اوورسیز پاکستانی سوشل میڈیا کی وزیر اعظم سے ملاقات کی خواہش۔۔۔سوشل میڈیا کے نو آموز صحافیوں کی وزیر اعظم سے ملاقات! 88

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سولہ صحافیوں کی سبکی!

سیرینا ہوٹل اسلام اباد میں ناشتے کی ٹیبل پر حکومت مخالف کچھ صحافیوں کو شاہد خاقان عباسی نے مدعو کیا اور ان کو ٹاسک دیا گیا کہ وہ پیمرا کی طرف سے نواز شریف کی تقریر نہ دکھائے جانے پر پابندی کو کسی طریقے سے عدالت میں چیلنج کریں۔ کافی بحث کے بعد طے ہوا کہ سلمان اکرم راجہ، ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی جائے گی جو کہ آئین پاکستان میں دیئے گئے اظہار رائے کے بنیادی حق کو چیلنج کریں گے۔ لیکن اس رٹ پٹیشن میں کسی خاص شخصیت کا نام نہیں لیا جائے گا۔
جن سینئر صحافیوں نے اس رٹ پٹیشن پر دستخط کئے ان میں نجم سیٹھی، ضیاءالدین، نسیم زہرہ، عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی، منیزے جہانگیر، سلیم صافی، منصور علی خان وغیرہ شامل ہیں۔
درج بالا تمام عمران خان مخالف مافیا نے موقف اختیار کیا کہ کسی بھی شخص کو ٹی وی پر انٹرویو یا تقریر کرنے سے نہیں روکا جا سکتا کیوں کہ یہ آئین پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ یہ تمام کارروائی شریف فیملی کو خوش کرنے کے لئے کی جارہی تھی اور عالمی سطح پر میڈیا میں کوریج لینے کے لئے یہ گھناﺅنی سازش رچائی گئی۔ جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے اس وقت سے لے کر آج تک صحافیوں نے ایسی اجتماعی خودکشی نہیں کی۔ ان مافیا صحافیوں کی یہ بھونڈی حرکت صحافت کے پیشے پر کلنک کا ٹیکہ ثابت ہوا کیوں کہ اس پٹیشن کے ذریعے براہ راست نواز شریف اینڈ کمپنی پر تقریر کی جو پابندی لگائی گئی ہے اس کا فائدہ پہنچانے کی ناکام کوشش کی گئی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جب پٹیشنرز کے وکیل سے دریافت کیا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کھل کر بیان کریں؟ تو اس کی کوئی دلیل موصوف کے پاس نہیں تھی۔ عدالت نے کہا کہ کسی مجرم، مفرور اور اشتہاری کو بنیادی انسانی حقوق نہیں دیئے جا سکتے اگر کسی خاص شخصیت کو یہ چھوٹ دے دی جائے تو پھر ہر مجرم اور اشتہاری کو اجازت دینی پڑے گی۔ عدالت نے پیمرا کی طرف سے پابندی کو قانونی قرار دیا اور اکیس منٹ کی عدالتی کارروائی میں رٹ پٹیشن کی سماعت دسمبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی گئی اور کہا گیا کہ عدالت کو اپنے نقطہ کے حق میں مطمئن کریں۔ اسی روز اکثر ٹی وی چینلز اور اخبارات نے صحافیوں کی طرف سے بطور پارٹی بن کر عدالت جانے کو سخت ناپسند کیا اور ان پر شدید تنقید کی گئی اور یوٹیوب چینل کے لوگوں نے تو ایک ایک پٹیشنر صحافی کے بخیے ادھیڑ دیئے۔ اتنی شدید بے عزتی سے دل برداشتہ ہو کر دو تین خواتین اینکر نے ٹوئیٹ کیا کہ ہم سے رٹ پٹیشن پر دستخط کروائے گئے ہیں لیکن ہمیں پڑھایا نہیں گیا لہذا ہم اس رٹ پٹیشن سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔
اس سازش کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ نواز شریف نا اہل، مجرم، مفرور اور اشتہاری قرار پا چکا ہے اور اس سے بڑھ کر عدالت اور حکومت سے جھوٹ بول کر اور فراڈ کرکے علاج کے بہانے لندن جا بیٹھا ہے۔ نواز شریف کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر باہر علاج کروانے کی مہلت دی گئی تھی جو کہ صرف آٹھ ہفتوں کی تھی اس پر عمران خان حکومت نے شریف فیملی پر احسان کرتے ہوئے ای سی ایل سے نام نکال دیا لیکن یہ سب کچھ اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد ہوا۔
لاہور ہائی کورٹ کے ڈبل بنچ نے جو کہ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس باقر نقوی پر مشتمل تھا، نے صرف پچاس روپے کے اسٹام پیپر پر شہباز شریف سے گارنٹی لے کر ضمانت دے دی جب کہ حکومت پاکستان اس بات پر مضر تھی کہ ان سے سات ارب روپے کے شورٹی بانڈ لئے جائیں اور یہ رقم عدالت کی طرف سے سزا کے ساتھ جرمانے کے طور پر نواز شریف کو سنائی گئی تھی مگر بدقسمتی سے لاہور ہائی کورٹ کے مذکورہ ججز نے حکومتی تجویز مسترد کردی۔
اس ساری کارروائی کے دو ذمہ داران ہیں ایک لاہور ہائی کورٹ کے یہ ججز اور دوسرے شہباز شریف۔ حکومت یا چیف جسٹس آف پاکستان کو ان دونوں ججز کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرنا چاہئے اور پوچھنا چاہئے کہ حکومتی سات ارب روپے کی تجویز رد کرکے آپ نے کس قانون کے تحت ضمانت منظور کی اور اگر کی تو مجرم کے واپس نہ آنے پر کیا کارروائی عمل میں لائی گئی؟ کیا ضمانتی یعنی شہباز شریف کو بلایا گیا اور پوچھا گیا کہ آپ نے نواز شریف کی ضمانت دی تھی، انہیں پیش کرو ورنہ تم اس کی سزا بھگتو گے۔
ہمارے ملک کی عدلیہ اور اشرافیہ نے آئین اور قانون کو مذاق سمجھا ہوا ہے، جب جہاں چاہتے ہیں اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ امیر اور غریب کے لئے قانون کو ایک جیسا نافذ کرنا ہو گا تاکہ کسی سے زیادتی نہ ہو اور مجرم سے کوئی رعایت نہ برتی جائے۔ اب نواز شریف نے لندن سے فوج، عدلیہ اور حکومت مخالف تقریروں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جسے سوشل میڈیا پر تو دیکھا جا سکتا ہے مگر کسی مین اسٹریم میڈیا پر نشر نہیں کیا جاسکتا۔
جس کی عمران خان مخالف صحافتی لابی کو بہت تکلیف ہے اور وہ حکومت کو تنقید کرنے اور نقصان پہچانے کا کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اس گرینڈ صحافتی مافیا کے پیچھے میر شکیل الرحمن کی ہدایات شامل ہیں وہ بھی کافی عرصہ سے نیب کی تحویل میں ہے۔ ان صحافیوں کا ان داتا میر شکیل الرحمن ہے، سزا یافتہ مجرم نواز شریف اور ملزم میر شکیل الرحمن جو کہ اپنے آپ کو ناقابل تسخیر سمجھتے تھے، بے بس ہو چکے ہیں۔ ان دونوں کی طاقت کا اندازہ عام قاری نہیں لگا سکتا۔ میر شکیل الرحمن تو بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ ایک کاروباری آدمی ہے، اس کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن بہت سارے نامور صحافیوں کو اس کی چراگاہ سے کھانے کو ملتا ہے یہ اپنے آپ کو حکومت سے اوپر سمجھتا تھا، انتہائی متکبر اور حریص شخصیت کا مالک ہے۔
نواز شریف کی حکومتوں کو دوام بخشنے میں جہاں اسٹیبلشمنٹ کا اہم ہاتھ رہا ہے وہیں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، لفافہ صحافی کی ٹرم بھی نواز شریف کے دور حکومت میں ہی متعارف کروائی گئی تھی۔ صحافیوں کو لالچ دے کر اپنی مرضی کے انٹرویو کروائے جاتے اور خبریں لگوائی جاتیں۔ میڈیا کے ان مداری گروں کو بیس سال پہلے دیکھیں تو ان کی جیبیں خالی ہوتی تھیں۔ اور طرز زندگی انتہائی پسماندہ لیکن نواز شریف نے ان کے منہ کو ایسا حرام لگایا کہ اب یہ بدمعاشی سے جگا ٹیکس مانگتے ہیں۔ جھوٹی خبریں لگا کر سیاست دانوں کو بدنام کرتے ہیں، کہتے ہیں پاکستان میں پولیس ہر ایک سے رشوت لے لیتی ہے مگر ایس ایچ او اپنی بیٹ کے کرائم رپورٹر کو رشوت دے کر خبریں لگواتا ہے۔ صحافت عبادت نہیں رہی پیشہ بن گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں