کیا ہم منافق قوم ہیں 38

اسرائیلی بجھو اور عرب حکمران

شیخ محمد زید بن سلطان النہیان نے اسرائیل کے وزیر اعظم سے سمجھوتہ کرکے فلسطیطن کے مسلمانوں کے ساتھ بے وفائی کا ثبوت پیش کردیا۔ ایران کے صدر روحانی اور ترکی کے صدر اردگان نے عربوں پر الزام عائد کیا ہے، عربوں کی طرف سے پہل یو اے ای نے کی ہے اس کے بعد بحرین، مراکو اور اومان بھی اسرائیل سے اسی طرح کے سمجھوتے کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ سعودی حکمرانوں کی طرف سے ابھی تک خاموشی ہے لیکن یہ کہا جارہا ہے کہ انہوں نے ہی صدر ڈونلڈٹرپ کے ساتھ مل کر تمام اپنے زیر اثر عرب ملکوں کو اس طرح کے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے بھی کچھ عرصہ پہلے سعودی عرب سے اس بات کا گلہ کیا تھا کہ اس نے پاکستان کے مقابلی میں اپنی ترجیحات میں بھارت کو فوقیت دے کر پاکستان سے بے وفائی کی ہے۔ اس بیان سے سعودی حکمرانوں نے بہت برا محسوس کیا اور سوشل میڈیا پر ظاہر کیا گیا کہ انہوں نے پاکستان کی امداد روکنے کے ساتھ ساتھ مختلف طرح کے تعاون سے ہاتھ کھینج لیا ہے اس سے پہلے پاکستان کے وزیر اعظم کو ملائیشیا کے وزیر اعظم اور عجمی مسلمانوں کے رہنما نے ترکی کے مرد آہن اردگان کے ساتھ سہہ رخی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تو انہیں سعودی حکمرانوں نے دھمکا کر جانے سے روک دیا۔ اب پاکستان کی فوج کے طاقتور جنرل قمر باجوہ سعودی حکمرانوں کو سمجھانے سعودی عرب کے دورے پر ہیں تو اس بات پر دنیا بھر کی آنکھیں لگی ہوئی ہیں کہ سعودی حکمران ان کو کچھ مراعات کا لالچ دے کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کریں گے یا پاکستان کے یہ اصلی حکمراں سعودیوں کو اپنی بات منوانے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ وہ حجاز مقدس کے خادم ہونے کی حیثیت سے اسرائیل کی گود میں جانے سے رک جائے۔
آج کے دور میں استعماری طاقتوں کا ساتھ جس طرح مسلمان ملکوں کے حکمران دے رہے جس طرح وہ اس ظلم کا ساھ دے رہے ہیں وہ بھی ان استعماری قوتوں کے ساتھ شریک ہیں جب بھی انصاف کی قوتیں بیدار ہوں گی جب بھی مظلوموں کی آہیں اثر پذیر ہوں گی ان طاقتوں کا حساب کتاب جب بھی لیا جائے گا ان کے ساتھ ان استعماری قوتوں کے معاون مددگار بننے والے مغربی میڈیا کو بھی ان سزاﺅں میں شریک کیا جائے گا جس کی مستحق مغربی استعماری قوتیں ان کے پروردہ مسلمان ملکوں کے حکمران ہوں گے آج غزہ کے ایک ہزار سے زیادہ معصوم بچوں عورتوں بزرگوں کی لاشوں پر رونے والوں کی سسکیاں عرش تک پہنچ رہی ہیں اور وہ اس برے وقت کی نشاندہی کررہی ہیں۔
حضرت سعدیؒ بیان فرماتے ہیں کہ میں دمشق کی جامع مسجد میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کے مزار پر اعتکاف میں بیٹھا تھا کہ ایک عرب ملک کا بادشاہ وہاں آیا اور نماز ادا کرنے کے بعد دعا میں مشغول ہو گیا اس بادشاہ کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ وہ عوام پر بہت سختی کا برتاﺅ کرتا ہے۔ دعا کے بعد اس نے مجھ سے بھی دعا کی درخواست کی کہ ایک دشمن کی طرف سے بہت خطرہ ہے، میرے حق میں دعا فرمائیں کہ آپ جیسے بزرگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ میں نے بادشاہ کی بات سنی تو اس سے کہا کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ طاقتور کسی کمزور کا پنجہ مروڑ دے جو عاجز پر رحم نہیں کرتا اس پر کسی وقت برا وقت آسکتا ہے۔ یہ نصیحت برے وقت کے ہے اسی طرح حضرت سعدی فرماتے ہیں کہ ایک دن حجاج بن یوسف نے ایک بزرگ سے دعا کی درخواست کی کہ میرے حق میں دعا فرمائیں، بزرگ نے ہاتھ اٹھا کر فرمایا اے اللہ اس شخص کو موت دے دے۔ حجاج یہ سن کر بہت حیران ہوا کہ آپ نے میرے حق میں یہ کیسی دعا کی۔ بزرگ نے فرمایا تیرے اور مسلمانوں کے حق میں یہ یہی دعا تیرے لئے سب سے اچھی ہے کہ تیری موت جتنی جلدی آئے تو تیرا نامہ اعمال مزید سیاہ نہ ہوگا۔ اور عام مسلمانوں کے لئے یوں کہ جب تو مر جائے گا تو انہیں تیرے ظلم و ستم سے نجات مل جائے گی۔ آج کے دور مسلمانوں پر بالعموم اور غزہ کے عوام پر بالخصوص جو ظلم ہو رہے ہیں ان قوتوں کے نام نہاد انسانی حقوق کی پاسداری کو ننگا کررہے ہیں۔ اس سے ان قوتوں اور ان شریک مسلمان حکمرانوں اور مغربی میڈیا کا چہرہ نمایاں ہو رہا۔ اس میں مغربی میڈیا ان کے پروردہ حکمران اور ان کے ساتھ مسلمان ملکوں کے شہزادے جن کی گل تعداد 12 ہزار ہے زائد بھی نہیں ہے وہ اس جرم میں برابر کے شریک ہیں اس پر شیخ سعدی کی نصیحت صادق آتی ہے۔ جو طاقتور پر ظلم کرے اس پر برا وقت کبھی بھی آسکتا ہے ان کی دراز رسی کسی بھی وقت کھینچتی ہے۔ نا معلوم پہلے کس کو اس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
موجودہ دور کے سب سے پسندیدہ عالم دین جناب مولانا طاق جمیل اپنے حسن بیان اور اپنی علمیت کی وجہ سے ہر فکر طبقہ میں یکساں مقام و مرتبہ رکھتے ہیں انہوں نے اپنے خطاب میں ایک بار فرمایا کہ اللہ نے ہر دور میں مختلف امتوں کو اتارا مگر تمام امتوں میں مسلمان بہترین امت قرار پائے اور یہودی سب سے بدترین امتوں میں شمار ہوئے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل پر جب سہولتیں نازل کیں ان پر من و سلوا اتارا جاتا مگر جب وہ امت نافرمان ہوئی تو اس کو بدترین عذاب میں بھی مبتلا کیا گیا مگر مسلمانوں کو ان کے گناہوں کے باوجود بخشش کے راستے بھی مہیا کئے گئے اور مسلمانوں کو صرف امت مسلمہ ہونے کی وجہ سے چار فضیلتیں بھی دیں۔ جس کی وجہ سے بقول مولانا طارق جمیل مسلمانوں کا ہر فرد تمام دوسری امتوں کے مقابلے میں چار پھولوں والا جنرل ہے جس طرح فوج میں چار پھول والا لیفٹیننٹ جنرل ہوتا ہے اس ہی طرح ہر مسلمان پوری امتوں میں جنرل ہوتا ہے اور سب سے زیادہ مردود بنی اسرائیل ہوتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل سے پہلے ایک اور اسلام کے بہت بڑے عالم ڈاکٹر اسرار احمد تھے جن کے علم اور فضیلت کی تمام عالم اسلام میں بہت قدر کی جاتی تھی وہ اپنے وقت کے بڑے عالموں میں شمار ہوتے تھے انہوں نے ایک بار اپنے خطاب میں فرمایا کہ امت مسلمہ اور خاص طور پر اسلام کے مراکز عرب جب راہ سے بھٹکنے لگیں گے تو ان کو جو حزیمت اٹھانی پڑے گی وہ یہودیوں کے ہاتھوں ہو گی۔ یعنی سب سے زیادہ فضیلت والی امت کو اللہ سب سے مردود امت کے پیروکار یہودیوں کے ہاتھوں ذلت اٹھانی پڑے وہ یہودیوں کے ہاتھوں تاراج ہوں گے۔ ان کو سزا ہو جائے گی تو دنیا میں ہی ان کے گناہوں کی سزا مل جائے گی اس طرح امت مسلمہ خدا کے عذاب عظیم سے بچ جائے گی جس طرح کے عذاب دوسری امتوں پر آئے مگر اللہ کے عذاب سے بچ کر رہنے والی یہ امت دنیا میں ہی سزا اس طرح پائے گی جس طرح بقول ڈاکٹر اسرار کے راجپوت کو جب بھی سزا دی جاتی تو اس کے سر پر جوتا کسی راجپوت سے نہیں بلکہ علاقے کے چمار سے لگوایا جاتا۔ اس ہی طرح اللہ کی سب سے مرورد قوم سے ان عربوں کو سزا دی جائے گی جو کہ اب ایک اسرائیل کی شکل میں ایک ملک کی حیثیت سے علاقے میں طاقتور بن گئے ہیں یعنی اس عذاب زدہ قوم کو اللہ نے قائم ہی اس لئے رکھا تھا کہ ان سے وہ ہی کام لیا جائے جو چمار سے راجپوت کو سزا دینے کا کام تھا یہ کام لینے کے بعد جب مسلمانوں کو ہوش آئے گا تو پھر ان کے ہاتھوں بنی اسرائیل کی بچی کھچی امت کا خاتمہ ہوگا۔
ہم نے دو بڑے عالموں کی آراءمسلمانوں اور یہودیوں کے بارے میں بیان کردی ہے اس موقع پر ہمیں پھر شیخ سعدی کی ایک حکایت یاد آرہی ہے کہ اسرائیل کا وجود فلسطین میں کیسے ہوا ہو گا، حکایت ہے شیخ سعدی فرماتے ہیں میں نے کسی کتاب میں بڑھا تھا کہ بچھو کی پیدائش عام جانداروں کی طرح نہیں ہوتی۔ جب وہ اپنی ماں کے پیٹ میں کچھ بڑا ہو جاتا ہے تو وہ اپنی ماں کا پیٹ اندر سے کاٹنے لگتا ہے اور یوں سوراخ کرکے ماں کے پیٹ سے باہر آجاتا ہے۔ شیخ سعدی فرمانے لگے کہ میں نے یہ بات ایک عالم کے سامنے رکھی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بات درست ہو گی بلکہ درست ہونی چاہئے کہ بچھو کی فطرت اور عادت پر غور کیا تو یہ سب سمجھ میں آتی ہے کہ اس نے اپنی پیدائش کے پہلے دن سے دوسروں کو ڈسنے کی خصلت کی بناءپر وہ اپنے وجود دینے والوں کو ہی ڈستا ہے اس خصلت کو اگر موجودہ اسرائیل کے حوالے سے دیکھا جائے تو من و عن پوری اتری ہے کہ وہ جس علاقے میں وجود پاتا رہا اس ہی علاقے کے لوگوں کا عرصہ حیات تنگ کرکے رکھا ہے کیونکہ وہ ان پر حاوی ہے یہ ہی وجہ ہے جو ممالک اس رابطے رکھے ہوئے ہیں اور اسرائیل سے مختلف قسم کے تعلقات رکھتے ہیں اس کو تقویت پہنچانے کا باعث ہوتے ہیں کہ وہ اس کا ضرور شکار ہوں گے اب سے کچھ عرصہ پہلے تک وہ کسی طرح کے امریکہ کے نائب صدر اور وزیر خارجہ کو ذلیل کرتا رہا کس طرح ان کی مرضی کے خلاف مقبوضہ علاقوں میں بستیاں بساتا رہا ان کے منہ پر کالونچ ملتا رہا آج سعودی عرب مصر اور اردن کے حکمران بھی بچھو کی ماں کا حشر اپنے سامنے رکھیں۔ آج بارک ابامہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے نمائندوں کے سامنے اسرائیل کی حمایت کررہا ہے کل آنے والے وقت میں اس کے منہ پر کالونچ نہیں بلکہ مٹی ڈالے گی۔ او ران مسلمان حکمرانوں کا حشر تو ڈاکٹر اسرار احمد کے بقول چمار کے جوتے ان کے سروں پر پڑوائے جائیں گے۔
وہ وقت بھی دور نہیں جب وہ فرانس اور برطانیہ کا حشر بھی بچھو کی خاصیت کے حسبا سے ضرورکرے گا دنیا کے تقریبا ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے نمائمدے وائٹ ہاﺅس میں بچھو کے سرپرست یعنی ابامہ کی طرف سے دی ہوئی افطار پارٹی میں شریک تھے۔ جس میں اسرائیل کے سرپرست اسرائیل کی تعریف کے پلندے بنا رہے تھے۔ مسلمان ملکوں کے نماندے اپنا سر اس بات پر بلند کررہے تھے کہ ان کو واہٹ ہاﺅس میں افطار ڈنر کرنے کا موقع میسر ہوا، کسی نے ان نہتے مقبوضح غزہ کے مسلمانوں سے ہمدردی میں ایک لفظ تک نہیں کہا جہاں تقریبا پانچ سو سے زائد شہریوں کو گاجر مولی کی طرح قتل کردیا گیا۔ ان میں سے اکثریت بچوں خواتین اور بوڑھوں کی ہے کسی کے منہ سے اسرائیل کے خلاف ایک لفظ ادا نہ ہوا وہ سب اس بچھو کو طاقتور بنانے کا باعث بن رہے تھے۔ بچھو کی خاصیت تو یہ ہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی پیدائش دینے والی ماں کا پیٹ کاٹ سکتا ہے تو وہ یقیناً ان تمام ملکوں کو جنہوں نے سب سے پہلے اس بچھو کو فلسطین میں لا کر پروان چڑھایا وہ بھی اس بچھو کے ڈنک سے نہیں بچ سکیں گے اور وہ عرب مسلمان ملکوں کے حکمران بھی اس سزا سے نہیں بچ سکیں گے جو کہ ڈاکٹر اسرار کے مطابق ان کے لئے چمار کے جوتے کے مترادف ہو گی جو ان کے لئے سزا ہی نہیں ہو گی بلکہ ان کی بے عزتی کا باعث بھی ہو گی۔ اس کو اللہ کی طرف سے دیا ہوا عذاب کہہ لیں یا غزہ کے مظلوموں معصوم بچوں کی سسکیاں یا بوڑھے لوگوں کے دلوں سے نکلنے والی آہیں جو کہ اسرائیل کے اور اس کے وجود دینے والوں کے لئے بددعائیں بن کر عرش کو ہلا رہی ہوں گی۔ جس کی وجہ سے سب اپنے اپنے وقت پر سزا ضرور پائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں