ویت نام کے بعد افغانستان سے امریکہ کی رسوائی اور واپسی 72

افغانستان کی بدلتی ہوئی صورت حال!

اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت دیتا ہے۔ افغانستان میں اس آیت کریمہ کے سچ ہونے کا عملی مظاہرہ ہماری گناہ گار آنکھوں نے ملاحظہ کیا۔
انیس سال سات ماہ امریکہ اور اس کی اتحادی افواج پورے جاہ و جلال کے ساتھ افغانستان پر قابض رہیں، ان کے پاس جدید ترین اسلحہ تھا اور اربوں ڈالر خرچ کر دیئے گئے۔ تین لاکھ افغان فوج تیار کردی گئی کہ وہ امریکہ کے افغانستان سے انخلاءکے بعد طالبان کا سامنا کرے گی اور اس کو امریکہ کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔ اس جنگ میں ملا جلا کے پونے دو لاکھ افراد لقمہ اجل بنے۔ پاکستان کے اندر ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے ستر ہزار افراد اس کے علاوہ ہیں۔
امریکہ نے جونہی انخلاءکی تاریخ یعنی 11 ستمبر 2021ءکا اعلان کیا اور اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنا شروع کردیا جس کا اعلان امریکہ کے سابقہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرچکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے اہداف پورے کر لئے ہیں اور اب ہمارا وہاں مزید قیام کا کوئی جواز نہیں ہے، ہم نے ہزاروں امریکی فوجیوں کی لاشوں کے تابوت اٹھائے ہیں اور اربوں ڈالر اس جنگ میں جھونک دیئے ہیں، یہی پیسہ اگر امریکی عوام پر خرچ ہوتا تو انہیں زیادہ خوشی ہوتی لہذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم افغانستان میں مزید قیام نہیں کرسکتے لیکن ہم افغانستان میں اپنے اتحادی حکمران ٹولے کی حمایت جاری رکھیں گے۔ اس سلسلے میں کہ پورے ساﺅتھ ایشیا میں امریکہ کی چودھراہٹ رہے، انہوں نے ہندوستان کو اپنا تحادی بنایا کیوں کہ اس مرتبہ عمران خان حکومت کسی بھی ایسے اتحاد کا حصہ بننے سے انکار کرچکی تھی کہ جس میں ماضی کی طرح نقصان کا احتمال ہو۔
پاکستان کا موقف بڑا واضح اور صاف ہے کہ ہم کسی دوسرے کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے ہم امن مذاکرات میں آپ کے ساتھ ہیں لیکن کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ امریکی انتظامیہ کو پاکستان کے اس کورے جواب پر مایوسی ہوئی لیکن پاکستان کا موقف سو فیصد درست ہے۔ ہم نے اتنا کچھ کرکے دیکھ لیا، ہمیں رسوائی ہی ملی۔ اس سے بہتر ہے کہ ہمیں معتدل کردار اپنانا ہوگا۔ افغانستان ہمسایہ بھی ہے اور مسلم برادر بھی ہے ہم لوگ مختلف قسم کے مذہبی، معاشرتی، معاشی اور تہذیبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں امن سے پاکستان کا امن جڑا ہوا ہے۔
اشرف غنی افغانستان سے فرار ہو چکا ہے اور اس کا ابھی تک کچھ علم نہیں کہ کہاں پناہ لئے ہوئے ہے گو کہ طالبان قیادت نے صدارتی محل کا چارج سنبھالتے ہی سب کے لئے عام معافی کا اعلان کردیا ہے اور عورتوں پر پہلے دور کی طرح کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔ ملک میں ہر طرح کی سیکورٹی صورت حال کو کنٹرول کیا جارہا ہے۔ طالبان کا کابل کو فتح کرنا بہت بڑی بات ہے اور وہ بھی بلاروک ٹوک۔ افغانستان میں امن و امان برقرار ہے اور کاروباری مراکز کھول دیئے گئے ہیں، سرکاری ملازمین کو دفتروں میں حاضری یقینی بنانے کے لئے کہا گیا ہے۔ سفارت خانوں کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے۔ پاکستان، چین، روس، ترکی اور دوسرے بہت سارے سفارت خانے معمول کے مطابق کام کررہے ہیں۔ صرف امریکہ، بھارت، برطانیہ اور چند یوروپی ممالک نے سفارت خانے بند کئے ہیں۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی آج کی پریس کانفرنس بڑی حوصلہ افزاءہے اور اس نے فضاءکو صاف کرنے کی کافی کوشش کی ہے اور تمام اچھے اقدامات کرنے کے اعلانات کئے ہیں۔ جس سے نہ صرف مقامی لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ہو گا بلکہ انٹرنیشنل کمیونٹی نے بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ طالبان کی طرف سے کسی قسم کا انتقام نہ لینے کا اعلان بڑا حوصلہ افزا اقدام ہے۔
امید واثق ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں افغانستان کی داخلی صورت حال بہت بہتر ہو جائے گی۔ امید ہے کہ افغانستان میں ایک Inclusive حکومت قائم کی جائے گی اور اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ کسی سے انتقام نہیں لیا جائے گا۔ افغانستان کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ یہ کہنا ہے طالبان ترجمان کا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں