Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 65

اعزازی امداد

ہمارے جان پہچان والوں میں ایک تھانیدارصاحب ہوا کرتے تھےجو کے بہت پیسے والے تھے ۔ارے،،، شائید یہ جملہ میں غلط کہہ گیا میرے خیال میں توتھانیدار کہہ دینا ہی کافی تھااس کے پیسے کا اندازہ تو لوگ خود ہی لگالیتے ہیں۔میں نے ایمان دار پولیس والوں کے بارے میں سنا تو ہے لیکن کبھی دیکھنے کا اتّفاق نہیں ہوا۔ اگر ہوگا بھی تو ایک عام سپاہی ہوگا کیوں کے یہ بھی سنا ہے کہ ایماندار پولیس والے کی ترقّی نہیں ہوتی بہرحالہمارے یہتھانیدارصاحب غریبوں کی مدد کرنے کے معاملے میں کافی مشہور تھےاور دریا دل کہلاتے تھے ظاہر ہے ان کی نیکیوں کے قصّے سن کر ہم بھی ان سے بہت متاثر تھے۔یہ ٹھیک ہے کہ ان کے پاس جو بھی روپیہ جائیداد تھی وہ ان کی حلال کی کمائی کی تو نہیں تھی تو کیا ہوا؟ آخر سلطانہ ڈاکو بھی تو تھا بھوپت سنگھ بھی تو تھااور پھولن دیوی بھی تھییہ سبڈکیتیوں کی وجہ سے بدنام تھے لیکنغریبوں کی مدد کرنے میں ان کا نام تھا ۔اور امیروں کو لوٹ کر غریبوں کی مدد کرنے کو لوگجائز قرار دیتے تھے۔اور آج بھی لوگ ان کو اچھّے ڈاکو کے نام سے یاد کرتے ہیں۔یہ تو نہیں معلوم کے یہ سب ڈاکو کیوں ایسا کرتے تھے لیکن تھانیدار صاحب کی دریا دلی کا راز میں جان چکا تھا اور وہ اس طرح کے ان کے ساتھ ساتھ رہنے والا شخص الیّاس جو کہ سائے کی طرح تھانیدار صاحب کے ساتھ لگا رہتا تھا اس کے بارے میں مجھے معلوم ہوگیا تھا کہوہ ان کے ساتھ ہروقت کیوں لگا رہتا ہے۔اور اس کی تمام مصروفیات کا بھی مجھے علم ہوچکا تھا۔اور ان ہی مصروفیات کو دیکھ کر میں نے اندازہ لگالیا تھا کہ تھانیدار صاحب کیوں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔الیاس کی ملاقاتتھانیدار صاحب سے کیسے ہوئی وہ اس طرح کہ الیاس پر ایک برا وقت آیا نوکری نہیں تھی ہاتھ بے انتہا تنگ ہوگیااس نے اپنے ایک دوست پولیس والے کو حالات سے آگاہ کیا اس نے کہا میں تجھے تھانیدار کے پاس لے چلتا ہوں بہتلوگوں کی مدد کرتے ہیں ضرور تیری مدد بھی کریں گے۔تھانیدار صاحب کی شاطر نظروں نے بھانپ لیا کہ بندہ کام کا ہےالیاس کوجتنی ضرورت تھی تھانیدار نے اس کا چار گنا الیاس کے سامنے رکھ دیااور الیاس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔تھانیدار صاحب کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔رکھ لو الیاس دیکھ کیا رہے ہوتھانیدار نےمسکراکر کہا ،الیاس نے رقم کیطرف ہاتھ بڑھایا پھر اچانک اسےخیال آیا کہ وہ یہاں ادھار لینے کی غرض سے آیا تھا بھیک لینے کی غرض سے نہیں آیا تھا۔لہذا اس نے فورا” ہی کہا نہیں تھانیدار صاحبمجھے اتنے زیادہ پیسوں کی ضرورت نہیں ہےمجھے اتنے ہی پیسے دے دیں جتنی میری ضرورت ہے کیوں کہ میں یہ پیسے ادھار لے رہا ہوں اور میں اپنے سر پر زیادہ قرضے کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا۔تھانیدار نے فرمایا دیکھو الیاس میں نے دنیا دیکھی ہے مجھے معلوم ہے تمھیں پھر ضرورت پڑے گی اور ہوسکتا ہے کہ تم ایک مرتبہ پیسے لے جانے کے بعد ضرورت پڑنے پر شرمندگی کی وجہ سے دوبارہ میرے پاس نا آو¿ اس لئے میں چاہتا ہوں کے یہ زیادہ پیسے تم رکھ لواور جہاں تک رہی قرض لوٹانے کی بات تو جب بھی تمھارے حالات بہتر ہوں مجھے لوٹادینا اور اگر نا لوٹاسکو تب بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے میں قرض معاف بھی کردیا کرتا ہوں۔یہ سن کر الیاس تھانیدار صاحب کا بالکل ہی مرید ہوگیااس نے پیسے لئے اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔کچھ عرصہ گزرگیا لیکن اس کے حالات بدستور برے ہی رہے اب اسے یہ فکر کھانے لگی کہ تھانیدار صاحب کا قرضہ کیسے اتاروں گا۔قرضہ اور وہ بھی پولیس والے کا اللہ رحم کرے۔اسی دوران ایک دن تھانیدار صاحب کی طرف سے بلاوہ آگیا الیاس کے تو پسینے چھوٹ گئے کہیں وہ پیسے کاتقاضہ نا کر بیٹھیںبہرحال وہ جل تو جلال تو پڑھتا ہوا تھانیدار صاحب سے ملنے روانہ ہوگیا۔جب وہ تھانیدار صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو بہت گھبرایا ہوا تھا ۔تھانیدار اس کی کیفیت بھانپ گئے اور کہنے لگے کیا بات ہے الیاس طبیعت تو ٹھیک ہے۔الیاس کہنے لگا جی سر کچھ طبیعت خراب تھی اس وجہ سے آپ کی خدمت میں حاضر نہ ہوسکا لیکن اب ٹھیک ہوں اور سر وہ آپ کے پیسے۔۔۔۔تھانیدار نے ہاتھ اٹھاکر اسے خاموش کردیا اور کہنے لگے ۔دیکھو الیاس میں نے تمھیں پیسوں کی وجہ سے نہیں بلایامجھے فکر تھی کہ تم نا جانے کس حال میں ہو اور یہ بھی اندازہ ہوگیا تھا کہ تمھاری پریشانیاں ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں ،بہرحال ملنے آجایا کرو اور جب بھی پیسوں کی ضرورت پڑے بلا جھجھک مجھ سے کہنا کسی اور سے مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔جی بالکل سر، الیاس نے ممنونیت سے جواب دیا اس دن کے بعد الیاس ہر وقت تھانیدار کے ساتھ ساتھ رہنے لگاانہوں نے الیاس کے ذمّے کافی کام لگا دئیے الیاس نے اپنے حالات سدھارنے کی تمام جدوجہد ترک کردی اسے بغیر محنت کے پیسہ مل رہا تھااور اس کے عوضوہ تھانیدار کے تمام قانونی و غیر قانونی دھندوں میں مصروف تھااور وہ صرف ایک الیاس ہی نہیں تھا اس جیسے نا جانے کتنےالیاس تھے جو تھانیدار کے قابو میں تھےاور تب یہ حقیقت مجھ پر آشکار ہوئی کہ کسی کی آزادی سلب کرنا ہو اسے غلام بنانا ہواور کسی سرکش قوم کو لگام دینا ہواور اسے آگے بڑھنے سے روکنا ہو تو اسے بھکاری بنادوکیوں کہ کوئی بھی شخص یا قومخالی پیٹ ہوتو اسے فکر بھی ہوتی ہے کوشش اور جدوجہد ہوتی ہے اور بے انتہا محنت کرکے وہ شخصاپنا مقام بنالیتا ہے یا قومترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑی ہوجاتی ہے۔ جب بھوک بڑھ جاتی ہے راستہ نظر نہیں آرہا ہوتا ہے اور امداد کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیںتو سوچ کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلاجاتا ہے اور مختلف کام مختلف ترکیبیں ذہن میں آتی ہیں اور ایک دن گوہر مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔الیاس جیسا حال قوموں کا بھی ہوتا ہے جن قوموں کے لئے امداد کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔یا کھلے رکھے جاتے ہیں وہ قومیں نکمّی اور جاہل رہ جاتی ہیں لوگ تباہی کے گڑھے میں گرتے چلے جاتے ہیں اور انہیں احساس تک نہیں ہوتا دوسری قومیں ان کے ذہنوں پر غالب آجاتی ہیں امداد بھی دی جاتی ہے اور اپنے مزموم مقاصد کے لئےان سے کام بھی لیا جاتا ہے۔اور انہیں کبھی بھی اپنی صف میں کھڑا نہیں ہونے دیا جاتا۔تھانیدار جیسی قومیں بھیک کی طرحقرضکی صورت میں جو امداد دیتی ہیں ان کے بدلےامداد لینے والی قوموں سے بڑے بڑے کام لئے جاتے ہیںاوران سے جو فوائد حاصل کرتے ہیںاس کے سامنےیہامدادکچھ بھی نہیں ہوتی ہیں۔ اور ہمارے ملک میں یہ قرض والیامداد کا نتیجہہمیشہ سے یہی نظر آرہا ہے کہ کہ لوگ نوکریاں دیانت داری سے نہیں کررہے ہیں خاص طور پر سرکاری نوکری دن چڑھے کام پر جانا حاضری لگاکر جلدی گھر آجانا رات رات بھر گھومنا پھرناکھانا پینا عیّاشیاور ناجائز طریقے سے مال بنانے کی کوشش کرناکیا اس طریقے سے کوئی بھی ملک چل سکتا ہے ترقّی کرسکتا ہےکبھی نہیں لیکن وجہ یہی ہے کہقرض مل رہاہے ملک چل رہا ہے۔امداد کی عادت ڈالی گئی ہےاور ہم نے یہ عادت قبول کیعزّت وقار یہ سب ماضی کا افسانہ ہے۔جب بھیدنیا کے نقشے پر کوئی نیا ملک ابھر کر آتا ہے اور آزادی کی جدو جہد کا ثمر دنیا میں اپنی پہچان کراتا ہےتو ایسے ملک کو امداداور قرض کی ضرورت ہوتی ہے اور ترقّی یافتہ ملک ان کی مدد کرتے ہیں یہ مدد بے لوث اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی ہوتی ہے۔لیکن چند ایسے بھی ترقّی یافتہ ملک ہیں جو فورا” ہی شیطانی منصوبہ بنالیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہاس ملک کو اتنی امداد مہیّا کی جائےکہ یہ کبھی اپنےپیروں پر کھڑا نا ہوسکےاس کے کئی فائدے ہیں امداد کااحسان لاد کر اپنی مرضی کے کام کرائے جائیںاس ملک پر پورا کنٹرول ہوجائے اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے۔کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے شروع میں امداد تو لے لیلیکن اس کو گلے نہیں لگایا وقتی طور پرامداد لینے کے بعد کمربستہ ہوگئے تمام قوم نے سخت محنت کی اور جلد سے جلد قرضہ اتار کرملک کو اس مقام تک پہونچادیا کہ دوسرے غریب ملکوں کی مدد کرسکیںآج وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی شرائط پر بات کرتے ہیں۔ہم ساٹھ سال سےقرضکی امداد سنتے چلے آرہے ہیں اور یہ امداد کسی طرح بند نہیں ہورہی ہے۔چہرے بدلتے رہے لیکن امداد کا سلسلہ ابھی تک جاری ہےقرضدینے والا طاقتور سے طاقتور ہوتا چلا گیاترقّی کے منازل طے کرتا چلاگیا اورقرضلینے والاابھی تک خالی جھولی پھیلائے کھڑا ہے۔سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے ہمیں کوئی خشک ،بنجر،اجاڑ زمین نہیں ملی تھی ہمارے تمام لوگ بوڑھے لاغر یا بیمار نہیں تھےجہاں جد نگاہ تک لہلہاتے کھیت ، دنیا بھر کے پھل ،اناج میوے اگتے ہیںبے شمارمویشی اور انہیں پالنے کے ذرائع موجود ہیں ،پہاڑوں اور میدانوں میں معدنیات کے ذخائر موجود ہیں۔گیس کے ذخائر ہیںاور ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں کیونکہ ہم الیاس بن چکے ہیں۔الیاس کے ہاتھ پیر مضبوط ہیں طاقتور جسم ہے لیکن اس کی ذہنیت کو بھکاری بنادیا گیا ہے ہمیں اور ہماری حکومت کو چاہے وہ کسی کی بھی حکومت ہو۔کیا ضرورت ہے محنت او جدو جہد کیاور یہ جو ہمیشہ کرپشن کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔یہ سب تو امداد کے پیسے کا بٹوارہ تھایہ عوام کا یا ملک کا پیسہ تھوڑی تھا یہ سب تو امداد کا پیسہ تھا اور اسی میں کرپشن ہورہی تھیلیکن اس کے بدلے میں ملک نے کیا کھویا اس کی فکر جیب بھرنے والوں نے کبھی نہیں کیاس قرض کی امداد نے پورا ملک گروی رکھوادیا۔ہمارے ملک میں وسائل کی کمی نہیں محنتی افراد کی کمی نہیں ہے قدرتی وسائل سے مالا مال ہےلیکن ایک چیز ہمارے ملک میں بہت زیادہ تعداد میں اگتی ہے جو ان تمام چیزوں کو کھاجاتی ہے اور وہ ہے بددیانتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں