45

کیا ہم محفوظ ہیں؟

62 سالہ اعجاز چوہدری جو ایک ذہنی مریض تھا اور کئی بار اپنی ذہنی حالت کے باعث گھر والوں کے لئے پریشانی کا باعث بنتا رہا تھا مگر فیملی کے ارکان انتہائی محبت اور ملامت کے معاملات کو سلجھا لیا کرتے تھے۔ چوہدری اعجاز چلنے پھرنے سے بھی معذور تھا اور وہیل چیئر استعمال کرتا تھا۔ گزشتہ ہفتہ کی شام تقریباً 5 بجے چوہدری اعجاز کسی بات پر اپ سیٹ ہوا اور اس نے ہاتھ میں چھری لے کر خود کو گھر میں بند کر لیا۔ فیملی نے کوشش کی البتہ خوفزدہ ہو کر کہ کہیں وہ خود کو نقصان نہ پہنچا لے پولیس کو کال کیا۔ فیملی کے خیال میں یہی تھا کہ پولیس پروفیشنل طریقہ سے معاملات کو سلجھائے گی مگر صورتحال اس وقت خراب ہو گئی جب پولیس کے بار بار آواز دینے پر بھی چوہدری اعجاز نے دروازہ نہ کھولا۔ یوں پولیس نے بلڈنگ کے پیچھے سے سیڑھی کے ذریعہ گھر میں داخل ہو کر چوہدری اعجاز کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔

کمیونٹی کا سوال یہ ہے کہ یوں بے دردی سے ایک ایسے بے ضرر انسان کو گولیوں سے بھون دینا کہ جو ذہنی مریض بھی ہے اور اپاہج بھی۔ کس قانون کے تحت ہے۔ پولیس جو لوگوں کی حفاظت پر مامور ہوتی ہے اور ایسے موقعوں پر ایسی صورتحال سے نبٹنے کے لئے ایکسپرٹ کو بلایا جاتا ہے مگر اس کیس میں پولیس نے عجلت میں کارروائی کرکے چوہدری اعجاز کو موت کی نیند سلا دیا۔ اس واقع کے بعد سے پولیس کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور کمیونٹی اس بات پر بھی افسردہ ہے کہ میئر آف مسی ساگا کا کوئی بھی واضح موقف ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔ جہاں تک اس اقدام کے ذمہ دار پولیس افسران کا سوال ہے تو ان کو Examine کرنے کا کہا گیا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مستقبل میں ایسی کسی صورتحال میں لوگ پولیس کو اپنا محافظ سمجھ کر مدد کے لئے بلائیں گے؟ خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ امریکہ میں پولیس کے خلاف مظاہرے جاری ہیں اور ہر شخص کے ذہن میں یہ بات گردش کررہی ہے کہ پولیس کے ہاتھوں بلیک اور براﺅن محفوظ نہیں۔ کینیڈا میں بھی اسکولوں میں اور ڈاﺅن ٹاﺅن ٹورانٹو میں کئی ایک واقعات میں رنگ و نسل کی بنیاد پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ کینیڈا میں بھی رنگ کی بنیاد پر نفرتوں کا سلسلہ جاری ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں شدت دیکھنے میں آرہی ہے۔ میئر آف مسی ساگا بونی کرامبی جو کہ تمام کمیونٹیز کے ساتھ بہت منصفانہ طریقے سے چلنے کی کوشش کرتی ہیں، پولیس کے اس اقدام پر خاموش ہیں اور کمیونٹی کو اس بات کا بہت دُکھ ہے کہ بونی کرامبی نے اب تک اس واقعہ کی نہ تو مذمت کی اور نہ ہی سامنے آکر اپنا موقف پیش کیا۔ یہ ملک جہاں امیگرینٹس کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور اکثر گھروں میں میاں بیوی کے درمیان اختلافات یا بچوں اور والدین کے مابین جھگڑے عام سی بات ہے اور مستقبل میں ایسی صورتحال میں پولیس کو بلانا کیا کمیونٹی کے حق میں بہتر ہوگا؟

اس واقعہ نے کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ٹورانٹو بھر میں چوہدری اعجاز کو موت سے ہمکنار کرنے پر ان کی فیملی اور کمیونٹی سراپا احتجاج ہے۔ فیملی کے ممبران کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ وہ احتیاط سے اس مسئلہ کو حل کرلیں گے مگر پولیس نے بہت بھونڈا انداز اپنایا اور اپارٹمنٹ کے پچھلے حصہ کی بالکونی سے اندر داخل ہوئے بغیر فائرنگ کرکے چوہدری اعجاز کو ہلاک کردیا۔ پیل ریجنل پولیس کے بارے میں پہلے ہی لوگوں کے ذہنوں میں خدشات اور شکایات ہیں کہ پولیس چوری کی وارداتوں کار لفٹنگ اور غنڈہ گردی کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ مسی ساگا کے کئی ایک پارکنگ لاٹ ایسے ہیں جہاں نوجوان اپنی بغیر سائلنسر کی گاڑیوں میں ریس لگاتے ہیں اور پولیس خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہتی ہے۔ خصوصاً ٹیری فوکس اور بریٹانیہ، ایر ملز اور ایگلنٹن، ایگلنٹن اور ونسٹرن چرچل کے علاقوں میں آئے دن اسپیڈنگ کی شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں مگر پولیس جس کا کام لوگوں کی حفاظت ہے اپنی ڈیوٹی دینے میں ناکام نظر آتی ہے۔ ہماری میئر آف مسی ساگا اور متعلقہ کونسلرز سے اپیل ہے کہ اس مسئلہ کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور پولیس ریفارمز کو فوری طور پر اپنے ایجنڈے میں ڈال کر ان مسائل سے کمیونٹی کو چھٹکارا دلایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں