امریکی جمہوریت 9

امریکی جمہوریت

امریکہ میں جمہوریت کا آغاز 1776ءمیں ہوا جب ڈکلیریشن آف انڈیپینڈنس کے طور پر امریکہ نے اسے اپنی جمہوریت اور طرز حکومت قرار دیا۔ 1788ءمیں اسے دستاویزی حیثیت دی گئی جسے فرسٹ بلو پرنٹ آف موڈرن ڈیموکریسی کے نام سے یاد کیا جاسکتا ہے۔ کئی صدیوں سے امریکہ جمہوریت کا نام نہاد مرکز رہا ہے۔ اسے ہمیشہ جمہوریت کا ایک مضبوط ترین مینار سمجھا جاتا ہے۔ 1789ءمیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے پہلے منتخب ہونے والے صدر ”جارج واشنگٹن“ سے لے کر موجودہ صدر ٹرمپ اسی جمہوریت کے داعی رہے ہیں۔ ایوان نمائندگان سے لے کر ایوان بالا تک اسی طرز حکومت کی بنیاد پر قانون سازی اور فیصلے کرتے آئے ہیں۔ 1850ءمیں امریکی نظام میں 2 سیاسی جماعتوں کی بنیاد پڑی۔ ڈیموکریٹک اور ری پبلکن۔ پہلی 20 ویں صدی ہی سے ڈیموکریٹک کو لبرل یعنی آزاد خیال اور ری پبلکن کو کنزرویٹو جماعت کے طور پر تعبیر کیا جاتا رہا۔ ان دو جماعتوں کے علاوہ بھی کئی دیگر چھوٹی پارٹیاں بھی وجود میں آتی رہیں اور ختم ہوتی رہیں۔ انہیں تھرڈ پارٹی کے طور پر موسوم کیا جاتا رہا۔ صرف ایک تھرڈ پارٹی جو لبریشن پارٹی کے نام کہلائی 1980ءمیں اپنے لئے کچھ جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی مگر خاطر خواہ نتائج نہ حاصل کرنے کے باعث اسے بھی ناکامی کا سامنا کرتے ہوئے امریکی سیاسی میدان سے خارج ہو جانا پڑا۔ دونوں بڑی جماعتیں اپنے قانون، اپنے طریقے اور اپنے منشور کے مطابق کام کرتی رہیں۔ امریکہ کی تاریخ میں یہ ہی دونوں جماعتیں حکومت کرتی چلی آئی ہیں۔ تمام حدود اپنے دور حکومت میں اور اپنے بعد آنے والوں کے لئے جمہوری طور طریقوں کے پابند رہے ہیں۔
اس وقت پوری دنیا کی نظریں جمہوریت کے مرکز کے دعویدار ملک امریکہ کی طرف ایک حیرت اور استجاب کے عالم میں مرکوز ہیں۔ 6 جنوری 2021ءکو واشنگٹن میں وقع پذیر ہونے والے واقعے نے دنیا کو ایک بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے۔ مظاہرین کے ایک جم غفیر نے جس طرح کیپیٹل ہلز میں کانگریس کی عمارت پر یلغار کی اس کی مثال ماضی قریب میں تو کہیں نہیں پائی جاتی۔ تاریخی صفحات کے مطابق عرصہ قبل 1812ءمیں جنگ کے دوران برطانوی فوج نے اس عمارت کو نذر آتش کیا اس کے بعد 1954ءمیں پورٹیکن قومیت پرستوں نے اس عمارت پر حملہ کرتے ہوئے اس کے پانچ ممبران کو زخمی کیا۔ باوجود کہ اس حادثہ میں کوئی جاں بحق نہیں ہوا ان کو اس جرم کی پاداش میں 20 سال سزا بھگتنی پڑی۔
حالیہ انتخاب کی تیاری کے دوران ہی ریپبلکن پارٹی کے ممبر اور امریکہ کے موجودہ صدر ٹرمپ نے یہ عندیہ دینا شروع کردیا تھا کہ وہ اپنی چار سالہ مدت پوری کرنے کے بعد اگلے چار سال کے لئے پھر صدر منتخب ہونے کی کوشش کریں گے اور 2020ءمیں بھرپور طریقے سے انتخاب میں حصہ لیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح کردیا تھا کہ وہ کسی صورت اپنی شکست تسلیم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے اگر انہیں شکست ہوئی تو وہ اس الیکشن کو ایک غیر شفاف عمل قرار دیں گے اور اس دھاندلی کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ 31 اکتوبر کو جب صدارتی انتخابات عمل میں آئے، اسی روز سے ہی انہوں نے مختلف فورمز اور ریاستوں کے انتخابی عمل پر الزامات عائد کرنے کی ابتداءکردی تھی۔ انہوں نے اور ان کے ری پبلکن حواریوں نے کھل کر اس انتخاب کو تسلیم کرنے میں تحفظات کا اظہار کیا اور عدالتوں سے رجوع کرنے کا اشارہ دیا۔
جوبائیڈن اس انتخاب کے ذریعے امریکہ کی صدارتی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے صدر منتخب ہوئے۔ 6 جنوری کے روز جب کانگریس کے ارکان تمام الیکٹرول کالج کے ووٹوں کی تصدیق کرکے ان کی فتح کی توثیق کرنے میں مصروف تھے۔ ٹرمپ کے حامی مظاہرین نے کیپیٹل ہلز پر دھاوا بول دیا۔ اس سے فوراً پہلے صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے مخاطب ہو کر یہ اعلان کیا تھا کہ کمزوری سے جیت ممکن نہیں اور ہمیں اس طرف یعنی کانگریس کی طرف رخ کرنا چاہئے۔
عالمی میڈیا نے اس واقعے کو سنسنی خیز طور پر نشر کیا اور پوری دنیا امریکہ میں ہونے والے اس خبر کی چشم دید گواہ بن گئی۔ یہ جمہوریت پر حملہ کے مترادف قرار پایا اور اس قول کی تائید میں سوال اٹھنے لگے کہ کیا واقعی جمہوریت میں صرف بندوں کو گنا جاتا ہے، تولا نہیں جاتا۔ کانگریس کے ارکان اپنی جان بچانے کی کوشش میں اپنے اپنے چیمبرز میں محصور ہو گئے۔ ہاﺅس کی اسپیکر ”نینسی پلوسی“ کو بحفاظت نکال کر ان کے آفس پہنچایا گیا۔
ایف بی آئی اس تحقیقات میں مصروف ہے کہ اس جم غفیر کو کیونکر عمارت میں داخل ہونے دیا گیا۔ سیکیورٹی ادارے مزاحمت کرنے میں کیوں ناکام رہے اور قبل از وقت انتہائی حفاظتی اقدام کیوں نہیں عمل میں لائے گئے۔ جب کہ نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ کے حامی کئی دن قبل سے یہ اعلان کر رہے تھے کہ جس دن کانگریس الیکٹرول کالج کا جائزہ لے کر جوبائیڈن کے صدر منتخب ہونے کا اعلان کرے گی وہ اس دن مزاحمت کریں گے۔ ردعمل کے طور پر کئی سیکورٹی اہل کار اپنے منصب سے فارغ کردیئے گئے ہیں اس حملہ کے دوران بمع ایک پولیس آفیسر پانچ افراد کے جاں بحق ہونے کی خبریں ہیں۔
اس وقت اس تمام واقعہ کا ذمہ دار ری پبلکن پارٹی اور خصوصی طور پر ٹرمپ کو گردانا جارہا ہے اپنے چار سالہ دور حکومت میں صدر ٹرمپ اور ان کا رویہ ہمیشہ ہی تبصروں کا موضوع رہا ہے ان کے منتخب ہونے کے فوراً بعد ہی 2016ءمیں ہونے والے الیکشن میں غیر ممالک کی سرگرمیاں خاص کر روس کی مداخلت پر چہ مگوئیاں شروع ہوئیں۔ پھر یوکرین کے معاملات، ان کا پیرس کی ماحولیاتی معاہدہ سے انخلائ۔ چین اور نارتھ کوریا سے اختلافات۔ امیگریشن کی پابندیاں، پھر کورونا کی وباءکے سلسلے میں ان کی ناقص حکمت عملی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ بے حد تنقید کا موضوع رہا۔
نئے صدر 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے اس وقت تک صدر ٹرمپ تقریباً ایک ہفتہ مزید اپنے منصب صدارت پر فائز رہیں گے مگر گمان یہ ہی ہے کہ ممکن ہے کہ وہ اس دوران کچھ انتہائی فیصلہ کن اقدام اٹھانے کی کوشش کریں گے، کچھ خاص معاملات کے تناظر میں۔ جس میں ایران پر حملہ کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے، خاص کر جب وہ پینٹاگون سے اس معاملہ پر مشورہ کرتے پائے گئے کہ ایران کے اس اعلان کے بعد کہ وہ اپنی نیوکلیئر صلاحیتوں کو اضافہ کرنے کا آغاز کرنے جارہا ہے، حملہ ممکن ہے یا نہیں؟
اس وقت موجودہ نائب صدر مائیک پنس پر بھی شدید دباﺅ ڈالا جارہا ہے کہ وہ پچیسویں امینڈمینٹ کو بروئے کار لائے ہوئے صدر ٹرمپ کو ان کی ذمہ داریوں سے شبک دوش کردیں۔ آئین میں یہ شق موجود ہے کہ اگر صدر کسی غیر قانونی عمل، غداری یا کسی غیر اخلاقی امر کا مرتکب ہوتا ہے تو اسے اس کے منصب سے فارغ کردیا جا سکتا ہے
اسپیکر پلوسی نے اس وقت شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے انہوں نے اور کانگریس کے کئی ارکان اس وقت صدر ٹرمپ کے مواخذہ (Impeachment) کا مطالبہ کررہے ہیں اگر ایسا ہوا تو تاریخے لحاظ سے صدر ٹرمپ واحد امریکی صدر ہوں گے جس پر دو دفعہ مواخذہ کا عمل لاگو کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان پر دسمبر 2019ءمیں مواخذہ کے امکانات تھے جس میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور ”یوکری“ سے ”جوبائیڈن“ کے تعلق ثابت کرنے کی کوشش وجہ بنی تھی۔ اب تک کی تاریخ میں صرف تین امریکی صدور مواخذہ کے عمل سے گزرے ہیں مگر کسی پر بھی دوسری مرتبہ اس کا امکان نہیں ہوسکا لیکن یہ ایک طویل دورانیہ کا عمل ہوگا پہلے کانگریس کو اس پر مکمل اتفاق کرنا ہوگا کہ صدر کو مواخذہ سے گزارا جائے اس کے بعد چیس جسٹس کی نگرانی میں اس پورے عمل کو مقدمے کے طور پر دیکھا جائے گا۔
امریکی جوڈیشل کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ”امریکی قوم اپنے طویل عمل کی متحمل نہیں ہو سکتی اس لئے میں ہر اس جز کی حمایت کرونگا جو کہ مواخذہ کو براہ راست ایوان میں لے آئے“۔
ممکن ہے کہ وقت کی کمی کے باعث اس قلیل عرصہ میں یہ مواخذہ کا عمل نہ انجام پا سکے۔ 1876ءمیں نئے صدر کے حلف اٹھانے کے بعد سابق صدر کا مواخذہ ہونے کی ایک مثال امریکی تاریخ میں نظر آتی ہے اس کے علاوہ جوبائیڈن کے صدر ہو جانے کے بعد سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہو گی اور چونکہ ویسے بھی مصروف ہیں۔
ٹرمپ کابینہ کے کئی عہدیدار اپنے استعفیٰ صدر کو ارسال کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بالاخر اپنی شکست کو تسلیم کرلیا ہے۔ کئی دہائیوں سے یہ جمہوری روایت چلی آرہی ہے کہ جانے والا صدر نئے منتخب صدر کو وہائٹ ہاﺅس میں مدعو کرتا ہے۔ صدر ٹرمپ ان تمام روایتوں سے انحراف کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ نئے صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔
امریکہ اور اس کی جمہوریت اس وقت ہر طرف زیر بحث نظر آتی ہے۔ جمہوریت عوام کی حکومت، فورم کے لئے کا نعرہ لگاتی ہے اور امریکہ ہمیشہ اس نظریہ کا علمبردار رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں