21

کاربن نینوٹیوب کمپیوٹر چپس: صنعتی پیداوار کی طرف اہم پیش رفت

بوسٹن: میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سائنسدانوں نے کاربن نینوٹیوب ٹرانسسٹرز کی صنعتی پیمانے پر تیاری میں ایک اہم پیش رفت کی ہے، جس سے امید کی جارہی ہے کہ موجودہ عشرے کے اختتام تک کاربن نینوٹیوبز کی بدولت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایک نیا انقلاب برپا ہوجائے گا۔
مستقبل میں کاربن نینوٹیوبز سے بنی کمپیوٹر چپس اور مائیکروپروسیسرز سے انقلابی ترقی کی امید ہے کیونکہ یہ عام سلیکان چپس اور مائیکروپروسیسرز کے مقابلے میں نہ صرف کم بجلی استعمال کرتی ہیں بلکہ زیادہ تیز رفتار بھی ہوتی ہیں لیکن اب تک ان کی صنعتی پیمانے پر تیاری ممکن نہیں تھی، بلکہ انہیں بہت چھوٹے پیمانے پر صرف تجربہ گاہوں میں استعمال کی غرض ہی سے تیار کیا جاسکتا تھا۔
یہ مسئلہ حل کرنے کےلئے ایم آئی ٹی میں کمپیوٹر سائنس اور الیکٹریکل انجینئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر، میکس شولیکر نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کچھ نئی تکنیکیں ایجاد کیں جن کی مدد سے انہوں نے روایتی سلیکان چپس بنانے والی ایک فیکٹری میں کاربن نینوٹیوب چپس کی تیز رفتار اور بڑے پیمانے پر تیاری میں کامیابی حاصل کی۔
ریسرچ جرنل ”نیچر الیکٹرونکس“ کے تازہ شمارے میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق، اب تک کاربن نینوٹیوب ٹرانسسٹرز کی تیاری میں جو طریقے استعمال ہورہے ہیں، یہ نئی تکنیک ان کے مقابلے میں 1100 گنا زیادہ تیز رفتار ہے جبکہ اس سے قدرے بڑی جسامت والے کاربن نینوٹیوب چپس والے ”ویفرز“ بھی تیار کئے جاسکتے ہیں۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ زیادہ تیز رفتار، زیادہ طاقتور اور کم بجلی استعمال کرنے والے ”تھری ڈی مائیکروپروسیسرز“ مستقبل میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نئے انقلاب کی امید سمجھے جارہے ہیں، کیونکہ ان کی بدولت کمپیوٹروں اور اسمارٹ فونز سے لے کر وہ تمام چیزیں غیرمعمولی طور پر بہتر ہوجائیں گی جن میں مائیکروچپس/ مائیکروپروسیسرز استعمال ہوتے ہیں۔ مگر تھری ڈی مائیکروپروسیسرز کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کا دار و مدار کاربن نینوٹیوب ٹرانسسٹرز کی صنعتی پیمانے پر تیز رفتار تیارے سے براہِ راست وابستہ ہے۔
میکس شولیکر کے مطابق، کاربن نینوٹیوب چپس بنانے کی یہ رفتار اگرچہ تجربہ گاہ کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتار ہے لیکن اب بھی یہ صنعتی پیداوار کے تقاضوں سے بہت کم ہے جسے مزید بڑھانے اور بہتر بنانے پر کام ہوگا تاکہ کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ذمہ داریوں سے سلیکان کو جلد از جلد سبکدوش کرتے ہوئے یہ کام کاربن کو سونپا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں