کہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیری اب دونوں ہی ملکوں کے چنگل سے نکلنا چاہتے ہیں۔ کیا جانیئے کس دن خود پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیری بھی ایسی ہی آزادی مانگنے لگیں۔ اب آپ خود ہی کہیں کہ کیا پاکستانی وزیرِ خارجہ نے درست نہیں کہا کہ ہمیں کسی خام خیالی میں نہ رہنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں