Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 75

ریاست سیاسی بلیک میلنگ کی زد میں

جس طرح سے مغرب میں اختلاف رائے کو جمہوریت کا حسن کہا جاتا ہے اسی طرح سے اگر بلیک میلنگ کو پاکستانی جمہوریت کا حسن کہا جائے تو غلط نہ ہوگا اس لئے کہ پاکستانی سیاست کی ابتداءبھی بلیک میلنگ سے ہوتی ہے اور اختتام بھی بلیک میلنگ پر ہی ہوتا ہے۔ روزمرہ کی بنیاد پر ہونے والی اس سچائی سے واقفیت بھی سب سے زیادہ میڈیا کو ہوتی ہے جب کہ اس حقیقت سے لاعلم وہ ملکی عوام ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ سیاستدانوں کے مکروفریب کا شکار ہوتے رہتے ہیں لیکن اب سوشل میڈیا کی مہربانی سے ملک کے سیدھے سادھے عوام پر بھی ان کے محبوب لیڈروں اور ان کے مولانا کم سیاستدانوں کے راز دھیرے دھیرے فاش ہوتے جارہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے خود روایتی میڈیا اور عدلیہ سمیت زندگی کے دوسرے اہم ترین شعبوں کی بھی ساری اصلیت کھول کر عوام کے سامنے رکھ دی ہے جس کی وجہ سے سیاستدانوں، صحافیوں اور عدلیہ سمیت دوسرے اہم وزارتوں کو اپنا کام کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ وہ کام جو آئین اور قانون سے ہٹ کر کیا جاتا ہو جس کی وجہ سے ہیرا پھیری کرنے والے مشکل میں آرہے ہیں اس لئے کہ وہ اب جیسے جیسے غلط کام کرتے ہیں وہ بے نقاب ہوتے جاتے ہیں۔ ملک میں ایک عجیب طرح کی سی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ شکوک و شہبات اور غیر یقینی صورت حال میڈیا کے ذریعے پیدا کی جارہی ہے۔ انتخابات میں مارے ہوئے لوگ منتخب حکومت کے وزیر اعظم سے غیر آئینی طریقے سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں جس سے دوسری جمہوری ریاستیں پاکستان کا مذاق اُڑا رہی ہیں اور خود جمہوریت اور الیکشن پاکستان میں سوالیہ نشان بنتے جارہے ہیں۔ قانون کی حکمرانی خواب بنتا جارہا ہے جب کسی ملک کا وزیر اعظم گھیراﺅ اور دھرنوں اور مارچ کے ذریعے تبدیل کس طرح سے ہوسکتا ہے؟ اسے ہی دوسرے لفظوں میں کھلی بدمعاشی کہا جاتا ہے۔
ملکی عدلیہ اور میڈیا بھی کھلی آنکھوں سے ساری صورتحال کو دیکھ رہا ہے لیکن دونوں کا عمل حقیقت کے برعکس ہو رہا ہے، وہ دونوں پوری طرح سے ان عناصر کے سہولت کار بنتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے حوصلے میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ایک جمہوری حکومت کی مشکلات بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ میری ذاتی رائے میں دھرنے یا مارچ کے اس عمل کو نہ تو اختلاف رائے کا نام دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی آزادی اظہار رائے کا۔ یہ سارا عمل یا ڈرامہ تو ”میں نہ مانو“ کے زمرے میں آتا ہے۔ ایک ایسا شخص اس طرح کے وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا غیر قانونی اور غیر اخلاقی مطالبہ کررہا ہے جو ایک دو نہیں پانچ حلقوں سے الیکشن جیت کر اسمبلی میں پہنچا ہے اور جو گلا پھاڑ کر مطالبہ کررہا ہے وہ ایک دو نہیں بہت سارے حلقوں سے بہت ہی بُری طرح سے ہار چکا ہے انہیں تو اس طرح کا مطالبہ کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے لیکن سیاسی موت سے بچنے کے لئے شرم بے معنی ہو جاتی ہے، وہ چاہے کوئی تاجر ہو یا مولانا۔ وہ اس طرح کے بے شرمی کو بے شرمی نہیں خیال کرتے۔ ذاتی مفاد پوری طرح سے ملکی اور قومی مفاد پر غالب آچکا ہے بلکہ اس ضدی بچے کی طرح سے ”نہ کھلیں گے اور نہ کھیلنے دیں گے“ یہ کس طرح کی سیاست ہے، میں پہلے ہی اسے بلیک میلنگ کہہ چکا ہوں کہ یہ بلیک میلنگ ہو رہی ہے یہ ملکی اداروں کو مستحکم کرنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ نیب سمیت کوئی بھی ادارہ خودمختاری سے کام نہ کرے اور کسی کو سیاستدانوں سے سوال کرنے کی جرات نہ ہو۔
مجھے اس کے علاوہ اس دھرنے اور مارچ کی اور کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی ہے بعض تجزیہ کار اس دھرنے کا عمران خان کے دھرنے سے موازنہ کروا کے قوم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرتے ہوئے مولانا کے دھرنے کو جواز فراہم کرتے ہیں جو سراسر غلط ہے اس لئے کہ عمران خان نے تمام فورم سے مایوس ہونے کے بعد تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت ہی بحالت مجبوری دھرنا دیا تھا جب کہ موجودہ دھرنے یا مارچ سے پہلے اس طرح کا کوئی جمہوری اور اخلاقی قدم اٹھانے کی زحمت گوارہ نہیں کی گئی جس سے ان کی نیت اور ارادوں کا پتہ چلتا ہے۔ اس دھرنے اور مارچ کے اثرات سے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ ملک کی شہہ رگ کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کے لئے کیا گیا ہے اس لئے کہ اس مارچ اور دھرنے سے ریاست کو نقصان اور دشمنوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور میرے نزدیک دھرنے والے اپنے اس مقصد میں ضرور کامیاب ہو گئے ہیں اور وہ اپنے غیر ملکی چاہنے والوں سے داد و تحسین بھی یقیناً وصول کرچکے ہوں گے۔ میں جب اس ساری صورتحال کے تناظر میں ریاست پاکستان کو دیکھتا ہوں تو بڑی مشکل سے اپنے آنسو روکنے کی کوشش کرتا ہوں اس لئے کہ مجھے تو یہ ریاست پاکستان 22 کروڑ پاکستانیوں کے ہجوم میں بھی تنہا تنہا سا محسوس ہو رہا ہے اور اسے اب خود سے محبت کرنے والوں کی اشد ضرورت ہے جو اسے اس طرح کے اپنوں کی شکل میں موجود دشمنوں کی بلیک میلنگ سے بچائے۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہی حب الوطنی کا فقدان ہے، جہاں حکمرانوں، وزرائ، ججوں، بیوروکریٹس سمیت دوسرے تمام اعلیٰ حکام ملک سے وفاداری اپنے اختیارات سے دیانتداری کا حلف تو ایک قاعدے اور طور طریقے کے لحاظ اُٹھاتے ہیں لیکن ان میں سے کتنے لوگ اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہیں؟ وہ سب کو معلوم ہے۔ دنیا بھر میں ریاست جمہوریت سیاست اور تمام اداروں پر مقدم سمجھی جاتی ہے۔ ادارے ریاستوں کے بازو کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اداروں کے مستحکم ہونے سے ریاست مستحکم ہوتی ہے۔ پاکستان میں اپنے ذاتی مقاصد کے لئے اداروں کو کمزور سے کمزور تر کردیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے سے زیادہ کسی مضبوط شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرسکے اس طرح سے اداروں کے کمزور ہونے سے ریاست کمزور ہو جاتی ہے اور وہ پھر دوسری ریاستوں کی جارحیت کے مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہتی۔ اس حقیقت کا علم میڈیا اور عدلیہ دونوں کو ہے لیکن اس کے باوجود ان کے تجزیے، تبصرے، فیصلے اور ریمارکس ریاست کو کمزور کرنے والے عناصر کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتے ہیں۔ حکومت اور ان کے اداروں کو بلیک میلنگ کی سیاست کرنے والوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ اس طرح کی سیاست خود عوام جمہوریت اور ملک کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں۔ سیاستدانوں کو اپنی سیاست کا محورا ختلاف رائے تک محدود رکھنا چاہئے اور ملکی اداروں پر شک کرنے کی بجائے ان پر اعتماد کرنا چاہئے۔ ملکی سلامتی کے اداروں کو چاہئے کہ وہ اس مارچ اور دھرنے کی آڑ میں کی جانے والی اس لاقانونیت کا خاتمہ کروائیں۔ یہ ہی ملکی عوام اب چاہتے ہیں اور یہ ہی وقت کا تقاضا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں