45

پردیس بہت قربانیاں مانگتا ہے

کب بھلائے جاتے ہیں دوست جدا ہو کر بھی وصی
دِل ٹوٹ تو جاتا ہے رہتا پھر بھی سینے میں ہے
آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر وائی۔مین کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق کسی بھی قریبی دوست کے انتقال پر آپ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ ڈاکٹر وائی نے یہ ریسرچ بہت سارے لوگوں پر کی اور ان کے مطابق پچھلے ادوار میں کسی بھی قریبی دوست کی وفات پر بارہ مہینہ تک آپ کی نفسیاتی، سماجی اور جسمانی زندگی پر اثرات رہتے تھے مگر بدلتے ہوئے زمانہ کے ساتھ اب یہی اثرات چار سال تک رہتے ہیں۔ پروفیسر وائی کی اس ریسرچ پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات شاید مغربی معاشروں میں دُرست ثابت ہوتی ہو مگر ہمارے مشرقی کلچر اور روایات میں خواہ کوئی قریبی دوست ہو، ماں باپ ہوں، میاں بیوی ہوں، بہن بھائی ہوں بچے ہوں یا پھر قریبی عزیز و اقارب ہوں، تمام عمر ان کی یادیں آپ کے ساتھ چلتی ہیں۔ یہ یادیں آپ کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں، آپ چاہ کر بھی ان کو بھلا نہیں پاتے۔ ان کی یادیں آپ کے جسمانی اعضاءکی طرح ہوتی ہیں جن کے بغیر جسم مکمل نہیں ہوتا۔ آپ کی شخصیت کا اٹوٹ انگ ہوتی ہیں لہذا پروفیسر وائی کی یہ ریسرچ ہمارے معاشرے پر صادق نہیں آتی۔ ویسے تو میری نصف صدی پر محیط شعوری زندگی میں بے شمار پیارے بچھڑ گئے، ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل گئے، ہم سوائے صبر اور شکر کے کچھ بھی نہ کر پائے۔ دستور دنیا ہے کہ کسی کے چلے جانے سے نظام حیات رکتا نہیں ہے، کیوں کہ یہ قدرت نے ڈیزائن کیا ہوا ہے، کچھ ہی دنوں میں انسان کی زندگی معمول پر آنا شروع ہو جاتی ہے مگر ان کی یادیں ہمیشہ ستاتی ہیں اور وقتاً فوقتاً دستک دیتی رہتی ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں جب سے ہم کینیڈا منتقل ہوئے ہیں، کئی ایک عزیز و اقارب اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ بہن، بھائی جو نوجوان تھے اب ان کے چہرے اور خدوخال بدلے بدلے سے لگ رہے ہیں۔ بچے جو چھوٹے تھے اب بڑے بڑے دکھائی دے رہے ہیں جو اسکولوں میں زیر تعلیم تھے وہ آج کالجوں میں چلے گئے ہیں اور جو کالجوں میں تھے وہ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں اور کچھ شادی کی عمروں کو پہنچ گئے ہیں۔ ان تین سالوں میں پاکستان سے بے شمار خوشی اور غمی کی خبریں آئیں۔ آج میں یہاں دوستوں کے بچھچڑ جانے کا خصوصی طور پر تذکرہ کروں گا۔ پچھلے چند سالوں میں ویسے تو کئی قریبی دوست اپنی آخری منزل کی طرف روانہ ہو گئے جن میں حاجی ارشد (مرحوم) میاں اشتیاق (مرحوم) چوہدری انور (مرحوم) وغیرہ سب کا ذکر کرنا ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے، آمین۔
پچھلے چند سالوں میں دو بہت قریبی دوستوں کا ساتھ رہا جن کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات سرمایہ حیات ہیں۔ ان میں رانا محمد نسیم اور محمد الیاس خان قابل ذکر ہیں۔ رانا محمد نسیم کا انتقال کچھ سال پہلے زمبابوے میں ہوا۔ وہ ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک انسان تھے۔ بہترین دوست اور مشیر تھے۔ سماجی اور فلاحی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے۔ کسی بھی مستحق کی دل کھول کر بلامفاد مدد کرتے۔ سیلف میڈ آدمی تھے۔ چھوٹے سے کاروبار سے آغاز کیا اور کچھ ہی سالوں میں ان کا کاروبار بہت وسیع ہو چکا تھا۔ اپنے کام کاج میں ہمہ وقت مصروف رہتے۔ محنتی انتہا کے تھے۔ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کا ان کو بہت شوق تھا۔ کاروباری معاملات سے لے کر گھر میں بہترین کھانے پکانے کا ان کو جنون تھا۔ ہم نے کئی سفر اکٹھے کئے، وہ سفر کے بہترین ساتھی تھے۔ دل کے کھلے آدمی تھے، کبھی کسی معاملہ میں کنجوسی نہیں کی، ہمیشہ دوسروں سے بڑھ کر خرچ کیا۔ بہن بھائیوں اور دوست احباب کی بھرپور مدد کرتے۔ مستحقین کا خاص خیال رکھتے۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ بڑے بیٹے افروز نے باپ کا کاروبار سنبھال رکھا ہے۔ بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ مسز رانا بھی ڈاکٹر ہیں اور بھرپور شخصیت کی مالک ہیں۔ انہوں نے خاوند کے انتقال کے بعد بچوں کو خوب سنبھالا ہوا ہے۔ رانا نسیم کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلاءکبھی پر نہیں ہو سکے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کو غریک رحمت کرے، آمین اور پسماندگان کو صبر جمیل دے اور ان کے چھوڑے ہوئے ادھورے کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق دے اور رانا نسیم کے دوستی، بھائی چارے اور دوسروں کی مدد کے مشن کو آگے بڑھائیں۔ اولاد کو صدقہ جاریہ کہا گیا ہے لہذا اس فرض کو ادا کرنا ان کے بچوں کے ذمہ ہے۔ آج 12 جون بروز جمعة المبارک میرے دوسرے قریبی رفیق محمد الیاس خان کا صرف چھیاسٹھ برس کی عمر میں کرونا وائرس سے انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم نے پسماندگان میں بیوہ اور تین بیٹے چھوڑے ہیں۔ دو بیٹے احمد اور فاروق شادی شدہ ہیں جب کہ اویس ابھی زیر تعلیم ہے۔ پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا ہے۔ الیاس خان (مرحوم) سے میرا تعارف رانا محمد نسیم نے کروایا، یہ دونوں بچپن کے دوست اور کلاس فیلو تھے اور رشتہ دار بھی تھے۔ دونوں احباب ستر کے عشرہ میں ماسٹرز ڈگری حاصل کر چکے تھے۔ مرحوم الیاس نے کھاد بنانے والی ایک کمپنی میں نوکری کرلی اور بیس سال تک اس سے منسلک رہے۔ اس دوران انہوں نے رانا نسیم کی دعوت پر زمبابوے کا دورہ بھی کیا اور یہاں کاروبار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ آفس سے چھٹی لے کر وہ زمبابوے شفٹ ہو گئے، ان کی فیملی ساتھ ہی تھی۔ وہاں انہوں نے ٹرانسپورٹ کا کاروبار شروع کیا جو کہ کامیاب نہ ہو سکا اس کے علاوہ والدین کو بھی بہت مس کرتے تھے۔ بہت حساس شخصیت کے مالک تھے، والدین کا ذکر کرتے کرتے آبدیدہ ہو جاتے۔ ان کا تعلق نسبتاً خوشحال فیملی سے تھا لہذا ان کو واپس پاکستانے جانے کا فیصلہ کرنے میں دیر نہ لگی۔ جلد ہی پاکستان لوٹ گئے۔ کاروبار میں نقصان بھی ہوا مگر برداشت کر گئے۔ یہیں سے میرا ان کے ساتھ تعلق شروع ہوا۔ جب وہ مستقل بنیادوں پر پاکستان واپس چلے گئے تو انہوں نے نوکری دوبارہ جوائن کرلی اور پھر کچھ ہی ماہ بعد گولڈن ہینڈ شیک کرکے نوکری کو خیرآباد کہہ دیا۔ فراغ سے بچنے کے لئے انہوں نے ہنڈا موٹر سائیکل کی مریدکے میں ایجنسی لے لی۔ اس طرح وہ موٹر سائیکلوں کے کاروبار سے منسلک ہو گئے۔ میں جب کبھی زمبابوے سے پاکستان آتا تو ان سے ملاقات ہو جاتی، ہم لوگ مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے۔ یہ چند ملاقاتیں سرسری نوعیت کی تھیں۔ 2013ءکے ستمبر میں ایک دوست عبدالمنان کے ساتھ مل کر رائس مل لگانے کے لئے ساﺅتھ افریقہ سے پاکستان آیا تو اس وقت ہم لوگ واپڈہ ٹاﺅن شفٹ ہو چکے تھے اور محمد الیاس بھی ہماری پچھلی اسٹریٹ میں رہائش پذیر تھے۔ اس طرح اب ہم ہمسائے بھی بن چکے تھے۔ چار ماہ تک رائس مل کی تلاش اور فائنل معاملات تک وہ میرے ساتھ ہی رہے۔ جنوری 2014ءمیں مل کے شروع ہونے سے لے کر اگست 2016ءتک ہم لوگ اکھٹے ہی مریدکے جاتے تھے، مل بھی چونکہ مریدکے میں تھی اور ان کا شوروم بھی مریدکے میں تھا اس لئے ہمارا یہ وقت بہت اچھا گزرا۔ میں صبح ان کو گھر سے پک کرتا اور شوروم پر اتار کر فیکٹری چلا جاتا اور شام کو ان کے شوروم سے واپسی ہوتی۔ اس طرح دو گھنٹوں پر مشتمل آنے جانے کا یہ سفر پلک جھپکتے ہی گزر جاتا۔ ان کی گفتگو بڑی مدبرانہ اور پر مغز ہوتی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ تو تھے ہی مگر اس کے ساتھ پانچ وقت کے نمازی، تہجد گزار، ذکر اذکار کرنے والے متقی شخص تھے۔ کئی بار شوروم پر ان کی امامت میں نماز ادا کی۔ ان کے ملازمین حاجی صاحب کہہ کر پکارتے تھے، مریدکے میں بھی ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اپریل 2017ءمیں جب میں فیملی کے ساتھ کینیڈا شفٹ ہو گیا تو وہ اکثر رنجیدگی کا اظہار کرتے کہ اب مریدکے جانے کا دل نہیں چاہتا۔ اکیلے سفر کرنے کو دل نہیں مانتا، وہ کئی کئی ہفتہ شو روم نہ جاتے، اپنے موبائل پر ہی کیمرے کی مدد سے تمام حالات دیکھتے رہتے۔ یہاں آکر بھی میرا ان کے ساتھ مسلسل رابطہ رہا، کبھی وہ فون کرتے اور کبھی میں۔ چند ماہ سے ان کو یڑھ کی ہڈی میں درد کی شکایت تھی جو کہ ٹیسٹوں کے بعد پتہ چلا کہ ان کو بون میرو کا کینسر ہے۔ جس کا شاید انہیں علم نہیں تھا، کیوں کہ جب بھی میری بات ہوتی وہ باقی بیماری کا تو تذکرہ کرتے مگر کینسر کا ذکر انہوں نے کبھی نہیں کیا، وہ کئی مہینوں سے بیڈ پر تھے مگر ہشاش بشاش تھے، وہ ذیابیطس کے پرانے مریض تھے۔ لیکن انہوں نے خوراک میں کبھی اس کی خاص پرہیز نہیں کیا۔ ادویات باقاعدگی سے لیتے تھے۔ عیدالفطر کے اگلے دن میری ان سے بات ہوئی تو وہ ٹی وی لاﺅنچ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور بالکل ٹھیک ٹھاک تھے اس کے بعد ایک ہفتہ بات چیت نہ ہوئی تو تشویش ہونے پر ان کے بیٹے فاروق سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ پاپا تو گنگا رام ہسپتال میں ہیں اور وینٹی لیٹر پر ہیں انہیں کرونا ہو گیا ہے۔ بڑی تشویشناک حالت میں ہیں۔ یہ خبر سن کر بڑا جھٹکا لگا، ہم لوگ ان کی صحت یابی کی دعا کرتے رہے مگر ان کا رزق اس دنیا سے ختم ہو چکا تھا اور وہ 12 جون کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ الیاس (مرحوم) اور رانا نسیم (مرحوم) کا بچھڑنا بہت بڑا خلاءہے شاید یہ کبھی پر نہ ہو سکے۔ دونوں کے جنازہ میں شرکت نہ کر سکا جس کا مجھے ملال رہے گا۔ پردیس میں رہنے سے یہ قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں