الوداع اے محسن قوم الوداع 64

اب کیا طالبان بدل گئے ہیں؟

کابل پر افغان طالبان کے قبضہ کے بعد پوری دنیا کی نگاہیں طالبان پر ٹکی ہوئی ہیں۔ طالبان کے ترجمان کی پریس کانفرنس میں جو غیر روایتی انداز اپنایا گیا اور عام معافی کے اعلانات کئے گئے اس نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور پوری دنیا شش و پنج میں مبتلا ہے کہ آیا ان اعلانات پر یقین کریں یا نہیں۔ دوسری جانب طالبان نے کابل ایئرپورٹ پر افغانستان سے نکلنے کے خواہشمند افغانیوں کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں وہ سب ہمارے بھائی ہیں۔ انہیں ملک چھوڑ کر جانے کی ضرورت نہیں مگر لگتا ہے کہ یہ لوگ افغان طالبان پر بھروسہ کرنے پر تیار نہیں اور امریکی فوج کی نگرانی میں خود کو زیادہ محفوظ خیال کررہے ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ تمام وہ لوگ ہیں جو امریکہ کے لئے جاسوسی کا کام کرتے رہے ہیں اور اب وہ اپنی جان کی ضمانت مانگ رہے ہیں۔
طالبان نے واضح اعلان کیا ہے کہ پڑوسی ممالک سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں مگر بھارت میں واویلا مچا ہوا ہے اور بھارت نہایت خوفزدہ اور فکر مند ہے کیونکہ افغانستان میں ہندوستان کے تقریباً 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے پاکستان کے خلاف تحریری مواد پڑھانے کے لئے جو لائبریریاں قائم کی تھیں وہ تمام افغانستان کے بھگوڑے صدر اشرف غنی کے بل بوتے پر کی گئی تھیں اور اس کے یوں اچانک ملک سے فرار ہونے کے سبب بھارت کو بھی شدید دھچکا لگا ہے اور امریکہ بھی اس بات سے سخت پریشان اور نالاں ہے کہ افغانی فوجیوں کو بہترین تربیت کے باوجود وہ افغان طالبان کے سامنے ڈھیر ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان کے حالیہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد کے اعلانات جن میں افغان سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال نہ کرنے، اپنے دشمنوں سمیت تمام افغانوں کو عام معافی، خواتین کے شرعی حقوق کی پاسداری، انسانی حقوق کا علم بلند کرنا، میڈیا کی آزادی، افغانستان میں مضبوط اسلامی حکومت کی تشکیل اور اپوزیشن جماعتوں سے طالبان نے رابطے کرکے ثابت کردیا ہے کہ مستقبل کا افغانستان 20 برس قبل والی طالبان حکومت سے یکسر مختلف ہوگا۔
کہا جارہا ہے کہ اب طالبان بدل گئے ہیں۔ ان کے نوجوان بہترین انگریزی میں پوری دنیا کے سامنے اپنا موقف پیش کررہے ہیں۔ امریکہ کی مخالفت میں چین، روس، ترکی، ایران اور پاکستان ایک ہی سوچ کے ساتھ بڑھتے نظر آرہے ہیں۔ امریکہ جس نے 20 برس میں افغانستان پر 2 کھرب ڈالر خرچ کئے، 3 لاکھ افغانوں پر مشتمل فوج تشکیل دی اور انہیں دنیا کا جدید اسلحہ دیا، جس میں جنگی طیارے، ہیلی کاپٹرز، ٹینکس اور دیگر دفاعی ساز و سامان شامل تھا مگر افغان فورسز نے اپنے بھائیوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے سے انکار کردیا اور یوں امریکہ کو دنیا بھر میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ یہ بھول گیا تھا کسی بھی ملک کی فوج بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تشکیل دی جاتی ہے۔ نہ کہ اپنے لوگوں کو ختم کرنے کے لئے اور امریکہ کی یہی خوش فہمی ان کی شکست کا باعث بنی۔
یاد رہے کہ امریکی صدر جارج بش نے 9/11 کے بعد کہا تھا کہ امریکہ ”طالبان پر زمین“ تنگ کردے گا جب کہ طالبان کا کہنا تھا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”میری زمین وسیع ہے اور میں ہی ہر شہ پر قادر ہوں“۔ آج 20 برس کے بعد یہ ثابت ہو گیا کہ بے شک اللہ رب العزت ہر چیز پر قادر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں