Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 178

چیلنج

برطانیہ کے تسلّط سے آزاد ہونے کے بعد 1789 میں جارج واشنگٹن امریکہ کا پہلا صدر بنا جو کہ ملٹری کا جنرل بھی تھا اور برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے لئے اس نے بہت خدمات انجام دیں۔جارج واشنگٹن کو صدر بنتے ہی کئی معاملات میں چیلینجز کا سامنا کرنا پڑا اور بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنا پڑاایک بالکل نئے بننے والے ملک میں سیاسی تنظیمی ڈھانچہ بنانے کی ضرورت تھی۔ ایک اپوزیشن کا قیام ضروری تھا۔آزادی کو قائم رکھنے کے لئے پروگرام ترتیب دینے تھے۔چونکہ بہت ساری قومیں ایک ہی مقام پر اکھٹّا ہوگئی تھیں جس میں برطانیہ ،فرانس، اسپین ،پرتگال کے علاوہ کئی ممالک کے باشندے شامل تھے جو نئی سرزمین پر اپنی قسمت آز مانے آئے ہوئے تھے۔برطانوی باشندوں سے جنگ کے بعد اور ان کا تسلّط ختم کردینے کے بعد نئی حکومت کا قیام اور اسے سنبھالنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔عوام کی سپورٹ سب سے بڑا مسئلہ تھا آئین کی تیّاری کے لئے عوام کی اکثریت کی منظوری بہت ضروری تھی جب کہ صورت حال یہ تھی کہ جارج راشنگٹن کو صرف پانچ فیصد نوجوان طبقے کی حمایت حاصل تھی ۔کچھ ریاستوں نے کینیڈا کے ساتھ مل جانے کی دھمکی دے دی تھی۔نئی حکومت کو معاشی اور خارجہ تعلقات کو بہتر کرنے کے لئے بھی دشواریاں پیش آرہی تھیں۔اسپین نے جنوبی اور مغربی سرحدوں کو ماننے سے انکار کردیا تھا دوسری طرف برطانیہ کے لوگوں نے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد بھی خلاف ورزیاں جاری رکھیں اور کئی علاقوں پر غیر قانونی قبضے جاری رکھے۔نئی گورنمنٹ پر پہلے ہی قرضے کا بہت بوجھ تھا۔ حکومت چلانے کے لئے افرادی قوّت کی کمی تھی۔ٹوٹل 75 پوسٹ آفس تھے۔چند کلرک تھے جن کی تنخواہ دینے کے بھی پیسے نہیں تھے۔آرمی میں صرف 50 آفیسر اور 700 سپاہی تھے۔کورٹ کا کوئی سسٹم نہیں تھا نا ہی نیوی کا کوئی تصوّر تھا اور ٹیکس وصول کرنے کا بھی کوئی انتظام نہیں تھا لہذا صورت حال سے نمٹنے کے لئے تمام لوگ سر جوڑ کر بیٹھے کہ کس طرح سے ملک کو چلایا جائے لیکن اس کے لئے عوام کے تعاون کی سخت ضرورت تھی۔ بہرحال بہت سوچ بچار کے اور تمام لوگوں کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے آئین ترتیب دیا اور نئے تنظیمی ڈھانچے کو مکمل کیا قانون بنائے لوگوں پر ٹیکس لگائے اور ہر طریقے سے منظّم ہوکر آگے بڑھے۔آج پاکستان کی حکومت کو ایسے کئی مقابلوں کا سامنا ہے۔عمران خان کئی محاذ پر اکیلا لڑ رہا ہے بالکل یہی صورت حال جارج واشنگٹن کے ساتھ تھی وہ بھی کئی محاذ پر اکیلا ہی لڑ رہا تھا۔عمران خان کے لئے ہر قدم پر رکاوٹوں کا جال بچھایا جارہا ہے بدعنوان سیاسی پارٹیوں کے سربراہ اور ان کے چیلے چپاٹے ہر ممکن اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح اس حکومت کو ناکام بنادیا جائے۔میرا نہیں خیال کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی سربراہ کو کبھی اتنی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہو۔اور اگر مزاحمت ہوئی بھی تو اسے سنبھال نا سکے اور اپنی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے۔یہ واحد شخص ہے جس نے اتنی مخالفتوں کے باوجود ہار نہیں مانی۔بد قسمتی سے حکومت بنانے کے لئے اچھے اور ایمان دار ساتھی نا مل سکے۔ اس کے باوجود چند مخلص لوگوں کے تعاون سے بہت محنت اور جدوجہد کے بعد جب کامیابی کے قریب پہونچنے لگے معیشت کو بہتر کرنے مہنگائی کو ختم کرنے اور حالات بہتر بنانے کا وقت قریب تھا ایک نئی مصیبت سے دوچار ہوگئے جو کورونا کی صورت میں نازل ہوئی۔مخالفین کو ایک مرتبہ پھر موقع مل گ?ا اور طرح طرح کے الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ہر روز ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے جان بوجھ کر ایسے فتنے پیدا کئے جاتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا ہے۔اگر پاکستان میں لوگوں کے رویّے کا جائزہ لیا جائے تو بڑی حیرت ہوتی ہے کہ کیا ان کو باقی دنیا کے حالات کا کوئی علم نہیں ہے وہ اس مصیبت کو صرف پاکستان کی حد تک دیکھ رہے ہیں مخالف سیاسی پارٹیوں کے لوگ اور آگ بھڑکارہے ہیں او ران کی باتوں سے یہ محسوس ہورہا ہے کہ یہ مصیبت بھی حکومت کی لائی ہوئی ہے کچھ لوگ تو سراسر کورونا وائرس سے ہی انکاری ہیں ان کی نظر میں یہ کو رونا وائرس کا کوئی وجود نہیں ہے اور حکومت بلاوجہ عوام کو پریشان کررہی ہے۔ایک بڑی تعداد اسے یہودیوں اور عیسائیوں کی سازش قرار دے رہے ہیں کہ پاکستان میں مسجدیں بند کرانے جمعے کی نماز بند کرانے اور اور حج اور عمرہ بند کرانے کے لئے سازش کی گئی ہے اور اس سازش میں پاکستان کی حکومت ان کا ساتھ دے رہی ہے۔جہالت کی انتہا ہے۔یہودی اور عیسائی صرف ہماری نمازیں بند کروانے کے لئے اپنی معیشت کو تباہ کررہے ہیں مغرب میں لوگوں کے کاروبار ختم ہورہے ہیں نوکریاں چلی گئی ہیں اور کھانے کے لالے پڑ گئے ہیں اور حالات اس حد تک خراب ہورہے ہیں کہ اب احتجاج شروع ہوگئے ہیں کہ آفس کاروبار کھولے جائیں لوگ رسک لینے کو تیّار ہوگئے ہیں۔کس قدر احمقانہ بات ہے کہ یہ سارا ڈرامہ صرف ہماری نمازیں بند کروانے کے لئے ہورہا ہے۔مجھے دوسرے یوروپی ممالک کا اس وقت ذاتی تجربہ تو نہیں ہے لینق بہرحال ویڈیوز سے کافی معلومات ہورہی ہیں لیکن چونکہ لوگ اسے بھی غلط قرار دے دیں گے لہذا میں اپنے ذاتی تجربے اور جہاں اور جو کچھ دیکھ رہا ہوں وہ بیان کروں گا امریکہ میں چرچ میں 15 افراد سے زیادہ جانے کی اجازت نہیں ہے وہ بھی ایسے کہ اگر چرچ میں اتنی گنجائش ہے کہ چھ چھ فٹ کے فاصلے سے پندرہ آدمی آجائیں ، کئی مقامات پر چرچ میں لوگ جمع ہوئے تو پولیس پہونچ گئی اور لوگوں کو گرفتار بھی کیا اور جرمانے بھی کئے۔یہودی اپنی عبادت گاہ کے سامنے جمع ہوگئے تھے ان کا مذہبی تہوار تھا پولیس کے منع کرنے کے باوجود وہ نہیں مانے تو ان پر تیز دھار پانی کی دھار سے بوچھاڑ کی گئی اور وہ بوچھاڑ اتنی تیزتھی کے لوگوں کوگرا دیا ان کے ہیٹ ہوا میں اڑرہے تھے۔حیرت ہے کہ ہماری نمازیں بند کرانے کے لئے اتنی جدو جہد کے اپنی عبادتوں پر بھی پابندی لگادی اور ہمارے صحافی حضرات حکومت سے پوچھ رہے ہیں کہ مسجدیں بند کرانے کے لئے غیر مسلموں سے کتنے پیسے لئے ہیں۔چار دہائیاں امریکہ میں گزار کر ہم نے جو تصویر دیکھی وہ اس سے بہت مختلف ہے جو ہمارے ملک میں سیدھے سادھے لوگوں کو دکھائی جاتی ہے۔یہاں بڑے شہروں میں جگہ جگہ مساجد ہیں مساجد کی تعمیر میں کوئی بھی رکاوٹ نہیں ڈالتا جب کے مسجد کے چاروں طرف غیر مسلم رہتے ہیں جو ہمارے نمازیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں۔کئی مقامات پر مساجد میں جمعہ کی نماز میں پارکنگ کم پڑ جاتی ہے تو قریب کے چرچ اپنی پارکنگ دے دیتے ہیں۔جمعہ کی نماز میں لوگوں کو سڑک پار کرنے کے لئے پولیس والے ٹریفک کنٹرول کرتے ہیں اور نمازیوں کو روڈ پار کروانے میں مدد کرتے ہیں اس کے علاوہ بھی عام شہری ،پولیس ،سٹی کا مئیر اور سٹی کے لوگ ہر طرح کا تعاون کرتے ہیں اور لوگ آزادی سے مساجد میں نماز ادا کرتے ہیں بعض مقامات پر چرچ والوں نے جمعہ کی نماز کے لئے اپنے چرچ دئیے ہوئے ہیں۔۔آج کل ایک اور مسئلے نے سر اٹھایا ہے اور تمام مخالفین تیّار ہوکر میدان میں کود پڑے ہیں۔مولانا طارق جمیل نے تمام میڈیا اور عمران خان کی موجودگی میں بیان دے دیا کہ ہمارے ملک کا میڈیا بلکہ تمام دنیا کا میڈیا جھوٹ بولتا ہے۔دوسری بات انہوں نے یہ کی کہ ہمارے یہاں بدعنوانی ،چوری ،جھوٹ ،بے ایمانی حد سے بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے اللہ کی طرف سے عذاب آتا ہے۔اب یہ کوئی نئی باتیں نہیں ہیں کئی علمائ یہ سب کہہ چکے ہیں ڈاکٹر اسرار احمد تو بارہا اپنے بیانات میں یہ سب کہہ چکے ہیں اور بچّہ بچّہ واقف ہے کہ حقیقت میں میڈیا بہت جھوٹ بولتا ہے اس کے باوجود میڈیا سمیت تمام مخالفین اکھٹّا ہو گئے اور مولانا صاحب کے خلاف مہم شروع ہوگئی ظاہر ہے مولانا کو علم ہے کہ میر حامد جیسے لوگ کیچڑ ہیں جس سے بچ کر چلنا چاہئے لہذا انہوں نے معافی مانگ لی لیکن اس طرح حامد میر سمیت کئی ٹی وی اینکر کا منہ مزید کالا ہوگیا اور مولانا صاحب کی عزّت میں اور اضافہ ہوگیا۔ مولانا صاحب کی بات سے اختلاف کرنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر کے جھوٹے انسان کو مارنا پڑے گا جو کہ بہت مشکل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں