124

کمسن کلیوں کو مسلنے والے

پاکستان میں ننھے بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ آئے دن کبھی ننھی زینب جیسے واقعات میڈیا میں آنے کے سبب لوگوں کو بھی آگاہی ہو جاتی ہے مگر یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کی کہی ہوئی باتیں درست ثابت ہو رہی ہیں۔ دنیا بھر میں ایسے افراد موجود ہیں جو جنسی تشدد کے لئے لاکھوں ڈالرز کی ادائیگی کرتے ہیں اور اپنی جنسی تسکین کے لئے ڈارک ویب جیسی سائٹس کے ذریعہ معصوم کلیوں کا خون ہوتے دیکھتے ہیں۔ پاکستان میں روزانہ دس بچوں جن میں لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چند روز شور ہوتا ہے پھر خاموشی۔ ہماری پولیس تو مک مکا کرکے چپ سادھ لیتی ہے مگر وہ والدین جن کے لخت جگر ان سے چھینے گئے ہوتے ہیں مرتے دم تک اپنے معصوم پھولوں کو یاد کرتے رہے ہیں اور کوئی ان کے دکھ اور درد کو نہیں جان سکتا۔ ہمارے ملک میں جہاں سیاسی اور معاشی کرپشن عروج پر ہے۔ ملک کا ہر شہری کسی نہ کسی غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمی میں ملوث ہے اور ہر شخص اپنے حصے کی چوری کرکے پانچ وقت نماز بھی پابندی سے پڑھ رہا ہے۔ ہم نے تو اپنے مذہب کو بھی مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ مساجد کو لے لیجئے تو مساجد میں پڑھنے والے بچوں اور بچیوں کے ساتھ کئے گئے جنسی واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ چھوٹے چھوٹے معصوموں کے ہاتھوں سے قاعدے لے کر ان سے کیسے کیسے گھناﺅنے عمل کروائے جاتے ہیں۔ یہ لکھتے ہوئے میں شرمسار ہوں۔ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ لوگوں میں تعلیم کی کمی ہے اور جہالت کے سبب اس قسم کے جاہلانہ عمل کئے جاتے ہیں مگر حال ہی میں ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جو چارٹڈ اکاﺅنٹنٹ ہے اور پاکستان میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہے۔ ایک چار سالہ بچے سے جنسی زیادتی کے الزام میں زیر حراست یہ شخص نہ صرف تعلیم یافتہ ہے بلکہ یہ برطانیہ میں ایک فلاحی تنظیم “Save the Child” میں خدمات سر انجام دیتا رہا ہے۔ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ایک ایسا شخص جس پر بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری ہو اور جس کو لوگ قدر کی نگاہ سے یوں دیکھیں کہ یہ ہمارے بچوں کا محافظ ہے اور ایک درد مند دل رکھتا ہے۔ وہی ننھے پھولوں کو کچلنے کا مجرم قرار پائے۔ یہ شخص جو جاہل نہیں بلکہ نہایت پڑھا لکھا ہے اور برطانیہ میں بچوں سے جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار بھی ہوا اور سزا بھی کاٹی مگر پھر اٹلی چلا گیا۔ وہاں بھی یہی مکروہ دھندہ کرتا رہا اور کے ساتھ زیادتی کرکے ویڈیوز کا کاروبار کرتا رہا اور بلیک میلنگ میں ملوث رہا اور جب ان ممالک کی پولیس نے نظروں میں لے لیا اور اس کا کاروبار بند ہونے کو آگیا تو پھر یہ پاکستان جو آج کرمنلز کی جنت بنا ہوا ہے، آگیا اور حکومت میں ذمہ دار عہدے پر تعینات ہو کر وہی گندہ کام دیدہ دلیری سے دوبارہ شروع کردیے۔ انسان میں احساس ہو تو وہ یہ سوچ کر لرز جاتا ہے کہ کسی نے لخت جگر کے ساتھ کوئی شخص یوں کھیلے۔ کسی کے معصوم بچے یا بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا ارتکاب کرے اور ملک کے قانون کے رکھوالے اسے کوئی سزا دینے کی جسارت نہ کرسکیں بلکہ کوئی بھی دولت کے بل بوتے پر پولیس اور عدالتوں سے اپنے حق میں فیصلہ کرالے تو پھر ایسے افراد کو کون انصاف کے کٹہرے میں لائے گا اور اگر کوئی نیک صفت پولیس افسر آواز بھی بلند کر بیٹھے تو پھر اسے بھی کسی گلی اور شہر میں کسی بھی لمحہ خون میں نہلا دیا جائے گا اور اس کے بچے یتمی کی چادر اوڑھ کر بلکتے اور سسکتے رہیں گے مگرکوئی سننے والا نہیں۔ افراتفری کا وہ عالم ہے کہ کان پڑی آواز سنائی ہیں دے رہی۔ کوئی قانون سازی نہیں، حکومتی اہلکار اور حکمران انتقامی سیاست میں مگن ہیں۔ عوام نہ صرف مہنگائی کے بوجھ تلے بلکہ لاقانونیت کی تلوار سے روز ٹکڑے ٹکڑے ہورہے ہیں۔ کہیں کوئی پولیس موبائل کسی گاڑی کو روک کر معصوموں کو بلاوجہ خون میں نہلا دیتی ہے تو کہیں کسی کا لخت جگر اسکول سے واپس گھر نہیں آتا اور اس کے والدین کی آنکھیں اپنے لخت جگر کے انتظار میں پتھرا جاتی ہیں اور پھر معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے اسے زیادتی کا نشانہ بنا کر کسی گندے ندی نالے میں پھینک دیا۔ میں تو سوچ کر کانپ جاتا ہوں، نہ جانے کیسے سفاک ہو چکے ہیں ہم اور یہ کیسے ہمارے ہم وطن ہیں؟ ان کی تربیت کہاں ہوئی ہے؟ یہ ذہنی مریض کیوں گرفتار نہیں ہوتے؟ اور انہیں پالنے والے کیوں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتے؟ یہ سوال نہایت تکلیف دہ ہیں اور پریشان کن بھی۔ مگر کیا اس کا حل کسی کے پاس ہے؟ میں تو نہیں جانتا۔ آپ بھی سوچئے کہ ان کا حل کیا ہے؟ اور حکومت اس مسئلہ کے لئے کڑا اور سخت قانون کب بنائے گی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں