Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 153

افسوس

یہ ظلم ہے، یہ زیادتی ہے، ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ مجرم بچ نہیں سکتے، قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ کون سا قانون؟ غریب جیل میں اور رسوخ والا قتل کرکے بھی باہر۔ اچکزئی کی طرح۔ سرفراز نوجوان کے قاتلوں کی طرح۔ بے شمار وہ قتل جن کی ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوتی۔ قاتل سامنے ہیں، آزاد گھوم رہے ہیں اور احمقوں پر قہقہے لگا رہے ہیں، قانون کے ہاتھوں سے مجرم بچ نہیں سکتے۔ ہا ہا ہا ہا۔ وہ نوجوان سرفراز اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا اور بھیڑئیے، بندوقیں ہاتھ میں لئے، قہقہے لگا رہے تھے۔ میں نے دیکھا ہے، جنگل میں کسی جانور کا پیچھا کرتے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے، جب اس جانور کو بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ ایک جگہ کسی جھاڑی میں دبک جاتا ہے۔ چاروں طرف بندوقیں لئے ہوئے لوگ کھڑے ہیں لیکن اس بے بس جانور پر کوئی بھی گولی نہیں چلاتا۔ اس پر گولی چلا کر تڑپتا نہیں دیکھتا، وہ ویڈیو جس میں سرفراز چلا چلا کر کہہ رہا ہے، مجھے گولی مت مارو، اس کے باوجود اس پر گولی چلا کر تڑپتا چھوڑ دیا گیا۔ انسایت کی اس سے زیاد تذلیل کا نظارا شاید۔۔۔۔
نہیں میں غلط سوچ رہا ہوں۔ انسانیت پر اس طرح کے مظالم تو اس خطے میں عام ہیں اور ہماری بے حسی کی انتہا ہے کہ ہم صرف سوشل میڈیا پر شور مچا کر مذمت کرکے پھر نئے واقعے کا انتظار کرتے ہیں۔ ملک کا ہر قومی ادارہ، اہلکار، قانون نافذ کرنے والے ادارے بشمول عدلیہ جہالت کے ہاتھوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ جہالت سے مراد یہ نہیں کہ کسی کے پاس ڈگری نا ہو تو وہ جاہل ہے۔ بڑی بڑی ڈگریاں رکھنے والے ذہنی طور پر اور جسمانی، روحانی، ہر طور پر جاہل ہوتے ہیں۔ خاندانی پس منظر، گھریلو اور آس پاس کا ماحول علمیت اور جہالت پر بالکل اثر انداز ہوتا ہے۔ ہم سب بے حسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
نوجوان اسامہ ندیم کا قصور کیا تھا۔ پولیس والوں کی غلط بات پر احتجاج کیا اور دوسرے دن گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ انتقام لیتے ہوئے وہ لوگ پرسکون ہوں گے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ ایسے احمقوں کے ملک میں رہتے ہیں جو ان کی کسی بھی حرکت پر نا تو احتجاج کرسکتے ہیں اور نا اہی ان کا بال بیکار کر سکتے ہیں۔ جہالت دو قسم کی ہوتی ہے، ایک وہ جہالت جو تعلیم نا ہونے کی کہلاتی ہے اور دوسری جہالت وحشیانہ درندگی کی جہالت ہے جو پولیس اور رینجرز میں بھرتی کے وقت دیکھی جاتی ہے جو جتنا بڑا وحشی جاہل ہوتا ہے اسے ترجیح دی جاتی ہے۔ ہمارے پاس ہمارے کل کے لئے کیا ہے۔ آنے والی نسل کو دینے کے لئے مذہب کے نام پر فرقہ پرستی، دوسرے فرقے یا مسلک والے کا قتل، زبانوں کا تعصب، کرسی کی لالچ، ظلم و زیادتی، عہدے کا ناجائز استعمال، یہ ہے ہمارے پاس وہ خزانہ جو ہم کل آنے والی نسلوں کو منتقل کریں گے اور اگر سلسلہ اسی طرح جاری رہا جو آج ہے تو آنے والا کل صرف تباہی اور بربادی دیکھے گا۔ صرف اجتماعی شیطانیت کا ذکر ملے گا۔ اب ہم بے حس ہو چکے ہیں۔ بڑے سے بڑا واقعہ اور ظلم کچھ دن ہمیں احتجاج میں رکھتا ہے پھر ہم سب بھول کر کسی نئے واقعے کا انتظار کرتے ہیں۔ قدریں ختم ہو گئیں، احساسات مٹ گئے، خود غرضی، خود فریبی نے جگہ بنا لی ہے۔ ہر شخص مفاد پرستی میں صرف آج کو دیکھ رہا ہے، کل کی فکر نہیں ہے۔ ہر شخص اپنی طاقت کا مظاہرہ اپنے مفاد اور دوسرے کی تباہی دوسرے کے قتل کے لئے کررہا ہے۔ اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال۔ عمرانیات کا ایک اصول ہے کہ طاقت سے کچھ حاصل کرو اور اسے آگے بانٹ دو، ہمارے ملک میں ہمارے نظام میں اور قوم کی تبدیلی کی بے انتہا ضرورت ہے۔ سوچ و فکر کی تبدیلی، جذبات و احساسات کی تبدیلی، طاقت کے استعمال کی تبدیلی اور جب یہ تبدیلیاں جنم لیں گی تو ایک مثبت سوچ بھی پیدا ہو گی۔ معاشرے کی جہالت کو تعلیم سے تبدیل کردینے کا عمل ہر چیز تبدیل کردے گا۔ کئی ماہرین علم الانسان ماہرین عمرانیات نے معاشرتی نظریے قائم کئے اور جب ان پر عمل ہوا تو معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی پیدا ہوئی۔ چند مشہور ماہرین جو قابل ذکر ہیں۔ لوئس، ایچ مورگن، لیسلی وہائٹ، اور گبرہارڈ لنسیکی ان کا کہنا تھا کہ انسانی تہذیب اور مثبت معاشرے کی ارتقاءکے لئے کسی بھی ہنر مندی کو بہتر بنانے اور بڑھاتے رہنے کی ضرورت ہے۔ لیسلی وہائٹ کے نزدیک معاشی اور معاشرتی ترقی میں طاقت اہم کردار ادا کرتی ہے جس کے پانچ ذرائع ہیں، پہلی جسمانی طاقت، دوسری پالتو جانوروں کی طاقت، تیسری درختوں اور پودوں کی طاقت، چوتھی قدرتی وسائل جیسے کوئلہ، تیل، گیس وغیرہ اور پانچویں نیوکلیئر انرجی اگر ان تمام طاقتوں سے
محنت اور ایمانداری سے کام لیا جائے اور ان سے کام لینے کے لئے علم حاصل کیا جائے تو کامیابی لازمی ہے لیکن ہمارے ملک کے لوگوں نے ان سب سے ہٹ کر ایک چھٹی طاقت کو خوب استعمال کیا جس نے ملک اور معاشرے کا خوب بیڑہ غرق کیا اور وہ چھٹی طاقت ہے اپنے عہدے کی طاقت کا ناجائز استعمال جو ہمارے ملک میں کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔ حکومتیں بھی بدلیں، دنیا بدل گئی، لیکن ہمارے اہم محکموں میں جو بے غیرت موجود ہیں اور جو بھرتی کئے جاتے ہیں وہ ہنوز بے غیرت کے بے غیرت ہی ہیں اور ایک اچھی بات لیسلی نے بیان کی ہے کہ آج کے لوگوں کو کل آنے والوں کو کچھ دے کر جانا ہے لیکن ہماری قوم کو کوئی یہ یقین تو دلائے کہ انہوں نے جانا ہے وہ تو سمجھتے ہیں قیامت تک نہیں جانا ہے۔ بہرحال لیسلی کی بات دل کو لگتی ہے، معاشرے اسی طرح ترقی کی جانب بڑھتے ہیں کہ گزرے ہوئے لوگوں کے تجربات اور معلومات سے آنے والی نسلیں فائدہ اٹھائیں اور اسے نئی سوچ نئی طاقت عطا کریں۔ بدقسمتی سے ہم ایسے لوگوں کے رحم و کرم پر رہے جن کی نسلوں میں نا تو کوئی معلومات تھیں اور نا ہی معاشرے کو سدھارنے کے تجربے یا تعلیم، بس اپنے گھر کے بزرگوں سے جو سیکھنا تھا، وہی سیکھا، وہی کام آیا لیکن پورے معاشرے کو سدھار بالکل نا سکے۔ اب ہم آنے والے کل کو کیا دے کر جارہے ہیں، ظلم و زیادتی، لڑائی، جھگڑے، قتل و غارت، نفرتیں، لسانی تعصبات، مذہبی جھگڑے، حکومت کے حصول کے لئے ناجائز ہتھکنڈے، ہماری سوچ اس سے آگے نا بڑھ سکی، ہر کام کے لئے باہر کے ماہرین کی ضرورت ہے۔ غنڈہ گردی، نمک حرامی، ناجائز کمائی، رگ رگ میں بس گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں