Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 166

ہندوستان بمقابلہ سیکولر ازم

کرتار پور راہداری کھل جانے کے بعد سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ پاکستان کا یہ حربہ ہندوستان کو آسانی سے ہضم نہیں ہوگا اور اس کی جانب سے ضرور کوئی جوابی وار ہوگا۔ وہ کیا ہوگا؟ اور کس طرح کا ہوگا؟ اس کے بارے میں ہر کوئی قیاس آرائی سے ہی کام لے رہا تھا۔ ڈپلومیٹ اس بارے میں زیادہ پریشان تھے پھر وہ دن بھی آگیا جب ہندوستان کی لوک سبھا نے گزشتہ دن 9 اور 10 دسمبر کی درمیانی شب کو ایک اس طرح کا متنازعہ ترمیمی شہریت بل شدید تحفظات کے باوجود پاس کرکے کرتارپور کی راہداری کے ردعمل میں دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے لئے سوائے دوسرے درجے کے شہری یعنی امتیازی حیثیت کے اور کوئی جگہ نہیں۔
اس طرح کے زہریلی قانون سازی نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی میں 27 ستمبر کو کی جانے والی اس تاریخی اور طویل ترین خطاب کی نہ صرف یاد تازہ کردی بلکہ اس خطاب کے ہر ان جملوں پر بھی مہر ثبت کرلی جو انہوں نے مودی اور ان کی سرپرست ہندو تنظیم راشٹریہ سوہم سویک سنگھ (آر ایس ایس) سے متعلق کی تھی جس میں عمران خان نے مودی کو ”ہٹلر“ اور ان کی سرپرست تنظیم ”آر ایس ایس“ کو نازی ازم سے تشبیہہ دی تھی کیونکہ اسی طرح کا بل ہٹلر بھی اپنے دور میں لایا تھا لیکن مودی کا یہ بل تو ہٹلر سے بھی زیادہ بدتر اور خطرناک ہے۔ اس بل کے ذریعے مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری بنانے کے علاوہ دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ہے اس ترمیمی شہریت بل کی ویسے تو ہندوستان کی سازی اپوزیشن پارٹیوں نے بھی مخالفت کی ہے لیکن سب سے اونچی آواز کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کی تھی۔ جنہوں نے حکمران پارٹی کی موجودگی میں جرات اور بہادری کے ساتھ لوک سبھا میں یہ کہتے ہوئے اس بل کی کاپیاں پھاڑ دیں کہ یہ ہندوستان کے آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ یہ مسلمانوں کو بے ملک بنانے کی سازش ہے انہوں نے کہا کہ یہ مہاتما گاندھی کے افکار کی خلاف ورزی ہے اس لئے کہ مہاتما گاندھی کو مہاتما اس لئے کہا گیا تھا جب انہوں نے جنوبی افریقہ میں امتیازی شہریت کا کارڈ پھاڑ دیا تھا۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ اس بل کے ذریعے ہندوستان میں ایک اور تقسیم کی بنیاد رکھ دی گئی ہے انہوں نے لوک سبھا کے اسپیکر سے کہا کہ ملک کو اس طرح کے قانون سے بچائیں بصورت دیگر نورمبرگ نسلی قوانین اور اسرائیل کے شہریت قانون کی طرح وزیر داخلہ امیت شاہ کا نام ہٹلر اور ڈیوٹ بین گورین کے ساتھ آئے گا۔
ہندوستان کے اس ترمیمی شہریت بل کے ردعمل میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ بل راشٹریہ سویم سویک سنگھ (آر ایس ایس) کی کڑی ہے، عمران خان نے اپنے بیان میں بھارتی حکومت کے اس بل کی مذمت کی اور اسے مسترد کردیا اور کہا کہ فاشسٹ مودی حکومت آر ایس ایس کے عزائم کی تکمیل کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی شہریت کا قانون عالمی انسانی حقوق کے قوانین اور پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ بھارتی شہریت دینے کی قانون کی سازی تعصب پر مبنی ہے۔ بھارتی فیصلے سے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق اور سیکورٹی پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کرتارپور راہداری کھول کر اقلیتوں کو سینے سے لگانے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری جانب بھارتی حکومت اس طرح کے ترمیمی شہریت بل پاس کرکے امتیازی قانون سازی کررہی ہے۔ اقلیتوں کو تحفظ دینے کے نام پر انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کررہی ہے اور گریٹر ہندواتا کے لئے راہیں ہموار کررہی ہے۔
مغربی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کرتارپور راہداری کھول کر ایک اس طرح کا وار ہندوستان کی سلامتی پر کیا ہے کہ جس سے نکلنا اس کے بس میں نہیں ہے۔ کرتارپور راہداری کھل جانے سے پاکستان نے ایک طرح سے ہندوستان کی سلامتی اپنے پاس گروی رکھ لی ہے۔ وہ جب چاہے ہندوستان کی سلامتی سے کھلواڑ کر سکتا ہے۔ جس کا ادراک خود بھارتی پالیسی سازوں کو بھی ہے لیکن وہ اس نازک اور حساس ترین معاملے پر سوائے خاموشی کے اور کچھ نہیں کرسکتے۔ گزشتہ شب کے ترمیمی شہریت بل کے ذریعے بھارتی حکومت نے ہندوﺅں کے آنسو پونچنے کی کوشش کی ہے اس ترمیمی بل کو کرتارپور راہداری کا نعم البدل کسی بھی طور پر نہیں کیا جا سکتا تاہم اسے اس کا ردعمل ضرور کہا جا سکتا ہے۔ اس طرح کرنے سے بھی ”بلی تھیلے سے باہر نکلنے“ کے مصداق حکمران پارتی کے عزائم بے نقاب ہو گئے ہیں اور اب یہ بات روز روشن کی طرح سے عیاں ہو چکی ہے کہ گریٹر اسرائیل کی طرح سے گریٹر ہندواتا کے طرز پر کام کرتے ہوئے بھارتی حکومت بھی ہندوستان کے ماتھے پر جگمگاتے ”سیکولر“ کو ہٹانے کی کوشش کررہی ہے وہ ہندوستان کو صرف ہندو اسٹیٹ بنانے کے لئے قانون سازی کررہی ہے جس کی بنیاد گزشتہ شب کے اس ترمیمی شہریت بل کے پاس کروانے کی شکل میں رکھ دی گئی ہے اس طرح سے اب ہندوستان بھر میں موجود تمام اقلیتوں کے لئے مشکل صورتحال پیدا کئے جانے کے اسباب کی شروعات بھی کردی گئی ہے۔ پاکستان نے کرتاپور راہداری کھولنے کی شکل میں بھارت کو دوستی اور خیرسگالی کا پیغام بھجوایا تھا لیکن اس کے ردعمل میں بھارت نے اس بل کے ذریعے کیا جواب دیا ہے وہ پورے دنیا کے سامنے ہے اور لوگ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مودی کے دور حکمرانی میں ہندوستان اور کتنے سالتوں تک سیکولر ازم کے سائے میں چلتا رہے گا؟ اور کتنے عرصہ تک مہاتما گاندھی کے ہندوستان میں اقلیتی عوام کھلی فضا میں سانس لے سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں