US-China Tensions - Suspected Investigator Shelter at Chinese Consulate in San Francisco امریکا چین کشیدگی: سان فرانسکو میں چینی قونصل خانے میں مشتبہ 'محقق' کی پناہ 17

امریکا چین کشیدگی: سان فرانسکو میں چینی قونصل خانے میں مشتبہ ‘محقق’ کی پناہ

سان فرانسسکو: امریکا نے الزام لگایا ہے کہ سان فرانسکو میں واقع چین کے قونصل خانے میں ایک چینی سائنس دان نے پناہ لی ہے جو ویزا فراڈ اور فوج سے خفیہ تعلقات ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق استغاثہ نے الزام عائد کیا کہ یہ کیس چین کے پروگرام کا حصہ ہے جو فوج کے سائنس دانوں کو خفیہ طریقے سے امریکا بھیجنا چاہتا ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ الزام ایسے وقت پر لگایا گیا ہے جب حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیوسٹن میں چین کے مشن کو بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دانشورانہ املاک چوری کرنے میں ملوث ہے۔
دوسری جانب چین نے امریکا میں اپنے سائنس دانوں اور قونصل خانوں کے خلاف اقدامات کی مذمت کی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک میں چینی اسکالرز کی نقل و حرکت کو محدود، انہیں ہراساں یا ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بہانے استعمال کررہے ہیں۔
انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں امریکی الزامات کو ‘بدنیتی پر مبنی غیبت’ قرار دیتے ہوئے کہا ‘امریکا کے غیر معقول اقدامات کے جواب میں چین کو لازمی جوابی کارروائی اور اس کے جائز حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے’۔
ہیوسٹن کے قونصل خانے کےمعاملے پر تنازع کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ مزید چینی مشن کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ سان فرانسسکو کی وفاقی عدالت میں استغاثہ چینی سائنس دار ڑان ٹانگ کیلیفورنیا میں ڈیوس یونیورسٹی کے شعبہ حیاتیات محقق تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ ایف بی آئی کے ایجنٹوں کے ساتھ انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے چینی فوج میں خدمات انجام نہیں دی۔ استغاثہ نے عدالت میں کہا کہ اوپن سورس کی تفتیش سے معلوم ہوا کہ چینی سائنسدان کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ وابستگی رہی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کی تصاویر موجود ہیں جس میں انہیں فوجی وردی پہنے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ کوئی الگ تھلگ معاملہ نہیں ہے لیکن ‘پی ایل اے کے ذریعہ کیے گئے کسی پروگرام کا حصہ ہے’ جو فوجی سائنس دانوں کو خفیہ طریقے سے امریکا بھیجنے کے لیے مرتب کیا گیا۔ خیال رہے کہ امریکا اور چین کےدرمیان ہانگ کانگ کا معاملہ نئی کشیدگی کا باعث بن گیا ہے۔
حال ہی میں چین کی جانب سے ہانگ کانگ کی خود مختاری کے خاتمے کے فیصلے پر امریکا نے دھمکی دی تھی اس کی خصوصی تجارتی حیثیت ختم کردی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں