عدالتیں یا ڈاک خانے؟ 111

اب قانون کی حکمرانی ناگزیر کیوں؟

بلی تھیلے سے پوری طرح سے باہر نکل آئی ہے۔ قانون کی بالادستی یعنی رولز آف لاءکو وہی لوگ نافذ کرنے کے حق میں نہیں جو رولز آف لاءکو قدموں کی ٹھوکر بنانے کے عادی ہیں جو قانون اور اس کی بالادستی کو اپنی خواہشات کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ خیال کرتے ہیں۔ وہ قانون کی بالادستی کی پرچار بھی اس وقت کرتے ہیں جب انہیں اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانا ہوتا ہے جس کی سب سے بڑی مثال ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہے اس وقت ایک ڈکٹیٹر نے یہ کہا تھا کہ قانون کی بالادستی ہر حال میں قائم رکھی جائے گی اور قانون سے بالاتر کوئی بھی نہیں اور آج ایک وزیر اعظم عمران خان کی حکومت اس لئے ختم کی گئی کہ وہ رولز آف لاءکی بات کرتا ہے، وہ قانون کی بالادستی عملی طور پر چاہتا ہے تو وہی لوگ اب قانون کی بالادستی کی راہ کی سب سے بڑی دیوار بن چکے ہیں۔ ملک میں اب وہ موڑ آچکا ہے جب سول سوسائٹی اور وکلاءاور محب وطن پاکستانیوں کو نہ صرف یہ سوچنا پڑے گا بلکہ عملی طور پر اس کے لئے ایک تحریک بھی چلانا پڑے گی کہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ اس ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے جس کی وجہ سے نہ تو یہاں کوئی محفوظ ہے اور نہ ہی قانون کی حکمرانی کے بغیر امن کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جس کی وجہ سے کاروباری صورتحال بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ ملک جنگل کے قانون کا منظر پیش کررہا ہے۔ طاقتور لوگ اپنے طاقت کے بل بوتے پر اپنی اپنی من مانیا کررہے ہیں۔ عدالتیں پارلیمنٹ اور سرکاری مشینری ان ہی طاقت ور لوگوں کی غلام یا پھر گھر کی کنیزیں بن چکی ہیں اس وجہ سے پوری قوم کو اب یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑے گا۔ روز روز کے مرنے سے بہتر ہے کہ اس تحریک کو شروع کروا کر ایک ہی روز اجتماعی طور پر خود کو مار دیا جائے۔ یا تو نہیں یا میں نہیں کے فارمولے پر عمل درآمد کرکے ہی اس بیماری سے پاکستانی قوم کی جان چھوٹے گی۔ ہمارے سے الگ ہونے والے بنگلہ دیش کی ترقی ہمارے سامنے ہے اس لئے کہ وہاں قانون کی بالادستی ہے، وہاں کوئی ادارہ خود کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتا اور نہ ہی آئین کو کاغذ کا ایک حقیر ٹکڑا سمجھتا ہے اس لئے کہ وہ ایک قوم ہے اور قوم اتحاد و یکجہتی سے وجود میں آتی ہے۔
پاکستانیوں کو ایک قوم بن کر ملک میں قانون کی حکمرانی کے لئے ایک کامیاب ترین تحریک چلانا ہو گی اور تحریک اس وقت تک چلنی چاہئے جب تک حقیقی معنوں میں قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی اس کے لئے ملک میں شفاف الیکشن کا کروائے جانا بہت ضروری ہے اور جو ادارے الیکشن میں اپنا منفی کردار ادا کرکے عوامی رائے کو توڑنے مڑونے کا کام کرتے ہیں، ملکی عوام کو ان پر نظر رکھتے ہوئے ان کے ان ناپاک عزائم کو ناکام بنانا ہوگا کیونکہ وہی عناصر دراصل یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں کوئی ایک جماعت دوتہائی اکثریت سے کامیاب ہو اور وہ تن تنہا قانون سازی کر سکے ایک قانون سازی کے ذریعے مارشل لاءکا جب راستہ روکا گیا تو آمرانہ سوچ رکھنے والوں کے پسینے چھوٹ گئے جس کے بعد سے مخلوط حکومت کے قیام پر ہی ساری کی ساری توجہ دی گئی اور اب بھی وہی کھیل جاری و ساری ہے۔ عمران خان سے بھی یہ ہی تنازعہ ہے، آمرانہ سوچ رکھنے والوں کو یہ ہی ڈر ہے کہ عمران خان کی آئیڈیا لوجی ملک اور قوم کے لئے تو ہر حال میں سود منہ ہے مگر ان کے لئے وہ کسی بھی طرح سے زہر قاتل سے کم نہیں، انہیں اس بات کا اچھی طرح سے فہم و ادراک ہے کہ اگر عمران خان اور ان کی پارٹی کو آزادانہ طریقے سے انتخابات میں حصہ لینے دیا گیا تو پھر کسی کے بھی ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا۔ سخت قسم کی قانون سازی کرلی جائے گی اور تمام ادارے ان کے شنکجے سے آزاد ہو کر قانون کے شنکجے میں چلے جائیں گے یا پھر انہیں قانون کی اس طرح کی پشت پناہی مل جائے گی کہ پھر کون ڈرا دھمکا کر یا پھر بلیک میل کرکے یا پوسٹنگ کا لالچ دے کر اپنے من پسند کام نہیں کروا سکے گا۔ یہ ہی وہ خوف ہے جس کے باوجود ملک کے چور سیاستدان اور آمرانہ سوچ رکھنے والے قانون کے بالادستی کے بالخصوص اور عمران خان کے آئیڈیالوجی کے بالعموم دشمن بن گئے ہیں اور ان دونوں کے آگے بڑھنے کی صورت میں وہ اپنی موت دیکھ رہے ہیں اس لئے وہ ایک طرح سے اپنی بقاءکی جنگ لڑتے ہوئے اسے فتنہ قرار دے کر اس کو کچلنے کی کوشش کررہے ہیں مگر اب بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ پاکستانی قوم سول سوسائٹی اور وکلاءبیدار ہو چکے ہیں اور ایک تحریک حقیقی آزادی کی چل پڑی ہے۔ ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں میں ہی اب پاکستان کی فلاح اور سلامتی مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں