بال جسٹس فائز عیسیٰ کے کورٹ میں 230

”اسلام اور پاکستان کے نام پر الیکشن جیتنے والے“

اونٹاریو میں سیاسی ہلچل کا آغاز ہو چکا ہے اور وفاقی اور صوبائی سطح پر امیدوار سامنے آچکے ہیں، اونٹاریو لبرل پارٹی کی ریس کے لئے ممبرشپ ڈرائیو اختتام پذیر ہو چکی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایسے ممبر پارلیمنٹ اور ایسے باریش افراد جو الیکشن میں اپنے امیدوار کو کامیاب کرانے کے لئے اسلام اور پاکستان کے نام پر ووٹ مانگتے رہے، وہ آج ایک مسلمان امیدوار کو سپورٹ کرنے سے انکاری ہیں اور خاموشی سے ایک مسلمان امیدوار کے مقابلے میں کھڑے ہونے والے دیگر امیدواروں کو منہ چھپا کر سپورٹ کررہے ہیں مگر انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کل پھر الیکشن کے موقع پر کس طرح وہ کمیونٹی کے سامنے مسلمان اور پاکستانی ہونے کا بھاشن دیں گے۔ کمیونٹی یاد رکھے اور آئندہ آنے والے الیکشن میں ایسے پاکستانی نژاد کینیڈین نمائندوں سے دو سوال ضرور کرے کہ انہوں نے اونٹاریو لبرل پارٹی کے لئے کسے سپورٹ کیا؟ اور دوسرا اپنے سابقہ دور میں ایک ممبر پارلیمنٹ کی حیثیت سے انہوں نے کتنے بلز پاس کرائے اور کیا کیا Achievements کیں؟
یاد رکھئیے یہ پاکستان نہیں ہے، یہاں کی کمیونٹی ان امیدواروں کو سر پر بٹھانے کے بجائے ان کی پرفارمنس پر بات کرے۔ اگر کچھ کارکردگی ہے تو اس پر انہیں سراہا جائے اور اگر کوئی کمی ہے تو اس کو بھی ببانگ دہل کہا جائے۔ یہاں زبان اور قبیلہ کے بنیادوں پر میڈیا اور کمیونٹی بھی سوال اٹھانے سے گریزاں ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے۔ ممبر پارلیمنٹس بھی اپنی کمیونٹی کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے Photo Session سرٹیفکیٹس اور پن بانٹ کر دوبارہ انتخابات میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور کمیونٹی نہ صرف ان کے فنڈ ریزنگ کرتی ہے بلکہ انہیں سپورٹ بھی کرتی ہے۔
خدارا! اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھیں وگرنہ آپ کی آنے والی نسلیں بھی عصبیت کی بھینٹ چڑھا دی جائیں گی، نہ صرف لبرل پارٹی بلکہ کنزرویٹو پارٹی میں بھی کچھ گھس بیٹھیے فعال ہو چکے ہیں اور اپنی سدھائی ہوئی اولادوں کو جن کی ذہنیت بھی پاکستانی خطوط پر استوار کی گئی ہے پارٹی ٹکٹ کے لئے تگ و دو کررہے ہیں، کچھ اس میں ایسے بھی ہیں جو گزشتہ الیکشن میں لبرل پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے تھے مگر اس بار حالات بدلتے دیکھ کر اپنا قبلہ بھی تبدیل کر بیٹھے ہیں اور کنزرویٹو پارٹی کی جانب دوڑ پڑے ہیں۔ ایسے تمام لوگوں کو پہچانیے اور فیصلہ ذمہ داری سے کیجئے اور میڈیا کے نمائندے بھی جنہیں کمیونٹی اچھی طرح پہچان چکی ہے، فعال ہو چکے ہیں اور دونوں پارٹیوں سے اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے سرگرداں ہیں، یاد رکھئیے ان کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے، انہیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ کمیونٹی کے لئے کون بہتر امیدوار ہو سکتا ہے۔ یہاں پرانی دوستیوں کی بنیادوں پر ٹکٹوں کی تقسیم، پیسہ اور عہدوں کی تقسیم کھلے عام ہو رہی ہے۔ لہذا اپنے محلوں میں کمیٹیاں بنائیے، اچھے امیدوار تلاش کیجئے اور مفاد پرستوں کو ناکام بنائیے۔ یاد رکھئیے آپ کا گھر میں بیٹھ کر تماشہ دیکھنا آپ کے بچوں کے مستقبل کو اس ملک میں بھی مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔ بہادری کے ساتھ منہ پر بولنا، لکھنا اور بات کرنا سیکھئیے اور اپنے حق کے لئے فعال کردار ادا کیجئے۔
کینیڈا میں رہتے ہوئے بھی اگر زبان اور قبیلوں کی بنیادوں پر پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کی گئی یا اقربا پروری کو فروغ دیا گیا تو پھر کمیونٹی کے لئے یہی بہتر ہو گا کہ وہ گورے کینیڈین کو سپورٹ کریں اور اس دھوکہ میں نہ آئیں کہ امیدوار ہمارا مسلمان اور پاکستانی بھائی ہے۔
میرے اس کالم سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معافی کا خواستگار ہوں مگر سچ کہنا اور لکھنا میری ذمہ داری ہے۔ اجتماعی مفادات کے بجائے ذاتی مفادات کی بھینٹ کمیونٹی کو چڑھانا نہایت مکروہ فعل ہے جس سے ہمیں باز رہنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں