114

اس وقت کوئی کینیڈا نہیں جا سکتا: کینیڈین ہائی کمشنر وینڈی گلمور

‘کووڈ-19 کی وجہ سے اس وقت دنیا کے کسی بھی ملک سے کوئی کینیڈا نہیں جاسکتا۔ سوائے ان کے جو وہاں کے شہری ہیں یا مستقل رہائشی۔ لیکن سیاحتی ویزہ کسی کو نہیں ملے گا۔’

‘لیکن جب کرونا ختم ہو گا تو کینیڈین حکومت امیگریشن کے عمل کو جاری رکھے گی۔ ان لوگوں کے لیے جو وہاں جا کر رہنا، کام کرنا یا تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔’ یہ کہنا ہے وینڈی گلمورکا جو پاکستان میں کینیڈین ہائی کمشنر ہیں۔ ایک خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وینڈی گلمور کا کہنا تھا کہ کینیڈین امیگریشن یا ویزا کی درخواست کے حوالے سے یہ بات بہت اہم ہے کہ لوگوں کو یہ آگاہی ہو کہ ویزا کی درخواست کو کیسے پر کرنا ہے۔

‘وہ اسے خود بھریں اور تمام ضروری معلومات فراہم کریں۔ ہمیں پاکستان سمیت دیگر ممالک میں یہ چیلنج درپیش ہے کہ لوگ ویزا کے لیے غلط معلومات پر مبنی درخواستیں دائر کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان درخواستوں کی جانچ پڑتال کا عمل سخت ہو جاتا ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ صرف وہ لوگ کینیڈا جائیں جو جائز طریقے سے وہاں جا کر رہنا، کام کرنا یا تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔’

کینیڈا میں میڈیا کتنا آزاد ہے؟

اس سوال کے جواب میں وینڈی گلمور کا کہنا تھا: ‘اظہار رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے جو کینیڈا کے آئین کا اور ہمارے حق آزادی کے چارٹر کا حصہ ہے۔ اسی لیے کینیڈا کے میڈیا کو آزادی حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مسئلے کو جیسے بھی یا جہاں سےبھی چاہیں رپورٹ کریں۔ بہت سے معاشرے قانونی طور پر اس بات کے پابند ہیں کہ وہ سچی اور درست خبریں لوگوں تک پہنچائیں چاہے وہ ان کی اپنی رائے ہو یا پھر کسی واقعے کی رپورٹنگ۔ کینیڈا میں اسے ہماری جمہوریت کا لازمی حصہ تصور کیا جاتا ہے۔’

کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستانی میڈیا آزاد ہے؟

‘میرے خیال میں دیگر ترقی پزیر ممالک کی طرح پاکستان کوبھی میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہاں متنوع آوازیں اٹھتی ہیں، یقیناً کچھ مسائل ایسے ہیں جن سے فکر لاحق ہوتی ہے۔ اس میں سے ایک مسئلہ بڑی تعداد میں صحافیوں پر حملوں کا ہے۔ ان میں سے بہت سے حملے خواتین صحافیوں پر ہوئے۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب یہاں صنفی تشدد کے خلاف 16 روزہ سرگرمی کا آغاز ہوا ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ خواتین صحافیوں کو اپنے مرد ساتھیوں کی نسبت مختلف اور وحشیانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔’

کیا کینیڈین حکومت پاکستانی حکمرانوں پر زور ڈال سکتی ہے کہ یہاں آزادی صحافت کو یقینی بنایا جائے؟

کینیڈین ہائی کمشنر کے خیال میں: ‘کینیڈین حکومت پاکستان کے اندرونی معاملات یا حکومتی فیصلوں میں مداخلت نہیں کر سکتی۔’

‘ہم دنیا کے جن ممالک میں بھی کام کرتے ہیں وہاں ہم انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی منشور کی حمایت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یو این چارٹر میں موجود آزدی اظہار، مذہبی آزادی کسی بھی قسم کے جنسی امتیاز کا خاتمہ وغیرہ وہ بنیادی اصول ہیں جن کی کینیڈا اور پاکستان سمیت کئی ممالک حمایت کرتے ہیں۔’

‘اس وقت پاکستان میں ہم بطور کینیڈین حکومت بہت سارے بین الاقوامی پارٹنرز کے ساتھ مل کر میڈیا کی آزادی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ 37 ممالک کا اشتراک ہے جو آزادی صحافت کے لیے بنا ہے اور اس کی سربراہی برطانیہ اور کینیڈا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ ہم اپنی آوازیں ان آوازوں میں ملا رہے ہیں جو آزادی صحافت کے لیے اٹھتی ہیں۔’

‘جب صحافیوں پر حملے ہوتے ہیں اس وقت جب وہ کوئی واقعہ یا سچائی رپورٹ کر رہے ہوں، خاص طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی یا کسی اور قسم کی خلاف ورزی،

تو ایسی صورت میں ہم صحافیوں کی حفاظت کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔ یہ ہم پاکستان سمیت دیگر ممالک کے لیے بھی کرتے ہیں۔’

پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت کا حجم کیا ہے، اسے بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟

‘ہم خوش قسمت ہیں کہ پاکستان میں کینیڈین شہریوں کی اور کینیڈا میں اس سے بھی زیادہ پاکستانیوں کی تعداد موجود ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان بہترین تعلقات کی بنیاد ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت ایک ارب ڈالر سے زائد کی تجارت کی جا رہی ہے جس کا کچھ زیادہ فائدہ کینیڈا کو ہو رہا ہے۔ لیکن دونوں ممالک، ہم اور حکومت پاکستان میں ہمارےساتھی مل کرکام کر رہے ہیں یہ دیکھنے کے لیے کہ اس دو طرفہ تجارت کو مزید کس طرح بڑھایا جاسکتا ہے۔’

کشمیر کے تنازع کے بعد آپ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناو¿ کو کس نظر سے دیکھتی ہیں؟

‘کینیڈا کے پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ کینیڈا میں بڑی تعداد میں پاکستانی اور بھارتی مقیم ہیں۔ یہ نہ صرف کینیڈا بلکہ بھارت اور پاکستان کے مفاد میں بھی ہے کہ اس مسئلے کا حل نکالا جائے

یہ بنیادی مسئلہ ہے جو پاکستان اور بھارت کو خود ہی حل کرنا ہوگا۔’

آپ دو برس سے پاکستان میں مقیم ہیں، پاکستان میں سب سے زیادہ کیا اچھا لگا؟

وینڈی گلمور کو پاکستان پسند آیا ان کے خیال میں پاکستان کے بارے میں جاننا بہترین تجربہ ہے جوانہوں نے یہاں رہتے ہوئے کیا۔ ‘مجھے گھومنا پھرنا، پہاڑ، ہائیکنگ، ٹریکنگ پسند ہے۔ میں نے پاکستان کے شمالی علاقوں کی عمدہ سیر کی۔ اب میں آگے دیکھ رہی ہوں کہ میں کب پورے پاکستان کی سیر کرتی ہوں۔ خاص طور پر جنوبی علاقے، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے وہ علاقے جہاں گھومنا محفوظ ہے۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں