اب کی باری میاں صاحب کی باری 94

افراد، واقعات اور خیالات

بے نظیر کے دور حکومت میں سندھ کی وزارت اعلیٰ بھی ان کی پارٹی کے پاس تھی جو کہ پورے سندھ کے مالک سمجھے جاتے تھے۔ ان کے خلاف صرف ایک طبقہ ہی کھڑا ہوا تھا جن کا تعلق بالائی سندھ سے تھا اس طرح سندھ کے شہری علاقوں میں اقتدار کی کشمکش اپنے عروج پر تھی اور یہ کشمکش شدید کشیدگی میں تبدیل ہو گئی جس کی وجہ سے کراچی میں دونوں گروپوں میں خون ریزی کی حد تک حالات چلے گئے تھے۔ دونوں طرف سے جانی نقصانات بھی بڑھتے چلے گئے۔ تشدد رفتہ رفتہ بڑھتا رہا، جانی نقصان کی تعداد بھی بڑھتی گئی کہ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے کارکنوں کو بڑی تعداد میں اغواءکرکے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ وہ اس کے لئے ڈرل مشینوں اور قیمہ بنانے والے مہلک ہتھیاروں سے ایک دوسرے کے عسکری ونگ کے عناصر کے اعضا کو بے دردی سے مہلک زخم پہنچا دیتے۔ اس وقت کراچی میں ایم کیو ایم کی بہت مضبوط گرفت تھی ان کے مقابلے میں بھی کراچی سے تعلق رکھنے والے نجیب اور بلال شیخ ان کا سامنہ کررہے تھے۔ جن کا تعلق پی پی پی سے تھا۔ اس طرح دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی بڑی تعداد کو اغواءکرکے بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
کراچی شہر اس وقت دو مسلح گروہوں کے لئے جنگ کا میدان بن چکا تھا۔ پاکستان کے ایک صحافی اور دانشور حسین حقانی اپنی کتابوں کے حوالے سے ہمارے ملک میں متنازعہ حیثیت کے حامل سمجھتے جاتے ہیں انہوں نے مختلف مواقعوں پر بیان کیا ہے کہ ہمارے لوگ ایک طرح کی سوچ کے حامل ہوتے جارہے ہیں، وہ اکثیرت میں افراد پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں یا کبھی کبھی واقعات کے حوالے سے بھی اس مباحثہ میں ایک دوسرے پر اپنے خیالات مسلط کرنے کی کوششیں کرتے ہیں اور بہت کم افراد خیالات فکری گفتگو کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔
اب بات ہوتی ہے افراد پر۔ کراچی میں جب ہنگامہ آرائی عروج پر تھی اس موقع پر پاک فوج کے کور کمانڈر جنرل آصف نواز جنجوعہ تھے۔ آصف نواز جنجوعہ بعد میں پاکستان فون کے سربراہ بھی بن چکے تھے۔ آصف نواز جنجوعہ کے خاندانی پس منظر بھی فوج سے رہا ان کا خاندان نسل در نسل فوج میں خدمات انجام دیتا رہا۔ ان کے ایک بھائی جو کہ شجاع نواز امریکہ میں رہائش رکھتے ہیں وہ بین الاقوامی شہرت کے حامل تھے۔ ان کی شہرت کی وجہ ان کی تحریر کی ہوئی کتابیں تھیں جن کو دنیا بھر میں بہت پذیرائی حاصل تھی اس طرح حسین حقانی کی شخصیت اور کتابوں کو بھی بین الاقوامی پذیرائی حاصل تھی لیکن ان کی کتابوں کو بھی شجاع نواز کی تحریر کی گئی کتابوں کی طرح پاکستان میں پابندی کا سامنا تھا۔ واقعہ یہ تھا جنرل آصف نواز جو کہ کراچی کے کور کمانڈر کی حیثیت سے اس کے ہنگامہ خیز زمانے میں ان کا فکر اخباروں میں اس وقت آیا جب کراچی کے دونوں فریقوں کے افراد کا ان کی کور میں تبادلہ ہوا۔ اور یوں ہنگامہ آرائی میں بڑی حد تک کمی آئی۔ بعد میں آصف نواز جب وہ فوج میں کمانڈر انچیف بنے تھے پھر کچھ ہی عرصہ بعد یک بیک دوران ورزش حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے موت کا شکار ہو گئے۔
یہ واقعہ بھی پاکستان کی عسکری تاریخ میںبہت منفرد حیثیت کا حامل تھا۔ اب بات ہونی چاہئے خیالات طرز فکر کی۔ نظریات کی بالخصوص شجاع نواز کی جن کی عسکری تاریخ بھی اپنے بھائی جنرل آصف نواز کی طرح نسل در نسل پیشہ سپاہ گری تھا۔ ان کی کتابیں دنیا بھر میں بہت مقبولیت حاصل کر چکی تھیں۔ پاکستان میں ان کی کتابوں پر پابندی رہی۔ پاکستان میں یوں تو کتابیں پڑھنے کا رواج تعلیمی معیار کے ساتھ کم سے کم تر ہوتا جارہا ہے۔ خاص طور پر انگلش کی کتابوں کے قارئین کو شازونادر ہی ہیں۔ ان پر بھی اس طرح کی کتابوں کو پڑھنے پر پابندی عائد کردی جاتی ہے، اردو میں چھپنے والی کتابوں کو بیرون ملک کوئی خاص حیثیت حاصل نہیں ہوتی اس میں بھی یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ کوئی ریاست کی پالیسیوں سے انحراف نہ کردے۔
خیال یہ ہی کیا جاتا ہے کہ بیرون ممالک کے رہنے والے پاکستانیوں کے خیالات ریاستی پالیسیوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ شجاع نواز جنجوعہ کے خیالات پر جاننے کیلئے ان کی شخصیت کے بارے میں مختصراً یہ ہی کہا جاتا ہے کہ وہ امریکہ کے ایک ادارے تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے ساﺅتھ ایشین سینٹر سے منسلک ہیں ان کی کتاب ”دا بیٹل فار پاکستان“ ملک کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں کافی زیربحث رہی اس کی بنیادی وجہ کتاب کا مواد ہے۔ اس کتاب کی رونمائی کی تقریبات جو کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں منعقد ہونی تھیں ان کی منسوخی ہے جس کی منسوخی عسکری حلقوں کے باعث ہوئی۔ جنہوں نے پہلے تو ان سے اس کے منسوخ کرنے کا کہا پھر انہوں نے منتظمین کو مجبور کرکے اپنا مقصد حاصل کیا۔ حالانکہ اس کتاب کے تحریر کرنے میں خود فوج کے سابق سربراہان جنرل پرویز مشرف، جنرل اشفاق پرویز کیانی، جنرل جہانگیر کرامت، جنرل راحیل شریف اور موجودہ سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے بالخصوص تعاون کے مشکور رہے ہیں تو اس کتاب میں ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے عسکری حلقوں نے رونمائی میں رکاوٹ پیدا کی؟
ان کی اب بھی خواہش یہی ہے کہ اس کتاب کی تقریبات مستقبل میں ضرور ہوں۔ اس کتاب کا محور یہ ہی تھا بالخصوص 2008ءسے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے بارے میں ہے۔ اس کتاب کا اصل مقصد ان مسائل کی آگاہی میں اضافہ تھا اور پاکستان کی ترقی میں ایسے حالات کی نشاندہی کرنا تھا جن کی مدد سے پاکستان اپنے مقاصد کو حاصل کر سکے۔
مصنف نے اس کتاب میں امریکی عسکری اور سفارتی قیادت کی حکمت عملی اور اس کی خامیوں پر بھی نشاندہی کی ہے۔ جن میں وہ پاکستان کو افغان پالیسیوں میں ثانوی حیثیت دیتے تھے۔ آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام نے عمران خان کے حکومت مخالف دھرنے کے انعقاد میں بہت مدد کی۔ امریکہ کے سابق سفیر رچرڈ اولسس نے بعد میں بتایا کہ ستمبر 2014ءمیں ظہیر الاسلامی فوجی بغاوت کا منصوبہ بنا رہے تھے مگر فوجی سربراہ نے ان کے عہدے سے ہٹا کر منصوبہ ناکام بنا دیا۔ ایسا ہی ایک واقعہ صفحہ 34 پر بیان کیا جس میں وکلاءتحریک کے دوران بھی فوجی بغاوت کا موقع ملنے کے باوجود اس وقت کے فوج کے سربراہ نے اس سے گریز کیا۔ اس ہی طرح اسامہ بن لادن کے خلاف 2011ءمیں امریکہ کی جانب سے کئے گئے آپریشن کے بارے میں 37 صفحات پر مبنی باب فرام تورا بورا ٹو پٹھان گلی کے نام سے لکھتے ہوئے تفصیلی طور پر اس آپریشن، اس کے محرکات کا اسامہ تک پہنچنے کے لئے پاکستانی اور امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے کی گئی مختلف کارروائیوں کا ذکر کیا ہے۔ جس کے بارے میں سابق آئی ایس آئی کے سربراہ اسد درانی نے انڈین خفیہ ادارے کے سربراہ اے ایس دلت کے ہمراہ گفتگو پر مبنی کتاب دا اسپائی کرانکینلز میں بتایا کہ امریکیوں کو اسامہ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں میں ایک سابق فوجی افسر بھی تھا جو اب پاکستان میں نہیں۔ لیکن اسامہ کی کھوج لگانے میں ایک آئی ایس آئی سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل اقبال سعید خان تھے، صفحہ 102 میں بتایا کہ وہ فوج میں ببلی کے نام سے مشہور تھے جنہوں نے انے پرائیویٹ سیکیورٹی کے دفتر کو امریکیوں کی مدد کرنے کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دی بعد میں وہ اپنا گھر جو ڈی ایچ اے میں تھا چھوڑ کر امریکی شہر سان ڈیاگو میں 24 لاکھ ڈالر کا ہویلی نما تھا۔ رہائش کے لئے استعمال کیا کرتے تھے۔
کتاب کے ساتویں باب میں سول ملٹری تعلقات پر صفحہ 175 میں لکھتے ہیں کہ ماضی کی سویلین حکومتوں کی طرح 2008ءمیں پی پی پی کی حکومت نے بھی بہت سے معمولی کام بھی حکام کے حوالے خود ہی کئے او ران کو غیر معمولی تکریم سے نوازا حالانکہ یہ پی پی پی کی حکومت جمہوریت کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔ مصنف نے سویلین حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا جس طرح سفارتی میدان میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بے جوڑ اتحاد نظر آتا ہے وہی ہمیں سویلین اور عسکری تعلقات کے مابین نظر آتا۔ سویلین قیادت قلیل المیعاد فوائد پر زور دیتی ہیں اور اپنا نقصان کراتی ہیں جو کہ فوج کی حمایت حاصل کرنے کے لئے قانون اور انصاف کے دائرے سے بھی باہر نکل جاتی ہیں اس طرح فوج کی قدر و منزلت میں مزید اضافہ ہونے کا باعث بن جاتا ہیں۔ شجاع نواز جنجوعہ نے حسین حقانی کی طرح پاکستان کے اداروں میں بہتری کے حوالے سے اپنی دونوں کتابوں میں ان خامیوں کا ذکر کیا تاکہ ان کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائی جا سکے اور پاکستان کی مشکلات کو دور کرنے میں مدد حاصل ہو سکے کیونکہ باہر سے جائزہ لے کر ہی ان خامیوں کو آسانی سے بیان کیا جا سکتا ہے جو اندر بیٹھے ہوئے پالیسی سازوں کو نہیں ہو سکتا۔
اس کے لئے پاکستان کے صاحب اختیار کو اپنی سوچ، طرز فکر میں وسعت پیدا کرنے میں آسانی ہو سکے گی۔ بجائے ان پاکستان دردمندوں پر پابندی لگا کر فکر اور سوچ کو محدود کرنا ان سے فائدہ نہ اٹھانا۔ ہمارے ملک کی ساخت اس طرح کی ہے جس میں ہر طبقہ ہائے فکر کو شامل کئے بغیر پاکستان کو دنیا کے روشن خیال ملکوں میں شامل کیا جا سکتا ہے ہمارے اکابرین کو ان صاحب فکر کے خیالات سے فائدہ اٹھا کر ان خدمات سے پاکستان میں بحث مباحثہ کھول کر فلاح اور بہبودگی کے راستے کو اختیار کیا جا سکتا ہے جس سے عوام خوش حال ہو سکیں گے۔ اس کا فائدہ عسکری عناصر کو بے حد ہو سکے گا اس لئے حسین حقانی شجاع نواز جنجوعہ اور عائشہ جلال سمیت تمام پاکستانی دردمندان قوم کی خدمات سے فائدہ اٹھا کر پاکستان مضبوط سے مضبوط بناتا جائے اور افراد واقعات کے بجائے خیالات، نظریات اور طرز فکر کو اہمیت دی جائے، یہ ہی پاکستان کی مضبوطی کا واحد راستہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں