64

دھرنوں اور تحریکوں کا انجام

پاکستان میں تمام سیاسی قوتیں باہم مل کر ایک تحریک کی صورت عمران خان کے خلاف صف آراءہو چکی ہیں بقول مولانا فضل الرحمن طبل جنگ بج چکا ہے۔ اسلا آباد کے چاروں طرف دھوم مچا رہا ہے۔ پورے ملک میں اس کی گونج سنائی دے رہی ہے اس تحریک کے سیاسی مقاصد تو بظاہر یہ ہی نظر آتے ہیں کہ وہ عمران خان کی موجودہ حکومت کو گرانا چاہتے ہیں مگر اصل پس پردہ عوامل کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس کے لئے تھوڑا سا ماضی کا جائزہ لینا ہوگا۔ اس ہی طرح کا ایک دھرنا پچھلے دنوں خادم حسین رضوی نے فیض آباد کے مقام پر بڑے موثر انداز میں دیا اس دھرنے نے اسلام آباد کو ایک طرح سے مفلوج کرنے کے ساتھ ساتھ پورے ملک کے سیاسی نظام کو یرغمال بنا رکھا تھا آخر میں یہ معاملات سیاسی قوتوں کے ہاتھوں سے نکل کر فوجی اسٹیبلشمنٹ تک جا پہنچے۔ جس کا سراسر نقصان سیاسی نظام کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی پہنچا۔ دنیا بھر میں پاکستان کی بہت بدنامی ہوئی۔ یہ دھرنا عمران خان اور مولانا طاہر القادری کے ماضی کے دھرنوں کے انداز میں پیش کرنے کا ایک نیا انداز ثابت ہوا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان سیاسی دھرنوں کے پیچھے بھی غیر سیاسی عناصر کی سپورٹ تھی جس کی وجہ سے سیاسی قوتوں کو آپس میں دست و گریبان کرکے نہ صرف سیاسی نظام کو نقصان پہنچایا بلکہ قوت فیصلہ سیاسی لیڈروں کے ہاتھ سے نکل کر مکمل طور پر غیر سیاسی عناصر کے پاس منتقل ہو گئی۔ کیونکہ سب سے پہلے اس طرح کے دھرنوں کا رواج مولانا طاہر القادری کے دھرنے کی وجہ سے قائم ہوا جس کو اس وقت کی سیاسی قوتوں نے باہم مل کر ایک طرح سے ناکام بنایا اور اختیارات کا موثر حصہ اپنے ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ عمران خان کی حیثیت اس حکومت میں صرف اس حد تک ہے جب تک ان کو اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ حاصل ہے۔ موجودہ حالات میں اب ان تمام سیاسی قوتوں کو باہم مل کر طے کرنا ہے کہ ان کو ماضی کی طرح اپنے اکتیارات کو اپنے ہاتھوں سے نکل جانے کا موقع فراہم نہیں کرنا چاہئے جیسا کہ ماضی میں اکثر ہوتا رہا ہے۔ جب مشرف کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا تو ابتدئای طور پر اس میں سوسائٹی کے سنجیدہ طبقے شامل تھے جو معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کے خواہشمند تھے مگر جلد ہی یہ تحریک ان استعماری طاقتوں نے ہائی جیک کرلی جو ایسے موقعوں کی منتظر رہتی ہیں اور ملک کے اندر مخلص طبقے ہاتھ ملتے رہ گئے۔ اس موقع پر مشرف کے پاس دو راستے تھے ایک یہ کہ تمام ان طاقتوں کو فوج کی مدد سے کچل دے جو معصوم لوگوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کررہی تھی۔ جس کے براہ راست اثرات معصوم عوام پر پڑتے جو کہ افغان جنگ سے بے حال تھی دوسرا راستہ یہ تھا کہ خود سے مستعفی ہو کر اقتدار سے الگ ہو جاتے مشرف نے دوسرا راستہ چنا اس نے عوام کی خاطر دوسروں کو اقتدار حوالے کردیا۔ اس طرح کی صورت حاصل موجودہ دور میں عمران خان کے سامنے ہے۔ عمران خان کے پیچھے بھی وہی غیر سیاسی عناصر موجود ہیں جو مشرفکے پیچھے کھڑے تھے مگر مشرف کے چہرے کی تبدیلی کے باوجود اختیارات ان ہی غیر سیاسی عناصر کے ہاتھ میں مضبوطی سے قائم رہتے چلے گئے۔ کسی بھی تحریک کو نام تو دیا جاتا ہے نظام کی تبدیلی کا مگر نظام جوں کا توں اس ہی طرح اسٹیٹس کو برقرار رکھتا ہے اور مخصوص غیر سیاسی عناصر کے حوالے سے اس ہی طرح سے چلتا رہتا ہے۔ اس لئے اب تحریک کا تعین اس طرح سے ہونا چاہئے کہ اختیارات کا نئے سرے سے تعین کرکے تمام اداروں کے مابین ایسا توازن قائم کیا جائے جس میں کسی ادارے کو دوسرے ادارے کے خلاف کسی قسم کی شکایت کا موقع نہ ملے۔ صرف عمران خان کا چہرہ تبدیل کرنے سے اداروں کا توازن قائم نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے عمران خان سمیت تمام سیاسی قوتوں کو باہم مل جل کر یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ نہ کسی بھی ادارے کے اختیارات میں مداخلت کرنے کا موقع فراہم کرنے سے گریز کریں۔ یعنی نواز شریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن اور عمران خان کو اس طرح کا چارٹر آف ڈیموکریسی قام کرنا چاہئے جیسا کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے مشرف کے زمانے میں آپس میں مل جل کر بنایا تھا۔
ان سب سیاسی عناصر کو یہ طے کر لینا چاہئے کہ وہ آپس کے سیاسی معاملات آپس میں ہی مل کر طے کرلیں گے نہ کہ اسٹیبلشمنٹ کو درمیان میں لائیں گے کیونکہ ہماری اپنی فوج اس وقت بیرونی طاقتوں سے نمٹنے میں سرگرداں ہے جو کہ اس موقع پر پاکستان میں خلفشار پیدا کرنا چاہتی ہیں ہمارے چاروں طرف جو جال بنا جارہا ہے اس کے لئے تمام سیاسی قوتوں کو اپنی مسلح فوج کی بھرپور مدد کرنی چاہئے۔ اس ہی طرح ان اداروں کو بھی سیاسی معاملات میں مداخلت سے لاتعلقی اختیار کرنی ہو گی کیونکہ فوجی جوان ایک بہت بڑی جنگ بیرونی دشمنوں سے بڑی بے جگری سے لڑ رہے ہیں اس لئے ان کو اپنی تمام تر توجہ اندرونی معاملات سے یکر ہٹا کر بیرونی دشمنوں پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں اپنے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے صحیح کہا کہ اب تمام اداروں کو باہم مل کر ایک ایسے فارمولے بنا کر ملک کے تمام ادارے آپس میں ایک دوسرے سے تعاون کرکے ایک ایسے نظام کو قائم کرنا چاہئے جس میں سب کو ایک دوسرے پر اعتماد ہو جیسا کہ مہذب معاشروں میں قائم ہے اس لئے سب کو ماضی سے سبق حاصل کرکے ان تمام تحرکوں کی ناکامی کا جائزہ لینا پڑے گا۔ جو بڑی نیک نیتی سے شروع کی گئی مگر ان کو کسی اور نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور جس کی وجہ سے پاکستان کو سراسر نقصان اٹھانا پڑا۔ کیونکہ پاکستان میں دھرنے اور تحریک کبھی کامیابی حاصل نہ کرسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں