Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 113

اعلیٰ و افضل

سب سے افضل ذات الٰہی، پھر ذات نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پھر درجہ بدرجہ ذات صحابہ کرامؓ اور آخر میں عام انسانوں میں افضلیت کے درجات جس کے لئے ہر وقت ایک عجیب دوڑ لگی رہتی ہے۔ افضل ہونے کی یہ خواہش اور یہ مادہ تمام مخلوقات انسان، جن و ملائیکہ میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ایک دوسرے سے افضل ہونے کی جدوجہد میں وہ حرکت میں رہیں۔ افضلیت کی یہ خواہش ہمارے علم کے مطابق سب سے پہلے اس وقت علم میں آئی جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو تخلیق کرنے کا اعلان کیا اور فرشتوں نے یہ شکوہ کیا کہ ہم شب و روز تیری عبادت میں مصروف رہتے ہیں اور تو ایسی مخلوق بنانے جارہا ہے جس کو ہم پر فوقیت ہو۔ آخر ہم میں یا ہماری عبادت میں کیا کمی رہ گئی کہ ہم سے افضل مخلوق بنائی جائے۔ یہ شکایت نہیں تھی نا ہی انسان سے رقابت تھی بلکہ یہ ایک شکوہ تھا کہ شاید ہم اپنے رب کو خوش نا کر سکے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کو مطمئن کردیا کہ تمہاری عبادتوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں تو فرشتوں نے رب کی تعمیل میں سر جھکا دیا لیکن شکایت اور رقابت دراصل ابلیس کو پیدا ہوئی جو کہ تمام جناتوں میں افضل تھا، اسے گوارہ نا ہوا کہ اس سے افضل بھی کوئی مخلوق تخلیق کی جائے لہذا اس نے انسان کو افضل ماننے سے انکار کر دیا لہذا احکام خلاف ورزی پر سزا کا مرتکب ٹھہرا اور ہمیشہ کے لئے رب کی نگاہوں سے دور ہو گیا۔ افضل ہونے کی خواہش سے کوئی بھی عاری نہیں ہے۔ چاہے کوئی انسان ہو، فرشتہ یا جانور، افضل ہونا بھی مختلف معانی میں آتا ہے، کوئی جسمانی طاقت میں افضل ہوتا ہے جو کہ عموماً جانوروں میں ہی زیادہ پایا جاتا ہے، لیکن انسانوں میں بھی جسمانی طاقت میں افضل ہونے کی خواہش موجود ہے۔ یوں تو جانوروں کی قبیل میں انسان بھی آتا ہے لیکن عام طور پر ہم نے اس لفظ کو خود سے جدا رکھا ہے اور ایک مخصوص مخلوق کو جانور کا نام دے دیا ہے اور انسان اور جانور کو ایک دوسرے سے علیحدہ کردیا ہے۔ شاید اپنے کاموں میں محنت اور عبادت میں بے زبان جانوروں سے افضل ہونے میں استعمال کیا جا سکے لیکن فی زمانہ انسان دوسروں سے افضل ہونے کے لئے ہر ناجائز طریقہ استعمال کرتا ہے، کسی نے نفرت کے بارے میں یہ سوال کیا کہ جب نفرت بری چیز ہے تو اللہ تعالیٰ نے انسان میں نفرت کا مادہ کیوں پیدا کیا۔ جہاں تک میرے علم میں تھا، میں نے جواب دیا کہ نفرت بری چیز نہیں ہے بلکہ اس کے غلط استعمال سے اسے برا بنا دیا گیا ہے۔ نفرت کا مادہ تو اس لئے دیا گیا تھا کہ اس سے اچھے اور برے کی تمیز کی جاسکے۔ ہر برے کام، ہر بری بات اور برے لوگوں سے نفرت کرنے پر اچھائی اور برائی میں فرق معلوم ہوگا لیکن یہاں لوگوں نے مفلسی، امارت، ذات پات، علاقے اور زبان کے فرق میں نفرت کی آبیاری کی ہے۔ اسی طرح سے افضل ہونے کے لئے نفرتوں کے بیج بوئے جاتے ہیں۔ سیاست کے میدان کو ہی دیکھ لیں۔ ہمارے یہ سیاست ک کھلاڑی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے اور انے آپ کو افضل ظاہر کرنے کے لئے کیا کیا ہتھکنڈے استعمال نہیں کرتے۔ کوئی بھی ایسا سیاست دان نہیں بچا ہے جس کا پورا کچھا چٹھا ٹی وی پر ان ہی کے سیاسی مخالف کے ذریعے عوام کے سامنے نا آیا ہو۔ باقاعدہ ثبوت، تصاویر اور دستاویزات کے ساتھ الزامات کی بوچھاڑ ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ گھریلو زندگی پر بھی بے ہودہ تبصرے کئے جاتے ہیں۔ لیکن مجال ہے کسی کے سر پر جوں بھی رینگ جائے، اکھاڑے کے پہلوانوں میں اور ہماری سیاست کے کھلاڑیوں میں کچھ بنیادی باتیں مشترک ہیں۔ پہلوان اکھاڑے میں رہتے ہیں ان کا کام کھانا پینا پہلوانی زور آزمائی کرنا ہوتا ہے اسی طرح سیاست دان ہے، کھانا پینا اور سیاست میں زور آزمائی کرنا۔ اپنے آپ کو افضل ثابت کرنے کے لئے ہر وقت سیاست کے میدان میں چوکس رہتے ہیں۔ ورنہ غیر سیاسی ہونے کا داغ لگ جاتا ہے۔ اپنے آپ کو کامیاب بنانے کے لئے شہرت حاصل کرنے کے لئے اور افضل بنانے کے لئے جھوٹ کا سہارا لینے کے بجائے اگر اپنے عمل سے اپنے کردار سے ثابت کیا جائے اور انسان دوسروں کی نظروں میں خود ہی افضل ہو جاتا ہے ورنہ نواز اور زرداری کی طرح ذلیل بھی ہو جاتا ہے۔ امریکہ جو کہ ایک طاقتور ملک ہے اور اپنے آپ کو جمہوریت کا علمبردار کہتا ہے۔ گوروں کو کالوں پر فوقیت حاصل ہے۔ یعنی گورے اپنے آپ کو افضل سمجھتے ہیں لیکن وہاں ایسے بھی کالے ہیں جو اپنی محنت اپنی قابلیت کردار اور عمل سے اپنے آپ کو کئی گوروں سے افضل بنا لیتے ہیں۔ امریکہ کے صدر اوباما کی مثال سامنے ہے۔ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک کالا امریکہ کا صدر بن سکتا ہے۔ وہ ایک عام سا وکیل تھا۔ بعد میں ریاست الی نائے کا سینیٹر بنا اس نے اپنے کردار، اپنی محنت اور قابلیت سے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ امریکہ کا صدر بننے کے لائق ہے اور صدر بن کر ثابت بھی کردیا۔ جھوٹ، بہتان کے ذریعے دوسروں کو نیچا دکھانا اور اپنے آپ کو افضل ثابت کرنا یہ مسئلہ صرف سیاست میں ہی نہیں، زندگی کے ہر شعبے میں ہے۔ یہاں تک کہ علم و ادب جس کی لطافت ہر ذی روح کو اپنی طرف راغب کرتی ہے۔ ادیب و شعراءحضرات کی ایک ایسی قبیل سے بھی واسطہ پڑ جاتا ہے جو علم و ادب کے ایسے دائرے میں جو کہ انہوں نے خود تخلیق کیا ہوتا ہے۔ کسی نئے کی آمد پر خوف زدہ ہو جاتی ہے لہذا حوصلہ شکنی اور بہتان تراشی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کیوں کہ ہم نے افضل رہنا ہے، کوئی ہم سے بڑھ نا جائے۔ اردو ادب کی خدمت میں کوشاں بہت سے چھوٹے چھوٹے گروپ ہمارے سامنے ہیں۔ جو چار چار آدمیوں کی محفل سجا کر اپنا کلام یا دکھڑا سناتے ہیں اور اپنے تئیں یہ سوچ کر خوش ہو جاتے ہیں کہ یہ محفل جو آج سجی ہے اس محفل میں ہے کوئی ہم سا۔۔۔
یہی حال مذہب میں کیا ہوا ہے، اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد لئے بیٹھے ہیں، ایک ہمارا فرقہ ہے جو سچا مسلمان ہے، ہم سب سے افضل ہیں، اسی طرح سے کاروبار میں ہے، ریسٹورنٹ والا، گراسری اسٹور والا، گوشت والا، سب کا یہ دعویٰ ہے کہ صرف وہ ہی ذبیحہ اور حلال چیزیں بیچ رہا ہے اور مارکیٹ میں کوئی بھی نہیں بیچ رہا۔ ٹریول ایجنٹ ڈراتا رہتا ہے کہ کسی اور سے حج یا عمرے کا پیکیج لیا تو حج اور عمرے سے بھی رہ جاﺅں گے۔ اپنے ملک جانے کے لئے ہمارے علاوہ کسی سے ٹکٹ لیا تو آدھے راستے کے بعد سیٹ نہیں ملے گی۔ ہر شخص کا یہ دعویٰ ہے کہ میں دوسروں سے افضل ہوں۔ دل کو وسیع کریں جو افضل ہے اسے مانیں سب سے پہلے خدا کی ذات پھر اس کے نبی کی ذات اور اس کے بعد جو ہمارے درمیان کوئی شخص باکردار ہے۔ علم و ادب میں، رتبے میں، ہم سے افضل ہے تو تسلیم کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیوں کہ رب کی بھی یہی خواہش ہے کہ جو افضل ہے اسے مانو اور افضل بننے کے لئے اشتہار کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خلوص دل، سچائی سے محنت کرو، ثابت کرو کہ تم اپنے کردار میں، علم میں، رتبے میں، اس مقام پر ہو کہ لوگ تمہیں افضل مانیں، زندگی میں سکون آ جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں