44

کراچی ایئرپورٹ کے قریب پی آئی اے کا طیارہ رہائشی علاقے میں گر کر تباہ

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا لاہور سے کراچی آنے والا مسافر طیارہ اے320 ایئربس جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کے قریب رہائشی علاقے ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہوگیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ ماڈل کالونی کے علاقے جناح گارڈن میں پیش آیا، جہاں طیارہ رہائشی مکانات پر جاگرا جس میں متعدد افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
پی آئی اے کے ترجمان عبد الستار نے واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ پی آئی اے کی پرواز 8303 لاہور سے 90 مسافروں اور 8 عملے کے لوگوں کو لے کر کراچی آرہی تھی۔ طیارے میں نجی ٹی وی چینل 24 نیوز کے ڈائریکٹر پروگرامنگ انصار نقوی بھی موجود تھے، اس کے علاوہ بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود بھی طیارے میں موجود تھے۔

ترجمان نے بتایا کہ طیارے کا رابطہ 2 بجکر 37 منٹ پر منقطع ہوا تھا، حادثے کی وجوہات کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، ہمارا عملہ ہنگامی لینڈنگ کے لیے تربیت یافتہ ہے۔
ترجمان نے کہا کہ میری دعائیں تمام متاثرہ اہلخانہ کے ساتھ ہیں، ہم شفاف طریقے سے معلومات فراہم کرتے رہیں گے۔ واقعے کے بعد پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر مارشل ارشد ملک نے فوری طور پر کراچی روانہ ہوتے وقت ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ پائلٹ نے کنٹرول روم کو بتایا کہ طیارے میں کوئی تکنیکی مسئلہ ہے اور اس نے لینڈنگ کے لیے 2 رن وے تیار ہونے کے باوجود لینڈنگ کے بجائے واپس گھومنے کا فیصلہ کیا۔
اس واقعے کے فوری بعد سامنے آنے والی فوٹیجز میں حادثے کے مقام سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا جبکہ جائے وقوع پر موجود عینی شاہدین نے ڈان نیوز کو بتایا کہ طیارے میں تباہ ہونے سے پہلے آگ لگ گئی تھی۔ اس تمام معاملے پر گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے کہا کہ طیارہ آبادی میں گرا اور ہمیں حادثے کے نتیجے میں علاقے میں ہلاکتوں پر تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز اور ریسکیو سروسز کو متاثرہ علاقے بھیج دیا گیا ہے ہم زیادہ سے زیادہ افراد کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
امدادی کارروائیاں
واقعے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے، ریسکیو حکام اور مقامی لوگ جائے وقوع پر پہنچ گئے ہیں۔ ادھر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کوئک ری ایکشن فورس اور پاکستان رینجرز سندھ امدادی کارروائیوں کے لیے موقع پر پہنچ گئے ہیں اور انہیں سول انتظامیہ کے ساتھ مدد کر رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ طیارہ حادثے پر نقصانات کی تشخیص اور ریسکیو اقدامات کے لیے پاک فوج کے آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز روانہ کردیے گئے ہیں۔


بیان میں کہا گیا کہ اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کو ریسکیو اقدامات کے لیے جائے وقوع روانہ کیا گیا ہے۔ طیارہ حادثے کی اطلاع ملتے ہے وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے شہر کی تمام فائر بریگیڈ گاڑیوں کو فوری طور پر ماڈل کالونی حادثہ کے مقام پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کا حکم دے دیا۔ ادھر ترجمان پاک بحریہ کی جانب سے بتایا گیا کہ کراچی میں طیارہ گرنے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لئے پاک بحریہ بھی معاونت کر رہی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ پاک بحریہ کے 4فائر ٹینڈرز جائے وقوع کی طرف روانہ کردیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی ہدایات پر تمام ایمرجنسی سروسز اور وسائل کا استعمال برائے کار لایا جارہا ہے۔ دوسری جانب سندھ کی وزارت صحت کی میڈیا کو ا?رڈینیٹر میران یوسف کے مطابق وزارت صحت نے کراچی کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔


ادھر جناح ہسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2 خواتین اور 4 مردوں کو زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ متعدد زخمیوں کو یہاں لایا جائے گا، ہم کورونا وائرس کے باعث احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور اس حوالے سے جو کچھ ہوسکتا ہے ہم کررہے ہیں۔
واقعے پر اظہار افسوس
کراچی میں طیارہ گرنے پر وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجودہ، اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سمیت مختلف شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ پی آئی اے کا طیارے گرنے پر دل نہایت رنجیدہ اورمغموم ہے۔ انہوں نے لکھا کہ وہ سی ای او ارشد ملک اور موقع پر موجود امدادی ٹیموں کےساتھ رابطے میں ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس سانحے کی فوری تحقیقات کروائی جائیں گی، میری دعائیں اور تمام تر ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پی آئی اے طیارہ حادثے کے المناک واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے غم می شریک ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں سول انتظامیہ کی مکمل مدد کرنے کی ہدایت بھی کردی۔


ادھر کراچی میں طیارہ حادثے کے فوری بعد وزیر ہوا بازی غلام سرور نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ٹیم شہر قائد جاکر اس کی تحقیقات کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ عید منانے کے لیے اپنے گھروں کو جارہے تھے کہ افسوس ناک حادثہ پیش آیا۔ ساتھ ہی وفاقی وزیر برائے ہوا بازی نے ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بورڈ کو طیارہ تباہ ہونے کی فوری انکوائری کرنے کا حکم دے دیا۔


علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے پی آئی اے طیارے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی غمزدہ کر دینے والا حادثہ ہے، ہم متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اس وقت ہماری بنیادی توجہ امدادی کارروائیوں پر مرکوز ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ سال پی آئی کا طیارہ گلگت ایئرپورٹ کے رن وے سے پھسل گیا تھا تاہم کوئی بڑا حادثہ رونما نہیں ہوا تھا۔ مذکورہ حادثے میں مسافر محفوظ رہے تھے تاہم طیارے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔


اس سے قبل 7 دسمبر 2016 کو پی آئی اے کی پرواز پی کے 661 چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حویلیاں کے نزدیک حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں 42 مسافروں، عملے کے پانچ ارکان اور ایک گراو¿نڈ انجینئر سمیت تمام 48 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جن میں پاکستان کی نامور شخصیت جنید جمشید بھی شامل تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں