بال جسٹس فائز عیسیٰ کے کورٹ میں 75

آصف علی زرداری اور فیصل واوڈا کی ملاقات

سابق صدر آصف علی زرداری کافی عرصہ سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور ان کا کوئی بیان سامنے نہیں آرہا۔ منظر عام پر مسلم لیگ نواز سبقت لیتی دکھائی دے رہی ہے مگر آصف علی زرداری کی معنی خیز خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہی ہو سکتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے اور مفادات کی جنگ شدت اختیار کرچکی ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے خاتمہ کے معاملے میں بھی آصف علی زرداری نہایت سیخ پا نظر آتے ہیں اور اسے صوبائی خودمختاری میں مداخلت سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں سندھیوں کے جھتوں نے کئی جگہوں پر احتجاج کیا اور ”پاکستان نہ کھپے“ کی گونج ایک بار بھی عوام کے کانوں سے ٹکرائی۔
دوسری جانب بلوچستان کے معاملات نے بھی اچانک زور پکڑا اور بلوچستان کے گمشدہ افراد کے عزیز اقارب کا اچانک اسلام آباد میں دھرنا کئی طاقت ور حلقوں کو پیغام دیتا دکھائی دے رہا ہے۔ اچانک آصف علی زرداری نے فیصل واوڈا سے بھی ملاقات کی۔ جس انداز میں آصف علی زرداری نے ان کے گالوں پر ہاتھ رکھا ہے، وہ عام سی بات نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے ان حلقوں کے لئے جو ملک کے مستقبل کے فیصلہ ساز ہیں۔ یوں تو فیصل واوڈا کو بھی عوام جانتے ہیں مگر یوں اچانک ان کی زرداری سے ملاقات یقیناً سندھ کی سیاست میں اہمیت رکھتی ہے۔ فیصل واوڈا جانتے ہیں کہ طاقت ور حلقوں سے تعلقات ہونے کے باوجود آصف علی زرداری کا آشیر باد بہت ضروری ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ طاقت ور حلقوں کی جانب سے ہی انہیں اس ملاقات کے لئے تیار کیا گیا ہو۔ بہرحال اس تصویر کے ذریعہ جو پیغام جسے دینا تھا وہاں پہنچ چکا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آصف علی زرداری کو تمام سیاستدانوں پر برتری حاصل ہے۔ وہ جوڑ توڑ اور بہتر سیاسی حکمت عملی سے مختلف انداز اپناتے ہوئے سیاسی حریفوں کو سیاسی دوستوں میں بدلنے کا فن خوب جانتے ہیں۔ آصف علی زرداری نے حال ہی میں جو دو اقدامات کئے ان میں ایک دورئہ بلوچستان اور دوسرا فیصل واوڈا سے ملاقات۔ ان دونوں اقدامات کے نتائج جلد عوام کے سامنے آئیں گے۔
آصف علی زرداری نے یہ بھی کہا ہے کہ بلوچستان کے معاملات کو مجھ سے بہتر طریقہ سے کوئی حل نہیں کر سکتا یوں انہوں نے طاقت ور حلقوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ بلوچستان کا سیلاب روکنا چاہتے ہیں تو آصف علی زرداری کو فیصلوں میں شامل رکھیں۔ یوں بھی نواز شریف کے معاملہ میں فوج تذبذب کا شکار ہے اور اسی موقع سے آصف علی زرداری فائدہ اٹھا کر معاملات کا رُخ موڑ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں