نہ جھکا، نہ ڈرا، نہ بکا، کون؟ 114

اندھا قانون

پاکستان میں عدالتی کاندھا استعمال کرکے انصاف اور قانون کا خون کھیلنے کا رسوائے زمانہ کھیل جاری ہے۔ پوری پاکستانی قوم کی نظریں اس وقت اپنی اس معزز عدلیہ پر لگی ہوئی ہیں جو آئین کی حفاظت کے لئے رات 12 بجے بھی کھلا کرتی تھی۔ آج وہ کیا بھنگ پی کر سو گئی ہے جو انہیں ریاستی ظلم و تشدد دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ کس طرح سے پاکستان کے سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے لیڈر اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ عادی مجرموں سے بھی زیادہ بدتر سلوک کیا جارہا ہے۔۔۔؟ کیا پاکستان کی عدلیہ کو یہ سب کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ کس طرح سے ان کے مقدمات اور وارنٹ کا سہارہ لے کر اپنے مخالفین کا کام تمام کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ کو اس کا نوٹس لینا چاہئے، کیا پاکستان کی عدالتیں ان کے فیصلے ان کے وارنٹ صرف عمران خان یا پھر ان کی پارٹی کے لئے ہے، انہیں سیکورٹی رسک ہونے کے باوجود عدالتوں میں پیش ہونے کا کہہ کر کن کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں کی جارہی ہے یعنی جس ملزم نے عمران خان پر حملہ کیا ہے اس کی جان کی تو عدالت کو پرواہ ہے کہ اسے ویڈیو لنک پر عدالت میں اپنا سابق ریکارڈ کرنے کی اجازت ہے مگر یہ اجازت سابق وزیر اعظم عمران خان کو نہیں ہے یہ پاکستانی عدلیہ کا امتیازی سلوک نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔؟ یعنی ایک خطرناک مجرم نوید پر مہربانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان پر نہیں؟ کیا پاکستانی عدلیہ یہ امتیازی سلوک عمران خان یا ان کی پارٹی کے خلاف فریق بننے کے لئے کافی نہیں ہے۔ جی ہاں اس طرح کے طرز عمل سے پاکستان کی عدلیہ مکمل طور پر جانب دار دکھائی دے رہی ہے اور ایسے لگ رہا ہے کہ عدلیہ کا ریمورٹ کسی اور کے پاس ہے اور کوئی اور ہی انہیں کنٹرول کر کے اپنے اشاروں پر چلا رہا ہے اور اگر واقعی ایسا ہے تو یہ تو اور بھی خطرناک اور افسوسناک ہے اور چیف جسٹس آف پاکستان کو اس کا فوری طور پر نوٹس لینا چاہئے کیونکہ اس طرح سے انصاف اور قانون کا خون خود عدلیہ کے اپنے ہاتھوں ہو رہا ہے اس لئے عدلیہ کو عوامی نظروں میں گرنے سے بچانے کے لئے چیف جسٹس کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور ایک ہی حکم کے ذریعے عمران خان کو الیکشن تک گرفتار کرنے پر پابندی عائد کی جائے یا انہیں اس وقت تک ضمانت دی جائے تاکہ جمہوری عمل متاثر نہ ہو اور وہ اپنی پارٹی کی انتخابی مہم چلائے جس طرح سے دوسری لنگڑی لولی پارٹیوں کو یہ سہولت دی گئی ہے اسی طرح کی سہولت ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو بھی دیئے جانے کی سہولت فراہم کرے۔
دوسری جان نگراں حکومت پنجاب کے اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے پر بھی سپریم کورٹ کو سوموٹو ایکشن لینے کی استدعا کی گئی ہے کہ نگراں حکومت کا کام غیر جانبدار بن کر ایک شفاف الیکشن کروانا ہے مگر پنجاب کی نگراں حکومت تو تحریک انصاف کے انتخابی مہم کو سبوتاژ کے لئے دفعہ 144 کا سہاراہ لے رہی ہے انہیں قانونی طریقے سے اپنی انتخابی مہم سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے اور تحریک انصاف کے امیدواروں اور ان کے سپورٹرز کو ہراساں کرنے اور انہیں جھوٹے مقدمات میں گرفتار کرنے کے لئے پولیس کو استعمال کیا جارہا ہے جس سے نگراں حکومت پنجاب کی جانبداری صاف دکھائی دے رہی ہے اور وہ اس وقت ایک طرح سے تحریک انصاف کے خلاف ایک فریقی بن کر ابھری ہے جس کا سپریم کورٹ آف پاکستان کو نوٹس لینا چاہئے۔
توشہ خانہ کے جس کیس اور خود جج زیبا چوہدری کے توہین عدالت کے جس مقدمہ میں عمران خان کو گرفتار کیا جارہا ہے، توشہ خانہ کے معاملے میں تو سو سے زائد سیاستدانوں کے معاملات سامنے آگئے ہیں اور توہین عدالت کی مرتکب تو روزانہ خود مریم صفدر ہو رہی ہیں مگر ان کے خلاف پاکستان کی عدلیہ بھنگ پی کر سو رہی ہے ان کے ہاتھوں اپنی ذلت انہیں ذلت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
پہلے ہی بالائی سطور میں لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کی عدلیہ کو ریمورٹ کے ذریعے کوئی اور کنٹرول کررہا ہے اسی لئے انہیں ساری برائی کسی اور میں نہیں صرف اور صرف عمران خان اور ان کی پارٹی میں دکھائی دے رہا ہے۔ اس لئے تو 80 کے قریب مقدمات ان کے خلاف درج کردیئے گئے ہیں اور عدلیہ باقی سارے مقدموں کو چھوڑ کر صرف عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے مقدمے ہی سن رہی ہے اور برق رفتاری سے وارنٹ پر وارنٹ جاری کررہی ہے اور اطلاع یہ ہی ملی ہے کہ عمران خان کو گرفتاری کے دوران ہی عادی مجرموں کی طرح سے نمٹا دیا جائے گا یعنی نوبت انہیں نہ تو جیل تک لے جانے اور نہ ہی عدالت تک پہنچانے کی آئے گی۔ اس مقصد کے لئے ایک خونی آپریشن تیار کرلیا گیا ہے جس پر آج کل کسی بھی وقت عمل درآمد کیا جائے گا جس کے لئے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ذہنی طور پر تیار ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ دشمن اپنے پرائے سب اس وقت ایک ہو گئے ہیں جو پاکستانی قوم کو کسی بھی حال میں حقیقی آزادی دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستانیوں میں آزادی کا شعور بیدار کرنے والے عمران خان کو ذوالفقار علی بھٹو کی طرح سے نشان عبرت بنانے کے مشن پر کام شروع کردیا گیا ہے، وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ سپریم کورٹ اپنی ذمہ داری پوری کرکے ملک اور قوم کو تباہی کی دلدل میں گرنے سے بچائے، اسی میں پاکستان کی سلامتی اور بقاءمضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں