90

میرے ابو میرے ہیرو

رَبِّ ارحَمھُمَا کَمَا رَبَّیَانیِ صَغِیرًا
”اے میرے رب! ان دونوں (میرے ماں باپ) پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی۔ (بنی اسرائیل 24)
ہر سال پوری دنیا میں 21 جون کو فادرز ڈے منایا جاتا ہے جن کے باپ حیات ہیں وہ ان کی لمبی اور تندرست زندگی کی دعا مانگتے ہیں اور ان سے ڈھیروں پیار لیتے ہیں، ایسے لوگ خوش قسمت ہیں۔ اور جن کے والد رحلت فرما گئے ہیں وہ ان کی قبروں پر حاضری دے کر رب کریم سے ان کی مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ جن کے والد حیات ہیں اللہ ان کو عمر خضر عطا کرے اور جن کے والد دنیا میں نہیں ہیں انہیں آخرت میں اعلیٰ مقام دے۔ (آمین)
میرے ابو محمد انور بٹ اکتوبر 1932ءکو پشاور میں پیدا ہوئے۔ جہاں میرے دادا کاروبار کے سلسلہ میں قیام پذیر تھے۔ بنیادی طور پر ان کا آبائی شہر سیالکوٹ تھا اور سیالکوٹ میں بھی ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی ہمسائیگی میں رہتے تھے۔ جونہی وہ سن شعور کو پہنچے تو تحریک پاکستان اپنے عروج پر تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانان ہند نے علیحدہ وطن کے قیام کے لئے اور انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لئے بڑی تیزی سے سفر کا آغاز کر دیا تھا۔ ابو بتایا کرتے تھے کہ قائد اعظم انگریزی میں تقریر کیا کرتے تھے اور ان کے سامنے بیٹا ہزاروں لاکھوں کا اجتماع ناخواندہ ہونے کے باوجود بھرپور طریقے سے تالیاں بجاتا اور قائد اعظم زندہ باد کے نعروں کی صدائیں بلند ہوئیں۔ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا للہ کے فلک شگاف نعرے بلند ہوتے۔ والد محترم نے سن بلوغت میں تحریک پاکستان کے کارکن کے طور پر کام کیا اور سیالکوٹ میں ہونے والے مسلم لیگ کے جلسوں میں والد کے ہمراہ شرکت کرتے۔
مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا تعلق سیالکوٹ سے ہونے کی وجہ سے بھی شہر اقبال کو تحریک پاکستان میں کلیدی حیثیت حاصل تھی۔ علامہ تو قیام پاکستان سے بہت پہلے ہی داغ مفارقت دے گئے مگر ان کی دی ہوئی فکر اور تصور پاکستان چنگاری سے دھکتا ہوا شعلہ بن چکا تھا۔ شہر اقبال کے بچے، نوجوان، عورتیں اور بزرگ جذبہ ایمانی سے سرشار تحریک پاکستان کے ہر اول دستہ میں شامل تھے۔
ابو بتاتے ہیں کہ 14 اگست 1947ءکو جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو ہر طرف خوشی کا سماں تھا۔ مسلمانان ہند نے قائد اعظم او ران کے جانثار ساتھیوں کی شبانہ روز محنت سے دو قومی نظریہ کو بنیاد بنا کر اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھ دی۔ قائد اعظم مسلمانان ہند کے نجات دھندہ تھے اور قیامت تک امر ہو گئے۔ بانی پاکستان ہونے کا عظیم الشان سہرا ان کے سر ہے۔ قیام پاکستان کے بعد لوگوں نے ہجرت شروع کی تو وہ واقعات بھی بڑے دلخراش تھے۔ ہزاروں لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں۔ برصغیر میں ہونے والی یہ ہجرت دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تصور کی جاتی ہے۔
وہ بتاتے تھے کہ یہاں سے ہجرت کرکے جانے والے ہندوﺅں کی فیملیز نے بہت ساری قیمتی چیزیں اپنے دوستوں اور ہمسایوں کے سپرد کیں کہ ہم لوگ کچھ ماہ بعد لوٹ آئیں گے، لوگ اس ہجرت کو عارضی تصور کررہے تھے۔ ابو بتاتے ہیں کہ ہم تمام مذاہب کے لوگ بڑے پیار و محبت سے رہتے تھے۔ بڑا پرسکون ماحول تھا ایک دوسرے کے تہواروں پر جاتے ان کو مبارکبادیں دیتے، شادیوں میں شریک ہوتے، قیام پاکستان سے جڑی یادوں کا سرمایہ ان کے پاس تھا جو وہ کبھی کبھی سناتے تھے۔
قیام پاکستان کے بعد انہوں نے محکمہ تعلیم میں ملازمت اختیار کر لی اور اس کے کچھ عرصہ بعد شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ اپنی تیس سالہ سرکاری ملازمت کے دوران وہ پنجاب کے مختلف شہروں میں فرائض سر انجام دیتے رہے اور ہمیشہ فیملی کو ساتھ رکھا۔ راقم بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہے۔ اس لئے ان کے ساتھ ابتدائی دنوں کی بہت ساری یادیں وابستہ ہیں جو کہ میرے لئے سرمایہ حیات ہیں۔ شفقت پدری کی اس سے بڑی مثال کوئی ہو نہیں سکتی۔
مادرِ جان بتاتی تھیں کہ ستمر 1965ءکی جنگ کے دنوں میں ہم لوگ اپنے ددھیال سیالکوٹ میں مقیم تھے۔ اس وقت میری عمر اڑھائی سال اور جاوید کی سات آٹھ ماہ ہو گی۔ ہندوستان کی فضائیہ اور بری افواج کی طرف سے لاہور اور سیالکوٹ کو خاص طور پر نشانہ بنایا جارہا تھا۔ سترہ دنوں کی اس جنگ میں بین الاقوامی اصولوں کو تہہ و بالا کرتے ہوئے انڈین ایئرفورس نے شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔ بتاتی ہیں کہ ایک رات انڈین جہازوں نے شدید بمباری کی اور وہ رات ہم نے جاگ کر گزاری۔ ہمارے گھر کے قریب سیالکوٹ کا مشہور قلعہ واقع ہے جو کہ شہر کے وسط میں ہے۔ ہندوستانی طیارے اسے نشانہ بنا رہے تھے کیوں کہ اگر وہ گر جاتا تو اس کے ارگرد شہر میں بہت تباہی پھیلتی۔ والدہ بتاتی ہیں کہ فجر کی اذان سے کچھ پہلے بھارتی فضائیہ نے قلعہ پر بم گرایا اور اس سے پہلے اتنی تیز سرچ لائٹ ماری گئی کہ رات میں دن کا سماں ہو گیا ایسے لگ رہا تھا کہ بم ہمارے گھروں پر گرا ہو، اس کی اتنی گونج تھی کہ کئی لوگوں کے کانوں کے پردے پھٹ گئے۔بم کی آواز سن کر میرے والد ہم دونوں بھائیوں کے اوپر جھک گئے اور ہمیں اپنی پناہ میں لے لیا کہ اگر خدانخواستہ دھماکے سے چھت گر جائے تو وہ میرے اوپر گرے میرے بچے محفوظ رہیں۔ یہ ہوتا ہے باپ۔۔۔۔ ویسے تو ہر باپ اپنی اولاد کے لئے ہیرو ہوتا ہے لکن حقیقی معنوں میں میرے ابو ہمارے ہیرو تھے۔ وہ بھرپور مردانہ وجاہت کے مالک تھے۔ ہم نے انہیں ہمیشہ صاف ستھرا اور نفیس پایا۔ گرمی ہو یا سردی روزانہ تازہ پانی سے نہانا اور شیو کرنا ان کا معمول تھا۔ آفس جاتے تو پتلون اور شرٹ پہنتے جو ان پر بہت جچتی۔ بہترین پرفیوم کا استعمال کرتے۔ جہاں سے گزر جاتے کافی دیر خوسبو آتی رہتی۔ محلہ کی خواتین اکثر کہا کرتی تھیں کہ ”باﺅ انور کے جانے کے بعد فضا معطر ہو جاتی ہے“۔ ہم نے کبھی ان کی شرٹ کا کالر میلا نہیں دیکھا۔ جوتے ہر وقت چمکتے ہوتے۔ شروع میں کے ٹو کے سگریٹ پیتے تھے بعد میں مارون کے شروع کر دیئے۔ چائے کے بہت شوقین تھے۔ پیسے خرچ کرتے ہوئے یہ کبھی نہیں سوچا کہ کل کیا ہوگا۔ خداترس تھے، مستحقین کی مدد کرتے اور نرم دل کے مالک تھے۔ ہمارے ددھیال میں چاکلیٹ ہیرو تصور کئے جاتے تھے۔
تمام بچوں کو برابر کا پیار کرتے اور ہمیشہ کہتے کہ بہنوں پر ہاتھ نہیں اٹھانا، یہ نازک اور معصوم ہوتی ہیں۔ ایک دن ان کو بیاہ کر اپنے اپنے گھروں کو چلے جانا ہے یہ تو ان کا عارضی ٹھکانا ہے۔ عامر سب سے چھوٹا تھا اور وہ کافی بڑا ہو چکا تھا مگر ابو اسے اپنے پاس سلاتے تھے۔ اپنی حیثیت سے بڑھ کر بچوں کی فرمائش پوری کرتے۔ 1989ءمیں ان پر فالج کا حملہ ہوا جس کے نتیجے میں ان کی بائیں سائیڈ متاثر ہوئی اور اس کے ساتھ ان کے بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی چلی گئی۔ تقریباً دس ماہ تک ان کا علاج چلتا رہا جس کے نتیجہ میں ان کی حالت کچھ بہتر ہو گئی دو ماہ تک وہ ہسپتال میں زیر علاج رہے میری ساری فیملی نے جس قدر ممکن تھا ان کی خدمت کی اور بہترین علاج کروایا۔ گھر آنے کے بعد وہ کچھ اور بہتر ہو گئے، میں نے بھی کچھ سال پہلے محکمہ تعلیم میں سروس جوائن کرلی تھی۔ لہذا میں صبح آفس جانے سے پہلے ان کی شیو کرتا اور والدہ بعد میں ان کے کپڑے تبدیل کرواتیں، اسی طرح باقی بہن بھائیوں نے بھی بھرپور خدمت کی۔ ہم نے مل جل کر ان کو صاف ستھرا رکھا۔ 4 جون 1990ءکی رات اٹھاون سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کے جانے سے جو خلاءہماری فیملی میں پیدا ہو گیا تھا وہ نہ کبھی پر ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔ آج فادرز ڈے پر میں اپنی فیملی اور بہن بھائیوں کی طرف سے انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ پاک ان کے اور تمام مرحوم مسلمانوں کے درجات بلند کرے اور انہیں کروٹ کروٹ راحت دائمی سے نوازے اور ہمیں والدین کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں