Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 58

ذمہ داری

بظاہر تو ایسا نظر آتا ہے کہ اس دنیا میں تمام جاندار اپنی اپنی زندگی اپنے اصول کے مطابق گزاررہے ہیں۔لیکن کچھ جاندار ایسے بھی ہیں جو صرف زندگی گزارہے ہیں اور اصول و ضوابط سے بہت دور ہیں۔ جانداروں میں ہر وہ چیز شامل ہے جس میں نظام تنفّس موجود ہے۔یعنی ہر سانس لینے والی شے جاندار کہلاتی ہے اس میں پھول درخت پودے جانور سب شامل ہیں۔کچھ جاندار ایسے ہیں جن کی ذمّہ داریاں بہت محدود ہیں۔ ایک صرف حضرت انسان ہیں جن کو زندگی گزارنے کے لئے بے شمار اصول اور ذمّہ داریوں کا سامنا ہے۔لیکن اس کے عوض قدرت نے ان کو کئی ایسی مراعات سے نوزا ہے جس سے دوسرے جاندار محروم ہیں۔ ہمیں قران شریف کیوں دیا گیا اس لئے کہ اس میں اپنی زندگی گزارنے اور دوسروں کو امن سے رہنے کے اصول دئیے گئے ہیں ایک
مکمل ،پر امن معاشرے کی تشکیل کے لئے انسانیت کا درس دیا گیا ہے۔نا تو مذہب اور نا ہی کوئی معاشرہ یہ کہتا ہے کہ تمھاری ذمّہ داری صرف تمھاری اپنی ذات تک یا تمھارے خاندان تک محدود ہے۔اگر ایسا ہوتا تو اشرف المخلوقات نا کہلاتے بلکہ جانوروں کے ہی کسی گروپ سے تعلّق ہوتا کیوں کہ جانور ہی ہے جو صرف اپنا یا اپنے خاندان کا ذمّہ دار ہوتا ہے۔اور ہمیں معاشرے کی ذمّہ داری اور بھائی چارے کا سبق اس لئے دیا گیا کہ ان ہی دو باتوں سے ہماری اپنی بقائ ہے۔ہم جب اپنے معاشرے کی یا کسی بھی فرد کی کوئی مدد کرتے ہیں تو دراصل ہم کسی اور کی نہیں خود اپنی مدد کررہے ہوتے ہیں اپنی بقائ کے لئے ہمیں یہ کرنے کی ضرورت ہے ۔سیلاب کے بہتے ہوئے پانی میں سو آدمی ایک دوسرے سے تھوڑے فاصلے پر بہتے چلے جارہے ہیں۔وہ یہ تو سوچ رہے ہیں کہ شائید کوئی ذریعہ نکل آئے اور وہ بچائے جاسکیں لیکن اپنے بچاو¿ کے لئے خود کوئی ذریعہ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کررہے ہیں۔مثلا” ان میں سے کوئی یہ بھی سوچ رہا ہے کہ اگر وہ کوشش کرکے تھوڑے فاصلے پر بہتے ہوئے کسی آدمی کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرے تو اس طرح دوسروں کا بھی ہاتھ پکڑا جاسکتا ہے اور تمام لوگ جب ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ سکیں گے تو بچ سکتے ہیں وہ سوچ تو رہا ہے لیکن ایسا کرنے کی ہمّت نہیں ہورہی ہے مایوسی اسے روک رہی ہے۔اس نے پہلے ہی فرض کرلیا ہے کہ دوسرے لوگ ساتھ نہیں دیں گے اور وہ اکیلا یہ سب نہیں کرسکتا۔یہاں تک کے قریب سے کوئی لکڑی یا کوئی شے گزررہی ہے تو اسے بھی پکڑنے کی کوشش نہیں کررہا ہے ڈوبتے کو تنکے کا سہارہ کو بھی نہیں مان رہا ہے۔۔ کیوں کے اسے نا تو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہے اور نہ ہی کسی اور پر بھروسہ ہے۔کنارے پر جو لوگ کھڑے ہیں وہ افسوس کا اظہار تو کررہے ہیں لیکن ہر شخص اپنی جگہ یہ سوچ رہا ہے کہ میرے اکیلے سوچنے سے کیا ہوگا۔اگر ان کو بچانے کی کوشش کروں تو خود نا ڈوب جاوں۔اگر کنارے پر کھڑا کوئی با ہمّت شخص یہ جانتا ہے کہ دوسرے ساتھ دیں تو ان ڈوبنے والوں کو بچایا جاسکتا ہے۔اور اگر وہ چلّا چلّا کر یہ کہہ رہا ہے کہ تم لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرو یا وہ شخص اپنے برابر کھڑے آدمی سے کہہ رہا ہے کہ اگر ہم کوشش کریں تو ان کو بچاسکتے ہیں۔ تو پاس کھڑے دو تین آدمی اس کا مذاق اڑارہے ہیں اس کی حوصلہ افزائی اور ساتھ دینے کے بجائے اس کی حوصلہ شکنی کررہے ہیں۔ پاکستان کے بیس کروڑ عوام میں سے بارہ کروڑ نا انصافی ،ظلم ،حق تلفی، غربت و افلاس کا شکار ہیں ۔جاگیر داروں، وڈیروں ،سرمایہ داروں اور مفاد پرست سیاست دانوں کے پنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں لیکن سب اس دھارے میں بہہ رہے ہیں اپنے آپ کو اس دھارے میں بہنے کا عادی بناچکے ہیں ڈوبنے کا خوف تو ہے لیکن اپنے آپ کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں ہے۔بارہ کروڑ بہت بڑی طاقت تو ہیں لیکن ایک مقام پر نہیں ہیں ایک سوچ نہیں ہے اتّحاد نہیں ہے۔ہر شخص یہ سوچ رہا ہے کہ میں اکیلا ہوں اور ایک میرے اکیلے کی آواز سے کیا ہوگا۔ اور اگر ایک شخص جو ان میں سے ہو یا باہر کا ہو اگر ان کے لئے آواز اٹھانے کی کوشش بھی کرتا ہے تو اس کی حوصلہ شکنی شروع ہوجاتی ہے مذاق اڑاتے ہیں ہنستے ہیں کہ ایک تمھارے شور مچانے یا کہنے سے کیا ہوگا ۔بجائے اس کے کہ اس کی تائید کی جائے اس کی آواز کو آگے بڑھایا جائے اسے مشکوک بنادیا جاتا ہے لوگ سوچتے ہیں ضرور اس کا کوئی مفاد ہے۔ساتھ دینے کو کوئی تیّار نہیں ہوتا ہر شخص یہ کہہ کر بری الذمّہ ہوجاتا ہے کہ یہ ہمارا نہیں ریاست کا کام ہے۔ ریاست کی ذمّہ داری ہے کہ عوام کے مسائل حل کرے اس سلسلے میں اسلامی دور اور دور خلافت کی مثالیں بھی دی جاتی ہیں بالکل صحیح ہے ریاست کی بہت سی ذمّہ داریاں ہیں لیکن اپنے مذہب ہی کی رو سے بہت سی ذمّہ داریاں پڑوسی کی حیثیت سے انسانیت کی خاطر رشتے داری کے ناطے سے عوام کی ہیں ہر فرد واحد کی ہیں۔انفرادی مسائل ایک دوسرے کی مدد سے ہی حل ہوتے ہیں اجتماعی مسائل کے حل کی ذمّہ داری ریاست پر ہے یا کوئی انفرادی مسئلہ جس کا براہ راست ریاست سے تعلّق ہے تو اسے حل کرنا ریاست کی ذمّہ داری ہے۔یوں سمجھ لیں کہ اگر پورے علاقے کو پانی میسّر نہیں ہے تو ریاست پانی مہیّا کرے گی لیکن اگر آپ کے پڑوسی کی پائپ لائن میں کوئی مسئلہ ہوگیا ہے اور اسے فوری طور پر دو بالٹی پانی کی ضرورت ہے تو یہ آپ کا فرض ہے کہ پڑوسی کو پانی پہونچائیں نا یہ کہ آپ اس سے کہیں کہ بھائی یہ تو حکومت کی ذمّہ داری ہے وہی آپ کو پانی پہونچائیں گے۔لوگ کہتے ہیں ایک تمھارے کہنے سے نظام نہیں بدلتا اور میں کہتا ہوں بالکل بدلتا ہے۔آج امریکہ میں ہونے والے مظاہرے اس کا ثبوت ہیں جن کا دائرہ دوسرے ممالک تک پھیل چکا ہے۔یہ ظلم و نا انصافی کی کہانی بہت پرانی ہے ہر جگہ ہر شہر سے کسی ایک ایک آدمی نے آواز اٹھائی اپنے قریب کے لوگوں دوستوں کو مدد کرنے پر آمادہ کیا مزید لوگوں کو حالات بتاکر ہم خیال بنایا۔اور میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر ،لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔۔ جگہ جگہ اس طرح کے گروپوں نے انسانی ہمدردی کی آرگنائزیشن کی بنیاد ڈالی اور آج ہونے وانے مظاہرے ان ہی گروپوں کے انتظامات سے ہورہے ہیں جو کسی ایک آدمی کی کوشش کا نتیجہ ہیں ۔ہمارے ملک میں ہر صوبے کے اپنے مسائل ہیں۔اگر انفرادی طور پر ہر شخص اپنی ذمّہ داری محسوس کرے لوگوں کو اپنا ہم خیال بنائے اور مسائل کے حل کے لئے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائے تو سب کچھ ممکن ہے۔کچھ عرصے پہلے مجھے کچھ فیس بک فرینڈز کے ذریعے سوئی بلوچستان کے مسائل کے بارے میں آگاہی ہوئی تھوڑا بہت تو معلوم تھا میں نے اس پر کالم بھی لکھا۔بے شمار لوگ سوئی کے حالات سے ناواقف ہیں۔کیونکہ ہمارے میڈیا یا ہمارے لکھنے والوں نے کبھی اس پر ذیادہ توجّہ نہیں دی۔ عالم یہ ہے کہ آپ جس علاقے کے لئے جن زبان والوں کی حمایت میں کچھ بولیں گے تو فرض کرلیا جائے گا کہ آپ کا تعلّق اسی علاقے اور اسی زبان سے ہے۔مجھ سے کئی قریبی لوگوں نے کہا کیا آپ کا تعلّق بلوچستان سے ہے ہمیں نہیں معلوم تھا آپ بلوچ ہیں اور انہوں نے پورے یقین اور اعتماد سے کہا یعنی اس بات میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں رکھی۔بے رخی بے حسی کی اس سے بڑی اور کیا مثال ہوگی سوئی جس سے ملک کی کافی صنعتیں فائدہ اٹھارہی ہیں۔عام لوگوں کی زندگی میں سکون آیا لکڑیوں کے دھویں سے نجات ملی۔کچن خوبصورت بنائے گئے ورنہ لکڑیوں کے ڈھیر ہوتے تھے۔ گیس سے چلنے والے گرم پانی کے گیزر اور ان کی وجہ سے بے شمار لوگوں کو روزگار بھی ملا۔ان سب آسائشوں سے فائدہ اٹھاتے وقت ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ جن علاقوں سے یہ گیس آتی ہے وہاں کے باشندے جو صدیوں سے وہاں آباد ہیں ان کے کیا حال ہیں۔اس گیس پر ان کا بھی کچھ حق ہے لیکن ظلم کی انتہا ہے کہ سوئی کے باشندے نا صرف اس گیس سے محروم ہیں بلکہ وہاں پینے کے پانی تک کی قلّت ہے۔وہاں کے رہائشی آج بھی لکڑیوں پر کھانا پکاتے ہیں اور سردیوں میں تپش کے لئے لکڑیاں ہی جلاتے ہیں۔مجھ سے کہا گیا کہ سوئی کو ہی کیوں لے کر بیٹھ گئے اور صوبوں میں بھی مسائل ہیں۔لیکن ایک وقت میں ایک ہی چیز پر بات کی جاسکتی ہے یہ دنیا کا اصول ہے۔اور اس وقت میرے نزدیک سوئی کا مسئلہ سب سے بڑا ہے۔ ملک کی معیشت، صنعت اور لوگوں کی آسائشوں سے سوئی کا براہ راست تعلّق ہے۔ لہذا ارباب اقتدار اور اختیار کو بلوچستان کے نمائندوں کو لیڈران بلوچستان کو ان غریبوں کے مسائل فورا” حل کرنا چاہئے ہیں۔ظلم کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے اب ان کو انکا جائز حق دے دیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں