102

میں نے جس کو چنا، عام رستہ نہ تھا

فنون لطیفہ کی وہ شاخ جسے ہم ادب کہتے ہےں، دراصل ایک دلنواز مجموعہ ہے مختلف اصناف سخن کا جن میں ہر ایک اپنے حسن سے گلدستہ ادب کو خوبصورت ترین بناتی ہے۔ ان میں شاعری بھی شامل ہے، افسانہ نگاری بھی، ناول نویسی بھی اور سوانح نگاری بھی۔ کائنات کی ہر حققتا کی طرح ادب بھی ارتقا پذیر ہے اور اس میں بھی تعمیر، و تشکیل، و تغیر کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ یہی وجہہ ہے کہ دنیا کے ہر ہر خطہ کی زبان میں جہاں وقتاً فوقتاً کچھ اصناف ِ سخن متروک ہوجاتی ہیں وہیں جدید اصناف سخن شامل ہوتی جاتی ہیں۔گزشتہ صدی میں جو نئی اصناف خود مختار ادب کے طور پر اپنائی گیئں ان میں تنقید اورترجمہ نگاری بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ لطف کی بات ےہ ہے کہ تنقید اور ترجمہ نگاری ادب کی ابتدا ہی سے ادب کی تفہیم اور ترسیل میں شامل تھے۔ لیکن یہ خود ادیبوں اور شاعروں کے تعصبات ہی تھے جو لکھنے والوں کو ان دو اہم اصناف کی اہمیت کو قبول کرنے سے گریزاں رکھتے تھے۔
ترجمہ نگاری ادب کی وہ اہم شاخ ہے کہ جس کہ بغیر کسی بھی زبان اور ادب کا پھیلاﺅ ناممکن بھی اور اس زبان سے باہر کے ادب کو بھی نا مکمل رکھتاہے۔ ادب کے کائناتی شعور میں وسعت، ادب کی ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقلی کے بغیر نا ممکن ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سارے ہی جیدد علوم ذہن ِ انسانی سے ذہن ِ انسانی تک ترجمہ نگاری ہی کے ذریعہ منتقل ہوئے ہیں۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سارے کا سارا یونانی فلسفہ اور بوطیقا یا شعریات عربی زبان میں منتقل ہونے کے بعد دوبارہ مغربی اور مشرقی زبانوں تک پہنچے، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب بھی اکثر یونانی علوم اصل زبان میں نہیں ملتے۔ باکمال ترجمہ نگاروں نے اعلیٰ ادب کو اس طرح اجنبی زبانوں میں منتقل کیا کہ قاری ایک لمحہ کے لیئے یہ محسوس نہ کر پائے کہ وہ اجنبی خیالات اور کسی مختلف ثقافتی اور لسانی دنیا سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
ضمیر احمد صاحب کا شمار بھی ہی باکمال ترجمہ نگاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو ادب میں صنفِ ترجمہ کو ادب کی مثالی اور امکانی حدوں تک پہنچایا ہے۔ اعلیٰ ادب کی خواہ وہ شاعری ہو یا نثر نگاری ، خوبی اور شرط یہ ہوتی ہے کہ اس میں کوئی بھی حرف اور لفظ اگر اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو پوراشیش محل مسمار ہو جائے۔ ہر زبان میں اور خصوصاً ہر زبان کی شاعری ،میں مثالیہ جو شاعر اس ہی مشکل مرحلہ سے گزر کر اپنے کلام کو نادر بناتا ہے۔
ضمیر احمد صاحب نے بھی جب صنفِ ترجمہ نگاری کو اپنایا تو ان کو بھی یہ مشکل معیار در پیش تھا۔ انہوں نے دانستہ طور پر عالمی ادب کے ان شہ پاروں اور ان شاہنشاہانِ ادب کی تصانیف کو ترجمہ کے لیے چنا کہ جنہوں نے اپنے اپنے طور پر شاعری کو اس کی ناممکنہ حدوں تک پہنچادیاتھا۔ ان ،میں ٹی ایس ایلیٹ ، سے لے کر ٹیگور، مارگریٹ ایٹ و±ڈ اور یہوا امیخائی جیسے اہم شعرا شامل ہی۔
انہوں نے ان عظیم شاعروں کا ترجمہ کرتے وقت کسی بھی لفظ کو غیر ضروری جگہ پر نہ استعمال کرنے کی شرط اپنے اوپر عائد کی اور یوں اردو کو بے مثال اور لافانی ترجموں سے مالا مال کردیا۔ جب وہ پابلو نرودا کی نظم کا ترجمہ اس طرح کریں:
آج وہ شب ہے آج ممکن ہے
انتہائی اداس شعر لکھوں
آج لکھوں کہ رات ٹوٹ چکی
دور افق پر ستارے لرزاں ہیں
یا لارڈ ٹےنیسن کی نظم اس طرح پیش کریں کہ:
ذرا ادھر نظر کرو
کہ جنگلوں، میں جب ہوا مٰیں جھولتی ہیں ٹہنیاں
تو ان کی نرم کوکھ سے
رضا کی کیفیت میں پھوٹتی ہیں کچی پتیاں
وہ سمٹی لپٹی پتیاں
جو کھل کے بڑھتی ہیں تو اور سبز ہوتی جاتی ہیں
نہ کوئی فکر اور غم
تمازتیں ہیں دھوپ کی جو دن چڑھے
تو شب کو چاندنی میں اوس کے مزے
اوراس کے بعد زرد ہوکے ٹوٹنا ہے شاخ سے
ہوا کے دوش پر بکھر کے لوٹنا ہے خاک پر
ذرا ادھر نظر کرو
تو کون سا با ذوق قاری ہے جو ایک ذہنی سرور میں نہ ڈوب جائے۔
ضمےر احمد کے فن کے بارے ،میں اردو ادب کی اہم ترین شخصیات جن میں شمس الرحمان فاروقی، گوپی چند نارنگ، انتظارحسین ، قمر جمیل، جیسے نقاد ، اپنی ثقہ اور اہم رائے دے چکے ہیں اور ان کی ترجمہ نگاری کو اعلیٰ ترجمہ نگاری قرار دے چکے ہےں۔
کینیڈا میں بیٹھے مجھ جیسے کم مایہ لکھنے والے تو اپنی صرف اس ہی خوش قسمتی پر نازاں ہیں کہ ہم نے ضمیر احمد کا زمانہ دیکھااور ہم ان کے اولین قاریئن میں شامل رہے۔
میں اپنی بات کو رابرٹ فراسٹ کی اہم نظم کے ضمیرصاحب کے کیئے ہوئے ترجمہ کے ایک اقتباس کے ساتھ مکمل کرتا ہو کیونکہ میری رائے میں ایسے یہ تراجم ان کا نصب العین بھی ہیں اور تعارف بھی:
کتنی مدت تلک بات یہ جائے گی
میری افسردگی اس کو دہرائے گی
زرد پتوں کے جنگل میں دو راستےیک بہیک دو طرف مڑ گئے اور میں !
میں نے جس کو چنا ، عام رستہ نہ تھا
اور یہی زندگی کوانوشتہ ہوا۔
(یہ مضمون، ممتاز دانشور اور ترجمہ نگار ضمیر احمد کے مجموعہ ”دوسروں کی شاعری “ کی کینیڈا میں تقریبِ تعارف میں پڑھا گیا تھا۔)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں