Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 102

حکمرانی اور پاکستان

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ حکمرانی کا ہے کہ کسے اس لاوارث اور یتیم ریاست پر حکمرانی کا حق ہے۔ جمہوری روایات کے تحت تو ریاست میں حکمرانی کے لئے الیکشن کا ”جوا“ ضرور کروایا جاتا ہے۔ اور بظاہر جیتنے والے کو اس کا انعام حکمرانی بھی دے دیا جاتا ہے لیکن پھر گدھے اور پخ والی صورت حال بن جاتی ہے کہ گاڑی کو کون کھینچ رہا ہے۔ گدھا یا اس کے ساتھ دوڑن والا ”پخ“۔۔۔؟
پاکستان کا بنیادی اور سب سے بڑا مسئلہ یا ساری برائیوں اور بیماریوں کی جڑ یا پھر ان کی ماں ہی ”حکمرانی“ ہے۔ جسے حقیقی اور اصولی طور پر حکمرانی کا حق حاصل ہے۔ اسے تو کوئی گھاس ہی نہیں ڈالتا۔ اسے تو کوئی خاطر میں ہی نہیں لاتا۔ اسے جسے ساری دنیا عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اسے ہی ہمارے ملک میں قدموں کی ٹھوکر بنا دیا گیا ہے۔ جی ہاں میں تذکرہ اسی قانون اور انصاف کی حکمرانی کا کررہا ہوں جس کا ابھی تازہ تازہ ہی سرے عام جنازہ نکالا گیا ہے۔ پاکستان میں جب کبھی بھی قانون و انصاف سر اٹھانے کی کوشش کی تو اس پر چاروں جانب سے اس طرح سے کاری ضرب لگا دی جاتی ہے کہ اسے پھر ایک عرصہ تک دوبارہ سر اٹھانے کی ہمت ہی نہیں ہوتی۔
پاکستان میں سیاست کی تجارت کی صحافت کی وکالت کی چوروں، ڈاکوﺅں اور رشوت خوروں سب کی حکمرانی تو ہے اگر نہیں ہے تو صرف قانون، انصاف کی حکمرانی نہیں ہے جس کی ا یک بڑی وجہ خود قانون اور انصاف کا اپنا شعبہ بھی ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ قانون اور انصاف کے شعبے میں شامل سارے کے سارے لوگ ہی خود اپنے شعبے کے دشمن ہیں۔ نہیں ایسی بات نہیں ان شعبوں میں اچھے ایماندار اور وطن سے محبت کرنے والے بھی شامل ہیں لیکن بدقسمتی سے بعض مجرمانہ ذہن رکھنے والوں نے قانون و انصاف کے شعبے میں شمولیت اختیار کرلی ہے جو ”گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے“ والا کردار ادا کررہے ہیں۔ پاکستان کی بقاءاور اسکی ترقی کے لئے قانون و انصاف کی حکمرانی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ قانون کی حکمرانی سے ہی صاف ستھرے انتخابات ممکن ہو سکیں گے۔ قانون و انصاف کی حکمرانی سے ملکی اداروں میں استحکام آئے گا اور طاقتور لوگوں کو قانون کا تابع اور انصاف کی حکمرانی سے ہی مظلوم اور کمزور کو انصاف مل سکے گا۔ بے روزگار کو ملازمت اور اہل کو اس کی صلاحیت کے مطابق اس کا مقام مل سکے گا اس لئے قانون و انصاف کی حکمرانی کسی بھی معاشرے اور اس ملک کے لئے ”ماسٹر کی“ کا درجہ رکھتی ہے۔ قانون و انصاف کی حکمرانی ہی انسانوں کے معاشرے کو جانوروں اور درندوں کے معاشرے سے الگ کرتی ہے۔ اس وقت پاکستان میں وہ تمام تر قوتیں متحرک ہیں جو قانون و انصاف کی حکمرانی کے خلاف ہیں ان سب قوتوں نے ہی اس طرح کے فیصلے پاکستانی عدلیہ سے کروالئے جو اس وقت پوری دنیا میں حیرت و تعجب سے زیادہ ہنسی اور مذاق کا باعث بن رہے ہیں۔ ان فیصلوں سے پوری دنیا میں وطن عزیز کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ وطن عزیز دنیا بھر میں ”بنانا ری پبلک“ کے نام سے متعارف ہوتا جارہا ہے۔
یعنی ایک ایسا ملک جہاں جنگل کا قانون رائج ہے جہاں مجرموں کی حکمرانی ہے، جہاں قانون و انصاف مجرموں کے قدموں کی ٹھوکر ہے جہاں مجرموں کو انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ عدالتوں کے فیصلے خود ان کے لئے مذاق بن گئے ہیں وہ اب کمزور اور لاچار عدالتوں کے فیصلے خود ان کے لئے مذاق بن گئے ہیں وہ اب کمزور اور لاچار قیدیوں سے متعلق کس طرح سے فیصلے کر سکیں گے؟ جس برق رفتاری سے پاکستانی عدلیہ بڑے مجرموں کے لئے حرکت میں آئی ہے کیا ان ججوں کا ضمیر اسی طرح سے کمزور اور غریب قیدیوں کے لئے بھی جاگ سکے گا؟ یہ ایک مشکل ترین سا سوال ہے اس لئے کہ اتنا جوش و جذبہ شاید ہی کسی معزز جج میں ہو۔ یہ نہیں کہ کوئی کمزور اور غریب قیدی نہیں یا ان کے ساتھ کوئی ظلم و زیادتی نہ کی گئی ہو، پاکستانی جیلیں اس طرح کے بے گناہ قیدیوں سے بھری پڑی ہیں لیکن وہ بے چارے کروڑوں کے وکیلوں اور لاکھوں کے صحافیوں کی خدمات سے محروم ہیں اسی وجہ سے ان کی آہ و پکار ان معزز ججوں تک نہیں پہنچ سکتی جو لکیر کے فقیر ہونے کے ناطے اپنے طور پر کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔ اس لئے پاکستان میں بہتری اس وقت تک نہیں آسکتی جب تک جو جس کا کام ہے اسے کرنے نہ دیا جائے۔ حکمرانی کا کام قانون و انصاف والوں کا ہے جب تک وہ برسر اقتدار نہیں آتے۔
اسی طرح لاقانونیت کا کھیل تماشہ چلتا رہے گا آپ درجنوں الیکشن کروالیں، حکمرانوں کے چہرے بدلتے جائیں، کوئی فرق نہیں پڑے گا جب تک بیماری کا علاج نہیں ہو گا۔ یہ مسائل اپنی جگہ جوں کے توں برقرار رہیں گے۔ قانون و انصاف کی حکمرانی سے ہی اقتدار پر شب خون مارنے والوں کو بھی روکا جا سکے گا اور نادیدہ قوتوں کی اقتدار میں شمولیت بھی اسی طرح سے رک سکے گی۔ ساری بیماری کا علاج ہی قانون و انصاف کی حکمرانی میں ہے جو قوتیں اس حکمرانی کے خلاف سرگرم عمل ہیں سب سے پہلے انہیں ہی نشان عبرت بنایا جائے تاکہ دوسروں کو قانون و انصاف سے کھلواڑ کرنے کی جرات نہ ہو۔ قانون و انصاف کی حکمرانی کی صرف سیاستدان ہی مخالف نہیں بلکہ وہ تمام تر عناصر اس طرح کے حکمرانی کو اپنے لئے خطرہ خیال کرتے ہیں جس کے مفادات کا ٹکراﺅ قانون و انصاف کے حکمرانی سے ہوتا ہے۔ وہ عناصر اس طرح کی تمام کوششوں کو ختم کردیتے ہیں یا پھر اس میں رکاوٹیں پیدا کرلیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے قانون و انصاف کی حکمرانی کے قیام میں مدد ملتی ہو۔ اس لئے میری تو وزیر اعظم عمرانخان سے اتنی سی گزارش ہے کہ وہ باقی سارے کام چھوڑ کر ون پوائنٹ ایجنڈے کے طور پر قانون و انصاف کی حکمرانی کو ہی اپنا نصف العین بنا دیں اس لئے کہ معاشی، مہنگائی اور زندگی کے ہر شعبے سے متعلق مسائل سب کے سب اسی طرز حکمرانی سے جڑے ہوئے ہیں۔ مجھے ان کی حالیہ تقریر میں موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان اور نئے آنے والے چیف جسٹس آف پاکستان سے انصاف کے یکساں فراوانی کی اپیل اور اس سلسلے میں اپنی حکومت کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی بہت پسند آئی۔ مجھے امیدہے کہ وزیر اعظم عمران خان بھی ملک میں قانون اور انصاف کی حکمرانی کے قائل ہیں وہ طبقاتی قانون اور طبقاتی نظام انصاف کے خلاف ہیں اس لئے وزیر اعظم عمران خان کو چاہئے کہ فوری اور آسان انصاف کو یقینی بنانے کے لئے وزارت قانون کو فوری طور پر متحرک کریں اور پراسیکیوشن کے شعبہ میں اصلاحات لائیں اور انہیں ان کی غلطیوں پر جواب دہ بنائیں۔ تاکہ ان کی مجرمانہ غفلت و لاپرواہی سے کوئی طاقتور مجرم قانون اور انصاف کی آنکھوں میں دھول نہ ڈال سکے۔ ملک میں اس طرح کی حکمرانی قائم کی جائے کہ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ میں پانی پینے کے قابل ہو جائیں۔ یہ ہی کسی انسانی معاشرے کی سب سے بڑی پہنچان ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں