530

امریکا: اسکول میں فائرنگ کرنے والے نوجوان نے اعتراف جرم کرلیا

امریکی ریاست فلوریڈا کے ہائی اسکول میں 17 افراد کو قتل کرنے والے نوجوان نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے فائرنگ کے لیے نیم خودکار رائفل کا استعمال کیا جبکہ اس کے بیگ میں اضافی گولہ بارود بھی موجود تھا۔
رپورٹ کے مطابق پارک لینڈ میں اسکول میں ہونے والے واقعے پر بروورڈ کاو¿نٹی شیرف ڈپارٹمنٹ کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوجوان نیکولس کروز نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے ہال ویز اور گراو¿نڈ میں طالبعلموں پر فائرنگ کی۔
نیکولس کروز نے بتایا کہ اس نے بھرے ہوئے میگزین اسکول میں لایا اور انہیں تب تک اپنے بیگ میں رکھا جب تک وہ کیمپس تک نہیں پہنچ گیا۔ شیرف ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ جیسے ہی گن مین اسکول کی طرف گئے، نوجوان نے 5 کلاس رومز میں فائرنگ کی، جس میں 4 کلاسز پہلی منزل جبکہ ایک دوسری منزل پر تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حملہ آور نوجوان کی جانب سے 3 منٹ تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، جس کے بعد نیکولس کروز تیسری منزل پر گیا اور اپنی اے آر- 15 رائفل اور بیگ کو پھینک کر دیگر طالبعلموں کے ساتھ مل کر عمارت سے باہر نکلنے کی کوشش کی۔
شیرف ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ حملے کے بعد ملزم وال مارٹ میں گیا اور وہاں ریسٹورینٹ سے ڈرنک لے کر وہ مکڈونلڈ میں گیا، جہاں 40 منٹ بعد اسے حراست میں لیا گیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک مقامی اسکول میں 19 سالہ طالبعلم نے اپنے ساتھی طالبعلموں اور اساتذہ پر فائرنگ کرکے 17 افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا تھا۔
ابتدائی طور پر پولیس نے بتایا تھا کہ گرفتار مشتبہ ملزم 19 سالہ نیکولس کروز ہائی اسکول کا سابق طالب علم تھا جسے انتظامیہ نے بعض مذموم حرکتوں کی وجہ سے بے دخل کردیا تھا۔
پولیس نے بتایا تھا کہ ملزم نے اسکول کے اندر گھس کر الارم بجایا جس سے بھگدڑ مچ گئی اور پھر اس نے طالب علموں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی تھی۔
واضح رہے کہ امریکا میں دیگر پرتشدد واقعات کے علاوہ طالب علموں کی جانب سے فائرنگ کرکے اپنے ہی ساتھیوں کو ہلاک کرنے کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
گزشتہ برس ستمبر میں امریکا کی ریاست لاس اینجلس کے شمال مغربی علاقے میں واقع ایک اسکول میں فائرنگ سے ایک طالب علم ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے تھے۔
بعدازاں اگلے ہی مہینے یعنی اکتوبر 2017 میں امریکی شہر لاس ویگاس میں میوزک کنسرٹ کے دوران فائرنگ کے واقعے میں 58 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
یاد رہے کہ نومبر 2017 میں ریاست ٹیکساس کے ایک چرچ میں فائرنگ سے 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
امریکا میں گزشتہ برس دسمبر میں ریاست نیو میکسیکو کے ہائی اسکول میں پیش آیا جہاں ایک شخص نے اسکول کے اندر داخل ہو کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 طلبہ ہلاک ہوگئے تھے جبکہ فائرنگ کرنے والے حملہ آور کو بھی جوابی کارروائی میں ہلاک کردیا گیا تھا۔
اس سے قبل دسمبر 2015 میں امریکی ریاست سان برنارڈینو میں معذور افراد پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، امریکی پولیس کے مطابق ایک نئے شادی شدہ جوڑے نے سان برنارڈینو میں قائم معذور افراد کے سینٹر میں منعقدہ تقریب کے دوران فائرنگ کر کے 14 افراد ہلاک اور 22 زخمی کو زخمی کردیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں