29

اٹھارویں ترمیم حقیقت کے آئینہ میں!

8 اپریل 2010ءکو اٹھارویں ترمیم منظور ہوئی۔ جسے متفقہ طور پر حکومت اور اپوزیشن نے اپنے مستقبل کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے منظور کیا۔ اس ترمیم میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئیں مگر ان میں سے بہت ساری بنیادی تبدیلیوں پر کوئی عملدرآمد نہ ہو سکا بلکہ وقت نے ثابت کیا کہ یہ تبدیلیاں وفاق پاکستان کو کمزور کرنے کا باعث بنیں۔
اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے نواز شریف سے ملی بھگت کرکے دونوں پارٹیوں کے آئندہ دنوں میں ایک دوسرے کو فائدہ پہنچانے کے لئے متنازعہ اٹھارویں ترمیم کر ڈالی۔ جس کی بنیادی روح سے صحت، پولیس، ٹرانسپورٹ، مواصلات، تعلیم اور بلدیاتی ادارے وفاقی حکومت سے لے کر صوبوں کے حوالے کر دیئے گئے اور صوبوں کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ بلدیاتی، پولیس، صحت اور تعلیم وغیرہ کو خود کنٹرول کریں۔ یعنی صوبوں کو بظاہر با اختیار بنا دیا گیا۔ صوبوں کا بجٹ خود بنائیں اور چاہیں تو اس سے ترقیاتی کام کریں اور چاہیں تو اپنی تجوریاں بھریں۔ صوبوں کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ اپنی مرضی سے ٹیکس لگائے اور محکموں کو چلائے پابند رکھے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد ہر صوبہ غیر ممالک سے قرض لے سکتا ہے اور معاہدے کر سکتا ہے یعنی صوبہ کو اختیار دے دیا گیا کہ جتنا مرضی مال بناﺅ اور بے حساب کرپشن کرلو۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے نتیجہ میں نہ صرف وفاق پاکستان کو کمزور کیا گیا بلکہ اس سے صوبوں کے درمیان بھی مخاصمت شروع ہو چکی ہے۔ وفاق پاکستان کو اس حق سے بے دخل کر دیا گیا کہ وہ صوبوں کا آڈٹ کرسکیں۔
پیپلزپارٹی نے اٹھارویں ترمیم اس لئے کی تھی کہ وفاق میں ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد سندھ کے وسائل کو بے دردی سے لوٹ سکیں۔ اور وہ نواز شریف کی مدد سے اس میں کامیاب رہے۔ نتیجہ کے طور پر سندھ اور بلوچستان کی ابتر صورت حال سب کے سامنے ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے نتیجہ میں نواز شریف کو تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کا راستہ کھولا گیا اس سے پہلے وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ صرف دو دفعہ منتخب ہو سکتے تھے۔ یاد رہے اس ترمیم کے بعد سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسم لیگ ن کو اٹھارویں ترمیم پر شدید تحفظات تھے مگر ملکی مفاد میں ہم نے اسے قبول کیا ہے۔ ملکی مفاد کیا تھا؟ نواز شریف اور شہباز شریف کو تیسری مرتبہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بنوانا؟ آج یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ اٹھارویں ترمیم دونوں پارٹیوں کے درمیان مک مکا کی سیاست تھی۔ اس کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت ختم ہوئی اور نواز شریف وزیر اعظم بنا جب کہ پنجاب اور سندھ میں بدستور مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی برسر اقتدار رہی ایک بھائی وزیر اعظم اور دوسرا وزیر اعلیٰ۔ کیا خوبصورت اور شفاف طرز حکومت تھا۔ نواز شریف اور شہباز شریف کے ادوار میں ملکی معیشت کا بیڑا غرق ہو کر رہ گیا۔ ملک قرضوں کی دلدل میں ڈوب چکا ہے۔ نواز شریف اور زرداری اربوں ڈالر کی کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت، تعلیم اور بلدیاتی کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ سب پر عیاں ہے۔ ہمارے صوبوں کو ہیلتھ سسٹم دنیا کا ناقص ترین سسٹم ہے۔ ہسپتالوں کی حالت زار دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ مائیں ہسپتالوں کے فرشوں پر بچے پیدا کررہی ہیں۔ سندھ میں بے شمار لوگوں کو کتوں نے کاٹ لیا مگر اس کی ویکسین موجود نہیں ہے۔ مریض دربدر دھکے کھاتے پھر رہے ہیں۔ دوسری طرف اہم ترین شعبہ تعلیم بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ ہمارے ہاں یکساں نصاب تعلیم ہے۔ جس کی وجہ سے طبقاتی نظام پروان چڑھ چکا ہے۔ گورنمنٹ کے مرتب کردہ سلیبس میں اور پرائیویٹ اداروں کے سلیبس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ تعلیم سے ہی کسی بھی قوم کی حالت بدلی جا سکتی ہے جسے جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہے اس کے پیچھے سوچ کار فرما ہے کہ اگر غریب کا بچہ پڑھ گیا تو نام نہاد جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور لٹیروں کا آئندہ سیاست میں راستہ بند ہو جائے گا۔ قوم کو شعور آجائے گا جو کہ حکمران طبقہ دینا نہیں چاہتا۔
بلدیاتی اداروں کو اٹھارویں ترمیم کے بعد فعال بنانا تھا تاکہ اختیارات اور وسائل یونین کونسل کی سطح تک پہنچیں۔ لوگوں کو نچلی سطح تک اس کا فائدہ پہنچایا جائے مگر دس سال گزر جانے کے باوجود کسی بھی شعبہ میں کام نہیں کیا گیا۔ تینوں اہم اداروں کا برا حال ہے۔ وزرائے اعلیٰ نے نام نہاد بلدیاتی الیکشن تو کرائے مگر اختیارات اور مالی وسائل کی فراہمی میں ان کو خودکفیل نہیں کیا۔ طاقت کا سرچشمہ عوام کی بجائے چیف منسٹر بن گیا جو کہ پیپلزپارٹی کے منشور کے بھی سراسر خلاف ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے نتیجہ میں وسائل کی تقسیم کو اس بے دردی اور غیر منصفانہ طریقے سے پیش کیا گیا کہ وفاق کنگال ہو گیا۔ پاکستان میں ٹیکسوں سے حاصل شدہ کل رقم کا ستاون فیصد حصہ صوبوں کو دے دیا گیا اور بقیہ رقم سے وفاق نے دفاعی اخراجات، قرضوں کی ادائیگی سمیت امور سر انجام دینے ہوتے ہیں۔ اس شرمناک وسائل کی تقسیم سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وفاق پاکستان کو کس طرح کمزور اور بے بس کردیا گیا اور صوبوں کو خودمختاری کے نام پر تقسیم پاکستان کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ صوبہ پنجاب کو شریف فیملی اپنی جاگیر سمجھتی ہے اور صوبہ سندھ کو زرداری فیملی اپنی جاگیر سمجھتی ہے۔ صوبہ بلوچستان کی سیاست مختلف ہے اور خیبرپختونخواہ کی سیاست بھی سندھ اور پنجاب سے مختلف ہے۔ لیکن ان دونوں صوبوں میں میر جعفر اور میر صادق پیدا ہوتے رہتے ہیں جس کی تازہ مثال محسن داوڑ کی شکل میں موجود ہے جو کہ ملک توڑنے کی باتیں برسر عام کرتا ہے اور اس کو پیپلزپارٹی سمیت دوسری پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک بہت عرصے سے چل رہی ہے۔ جس کو ہندوستان کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اور ہمارے اپنے لوگ ہی ان کے ہاتھوں بکے ہوئے ہیں۔ غرض یہ کہ تمام صوبوں میں کوئی ہم آہنگی نہیں ہے ہر کسی کی ڈائریکشن الگ ہے کیوں کہ متنازعہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔ صوبوں کے وسائل بری طرح سے لوٹے جارہے ہیں اور عوام کو استحصال کیا جارہا ہے جو کہ 1973ءکے آئین میں دیئے گئے قول کی حکم عدولی ہے۔
پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور مولانا فضل الرحمان وغیرہ آج کل اٹھارویں ترمیم کے دفاع میں ایک مرتبہ پھر اکھٹے نظر آرہے ہیں۔ اور تاثر دیا جارہا ہے کہ جیسے اٹھارویں ترمیم میں جو خامیاں ہیں ان کو دور کرنے سے ان پارٹیوں کا ذاتی مفاد متاثر ہو گا نہ کہ قومی۔ آئین میں ترمیم دور حاضر کے جدید تقاضوں کے مطابق اشد ضروری ہے۔
دونوں پارٹیوں کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ کچھوے کی چال سے قیادت کرتا ہوا آہنی آڈمی عمران خان، پی ٹی آئی کو اس حد تک فعال کرے گا کہ وہ ان کے اقتدار کو نہ صرف روند ڈالے گا بلکہ دنیا بھر میں ان کی کرپشن کے دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں پارٹیوں نے نہ صرف ڈیلیور نہیں کیا بلکہ کرپشن کے بازار گرم رکھے۔ ہر شعبہ میں میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ ملک کو اپنے اباﺅ اجداد کی وراثت سمجھا، اس سے عوام میں نفرت اور محرومی پیدا ہوئی جس پر عمران خان نے انصاف سب کے لئے، کرپشن اور کرپٹ لوگوں کو پکڑنے کا نعرہ لگا کر برق رفتار گھوڑوں پر بیٹھ کر ایک چھوٹے سے لشکر کو بہت بڑی قوت میں بدل دیا۔ اور ان گھوڑوں کے قدموں نے دونوں پارٹیوں کی قیادت کو روند ڈالا۔ آج دونوں خاندان دنیا بھر میں کرپشن کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ نواز شریف فیملی سزا یافتہ ہے۔ شہباز شریف نیب سے چھپتے پھر رہے ہیں، زرداری اس وقت گمنامی کی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہے جو بڑی متکبرانہ باتیں کیا کرتا تھا۔ یہ مقافات عمل سے گزر رہے ہیں۔ عمران خان کو حکومت چلانے کے لئے بڑے سورماﺅں اور مافیاز کا سامان ہے لیکن اللہ کی نصرت و حمایت اس کے شامل حال ہے وہ ایک دیانتدار اور محنتی آدمی ہے اس کے آنے سے بیرون ملک پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔ دنیا میں پاکستان کا مقام بلند ہو رہا ہے اور اس کی مسلمہ حیثیت کو تسلیم کیا جارہا ہے لہذا اشد ضروری ہے اٹھارویں ترمیم میں ضروری تبدیلیاں کرکے وفاق کو مضبوط بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں