عدالتیں یا ڈاک خانے؟ 108

افسوس صدر افسوس!

پاکستان میں ہر وہ حکومتی ذمہ دار ہر وہ کام بڑے دھڑلے کے ساتھ سینہ چوڑا کرکے کررہا ہے جو نہ صرف اس کا مجاز نہیں بلکہ اس کا کرنا اس کی آئینی یا اخلاقی ذمہ داری میں بھی شامل نہیں لیکن اس کے باوجود وہ ڈھٹائی کے ساتھ وہ سب کچھ کررہا ہے۔ میڈیا سمیت وہ تمام دوسرے ادارے اور شعبے جنہیں اس طرح کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس پر نہ صرف تنقید بلکہ احتجاج کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ بھی اس طرح کی بگڑتی ہوئی تباہ کن صورتحال کو مزید برباد کرنے کے لئے اس میں حصہ ڈالتے ہوئے ایسے کرداروں کی تعریفیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔
یہ اتنی لمبی چوڑی تمہید میں نے دور حاضر کے ایک ایسے نگران وزیر اعظم کاکڑ کے بارے میں باندھی ہے، کہنے کو تو وہ نگران وزیر اعظم ہیں مگر اپنے فیصلوں، اپنی باتوں، اپنے لب و لہجہ اور باڈی لینگویج سے وہ کہیں سے بھی نگران وزیر اعظم نہیں معلوم ہوتے، وہ الیکشن کے علاوہ زندگی کے ہر شعبے میں بات کرنے کو ہر وقت تیار رہتے ہیں، انہیں الیکشن اور اس سے متعلق پوچھے جانے والے سوالوں سے ایک چڑ سی ہو گئی ہے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو ان کا وجود ہی الیکشن کا مرہون منت ہے یعنی مچھلی بغیر سمندر یا دریا کے تڑپ تو سکتی ہے مگر زندہ نہیں رہ سکتی۔ اگر کوئی مچھلی بغیر پانی کے زندہ رہے تو اس پر حیران ہونا تو بنتا ہے، بالکل اسی طرح سے کاکڑ صاحب کا وزیر اعظم بننا بھی الیکشن کے طفیل ہے اور وہ الیکشن پر ہی بات کرنے سے ایک میل دور بھاگتے ہیں، جیسے انہیں اچھی طرح سے اس بات کا فہم و ادراک ہو چکا ہو کہ اس ملک میں سب کچھ ہو سکتے ہیں مگر الیکشن نہیں۔۔۔؟ الیکشن کے نام پر پورے کا پورا نظام تبدیل کیا جا سکتا ہے، لوگوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے بھی جا سکتے ہیں اور نکالے بھی جا سکتے ہیں، ایک گرینڈ آپریشن کا اعلان کرکے خود بڑی مگرمچھوں کو ملک سے فرار کروانے کا سگنل بھی دے دیا جاتا ہے اور اس کے بعد آپریشن شروع کروانے کی تیاریاں بھی شروع کروادی جاتی ہے۔ معلوم نہیں کہ آخر اس ملک میں کس طرح کا نظام مملکت چل رہا ہے، اسے جمہوری نظام کہا جائے، اسے آمرانہ شاہانہ یا پھر ایسٹ انڈیا کمپنی کا رسوائے زمانہ نظام کا نام دیا جائے۔
نگراں سیٹ اپ کا وزیر اعظم محدود اختیارات کا مالک ہوتا ہے جس کے ذمہ صرف اور صرف ایک شفاف الیکشن کروانا ہوتا ہے مگر اس نگراں سیٹ اپ کا وزیراعظم تو بہت بڑے ویژن کا مالک ہے، اس کے فیصلے ان کے ارادوں سے تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پانچ یا دس سال سے پہلے وزارت عظمیٰ کو چھوڑنے والا نہیں۔ وہ تو اقوام متحدہ کے اجلاس میں جانے اور وہاں خطاب کرنے کی بھی تیاریاں کررہا ہے جو ان کا اختیار نہیں مگر انہیں ایسا کرنے سے کون روکے۔۔۔ وہ معاشی پالیسیوں کا اعلان کرتے ہیں، وہ اسمگلنگ کی روک تھام پر بڑے بڑے بیانات داغ رہے ہیں، وہ باقی سب کچھ بڑے دھڑلے کے ساتھ کررہے ہیں، ماسوائے الیکشن اور الیکشن کروانے کے۔۔۔ یہ کیا مذاق ہے، قائد اعظم کے پاکستان کے ساتھ درست کہا ہے کسی شاعر ہے۔
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
کاکڑ صاحب بھی نہ جانے کب سے ان مزوں کی راہ تک رہے تھے، اب الیکشن کروانے کے بہانے اگر وہ اس بدنصیب پاکستان کے وزیر اعظم بن ہی گئے ہیں تو انہیں بھی اپنے دل کی حسرتیں نکالنے دیں اور اس ملک کو اپنی عیاشیوں کی وجہ سے قرضوں میں دھکیلنے دیں، اب جب اس طرح کی حرکتوں کے بعد پاکستان کو ری پبلک بنانا نہ کہیں تو پھر کیا کہیں۔۔۔؟
پڑوسی ملک آج کس مقام پر پہنچ گیا اور ہم پاکستانیوں سے زیادہ باشعور بنگالیوں نے جو خود کو ہم سے الگ کردیا، وہ آج کہاں پہنچ گئے اور ہم کہاں۔۔۔؟ اب تو مارے شرم کے ہم کسی کو طنزاً اور حقارتاً دو ٹکے کا کہہ بھی نہیں سکتے، بلکہ وہ دو ٹکے والے اب ہمیں دو روپے کا کہہ کر ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں جس کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جن کی لاقانونیت نے ملک کو آج اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ نگران وزیر اعظم کو اپنے کام کا ہی علم نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں