80

میں نہ مانوں

ہماری کمیونٹی میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کمیونٹی کے ساتھ فراڈ کرتے ہیں۔ اُن کے دائیں بائیں موجود لوگوں کو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ دال میں کالا نہیں بلکہ پوری دال کالی ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ اپنے تعلقات ایسے نوسربازوں سے خراب نہیں کرتے۔ نہ ہی بحیثیت دوست انہیں تنبیہہ کرتے ہیں کہ وہ کیا غلط کررہے ہیں؟ بجز اسکے اُس کے اقدامات کو سراہا جاتا ہے۔ اُسے کمیونٹی کا مسیحا بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسا شخص شیر ہو جاتا ہے اور وہ نہایت دیدہ دلیری سے اپنا کام مزید تیزی اور اعتماد کے ساتھ جاری رکھتا ہے۔ اگر کسی موقع پر اُسے روک یا ٹوک دیا جائے تو اُسے شدید بُرا محسوس ہوتا ہے کیونکہ وہ صحیح یا غلط سمجھنے اور جاننے کی صلاحیتوں سے محروم ہو چکا ہوتا ہے۔ اُسے ہر ایک عمل دُرست دکھائی دیتا ہے۔ آخر کار وقت آتا ہے کہ اللہ کی رسی دراز کی گئی رسی کو کھینچ لیتی ہے اور یوں انسان جاگ جاتا ہے اور توبہ تائب کرکے صراط مستقیم کی راہ اپناتا ہے۔
مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو ”میں نہ مانوں“ کی رٹ لگا کر اور غلط پروپیگنڈہ کرکے اپنے خلاف چلنے والی تحریکوں کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی Face Saving کے لئے وہ اپنے اُوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہیں اور اپنے دوستوں اور کچھ معصوم لوگوں سے اپنے لئے سرٹیفکیٹس حاصل کرلیتے ہیں کہ اُن پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ اس لئے کیا جارہا ہے کیونکہ انہوں نے نہایت کم وقت میں بہت ترقی کی ہے اور لوگ اُن سے جلنے لگے ہیں۔ کاش کہ یہ لوگ جان سکتے کہ ”سچ کو آنچ نہیں اور جھوٹ کبھی چھپتا نہیں“۔ یوں ان کا جھوٹ بے نقاب ہو چکا ہے اور اُن کے خلاف ایسی شھادتیں موجود ہیں کہ جن کی موجودگی میں اس بار ان نوسربازوں کا بچنا مشکل ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان کے اردگرد جمع ان کے دوست بھی ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ ایک موصوف کا تعلق تو میڈیا سے ہے مگر وہ یہ بھول بیٹھے ہیں کہ اُن کے گھر کی کہانیاں بھی کچھ مختلف نہیں اور آگے ان کا نمبر ہے۔ ان تمام دو نمبریوں نے شہر کے میئر کے گرد گھیرا تنگ کیا ہوا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کئی ایک لوگوں کے سیاہ کرتوتوں کو کلین چٹ دینے کے لئے کچھ غلط طریقہ بھی اپنائے گئے ہیں۔ غرض یہ ایک ایسا ٹولہ ہے کہ جس کے تمام خفیہ دھندوں کو جو کمیونٹی کی نظروں سے پوشیدہ ہیں عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ کمیونٹی آنے والے کل کی بدنامی سے بچے اور ہماری نوجوان نسل جو خود کو ایک صاف ستھرے ماحول میں رکھ کر چلنے کی عادی ہے اور جنہیں ہم وطنوں کی گندی اور دوغلی سیاست سے نفرت ہے۔ ہم وطنی کی جذبوں کو سلا کر کینیڈین کلچر کا حصہ نہ بن جائے کہ جہاں کئی ایک غلط چیزوں کے ساتھ ساتھ سچ بولنے، قانونی طریقے سے زندگی گزارنے اور مل جل کر رہنے کی اچھی عادت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں