21

مسی ساگا پولیس کے ہاتھوں ہلاک اعجاز چوہدری کے خاندان سے رابطے میں ہیں، ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی

مسی ساگا: پاکستان کے دفتر خارجہ نے بدھ کو کہا کہ وہ کینیڈا کے شہر مسیساگا میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے پاکستانی نڑاد کینیڈین شخص کے اہل خانہ سے رابطے میں ہے۔ بی بی سی کے مطابق 62 سالہ اعجاز چوہدری ہفتے کو اس وقت مارے گئے جب مقامی پولیس نے ‘ایک شخص کی خیریت جاننے’ کے حوالے سے موصول ہونے والی ایک فون کال پر کارروائی کی تھی۔
کینیڈا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے روزنامے ‘گلوب اینڈ میل’ کے مطابق چار بچوں کے باپ اعجاز شیزوفرینیا میں مبتلا تھے اور ان کے اہل خانہ نے ایک نان-ایمرجنسی ہیلپ لائن پر اس امید سے کال کی تھی کہ انہیں خراب ذہنی حالت کی بنا پر ہسپتال منتقل کردیا جائے۔
عرب نیوز نے جب ایک ٹیکسٹ میسج کے ذریعے پاکستان کی ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس بدقسمت واقعے سے آگاہ ہیں، جس میں ایک پاکستانی نڑاد کینیڈین شہری اعجاز چوہدری 20 جون، 2020 کو مسیساگا میں ہلاک ہو گئے۔ ‘ٹورانٹو میں ہمارا مشن مزید تفصیلات جاننے کے لیے متاثرہ خاندان اور میزبان حکومت سے رابطے میں ہے۔’
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق ترجمان عائشہ فاروقی نے بتایا کہ پاکستان نے متاثرہ خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کینیڈا میں پاکستانی مشنز کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس دوسری منزل پر چوہدری اعجاز کی بالکونی کا دروازہ توڑ کر اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی، جہاں وہ اکیلے موجود تھے، ان کی ذہنی حالت خراب اور ہاتھ میں چھری تھی۔
اعجاز کے قریبی رشتہ دار حسان چوہدری نے گلوب اینڈ میل کو بتایا: ‘وہ کسی کے لیے خطرہ نہیں تھے۔ وہ اپنی مرضی سے گھر میں اکیلے تھے، جہاں وہ خود کو محفوظ تصور کرتے تھے۔’

‘وہ شیزوفرینیا ہونے کی وجہ سے درست فیصلے کرنے کی حالت میں نہیں تھے اور پولیس انہیں اس لیے مار دے کہ کہیں وہ خود کو نقصان نہ پہنچائیں، یہ کہاں کی منطق ہے؟’
دوسری جانب ٹوئٹر پر ابراہیم ہندی نامی صارف نے اعجاز چوہدری کے لیے دعا گو اور متاثرہ خاندان سے اظہار ہمدری کے لیے جمع ہونے والے سینکڑوں افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ اعجاز چوہدری کے بھائی نے انہیں بتایا کہ اس تکلیف دہ مرحلے سے گزرنے میں برادری کی ہمدردیوں نے ان کا بہت ساتھ دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں