15

لائسنس اسکینڈل: ویت نام نے تمام پاکستانی پائلٹ گرائونڈ کر دیے

ہنوئی: ویت نام کے ایوی ایشن حکام نے مقامی ایئر لائنز کے لیے کام کرنے والے تمام پاکستانی پائلٹس کو گراو¿نڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ویت نام ایوی ایشن حکام کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ عالمی ریگولیٹرز میں پاکستانی پائلٹس کے ‘مشکوک’ لائسنسز کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش کے بعد کیا گیا۔
گذشتہ ہفتے پاکستان نے بتایا تھا کہ 262 پائلٹس کو ‘جعلی’ ڈگریاں ہونے کی وجہ سے گرائونڈ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے یہ فیصلہ عالمی ایئر لائنز باڈی آئی اے ٹی اے کے اس بیان کے بعد کیا تھا کہ اس نے پاکستان کی بین الاقوامی ایئرلائنز کے پائلٹس کو جاری کردہ لائسنسز میں سیفٹی اور سکیورٹی کنڑول کے حوالے سے نقائص کا پتہ لگایا تھا۔
سوموار کو سامنے آنے والے بیان کے مطابق ویت نام کی سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے وی) نے ویت نام ایئرلائنز کے لیے کام کرنے والے تمام پاکستانی پائلٹس کی معطلی کا حکم جاری کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ویت نام سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ یہ معطلی تاحکم ثانی نافذ العمل رہے گی۔ حکام کے مطابق وہ ان پائلٹس کی تفصیلات پر نظرثانی کے لیے پاکستانی حکام سے معاونت کر رہے ہیں۔
ویت نام سی اے اے وی کے مطابق ویت نام میں اس وقت 27 پاکستانی لائسنس یافتہ پائلٹس موجود ہیں، جن میں سے 12 ابھی تک فعال جبکہ 15 پائلٹس غیر فعال ہیں یا ان کے کنٹریکٹس کرونا وبا کی وجہ سے زائد المدت ہو چکے ہیں۔
سی اے اے وی کے مطابق ان 12 فعال پائلٹس میں سے 11 ویت نام کی ویت جیٹ ایوی ایشن اور ایک پائلٹ جیٹ سٹار پیسفیک کے لیے کام کر رہے تھے جب کہ ویت نام ایئرلائنز اور بمبو ایئر ویز میں کوئی پاکستانی پائلٹ کام نہیں کر رہا تھا۔ واضح رہے کہ ویت نام کی ایئرلائنز میں اس وقت 1260 پائلٹس کام کر رہے ہیں جن میں سے نصف غیر ملکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں