Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 260

اندھیرا

کسی کالم میں، میں نے لکھا کہ معاشرے پر اندھیرا چھا گیا ہے تو ہمارے ایک سینئر صحافی اور پرانے دوست نے وضاحت طلب کی کہ معاشرے پر اندھیرا چھا جانے سے کیا مراد ہے تو میں نے سوچا کہ وضاحت ضروری ہے۔ اصل میں جب بھی کسی معاشرے پر اندھیرا چھا جائے تو وہاں کے رہنے والوں کو اچھے برے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔ شک و شبہات کے گھنے بادل چھا جاتے ہیں، اس معاشرے میں جھوٹ اتنی تیزی سے پھیل جاتا ہے کہ سچ کی مشعل خودبخود مدھم پڑ جاتی ہے۔ جہاں ایک دوسرے پر اعتبار بالکل ختم ہو جاتا ہے، لوگ خود غرض اور ایک دوسرے کے دشمن ہو جاتے ہیں۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اندھیرا چھایا رہے تاکہ وہ اپنی بدکرداری جاری رکھ سکے۔ معاشرے پر چھائی یہ سیاہی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تحفظ کے ذمہ دار افراد، عدلیہ، سب کے سب ظالم ہو جائیں اور یہ اندھیرا اس وقت اور خوفناک شکل اختیار کرلیتا ہے جب میڈیا ظالم ہو جائے اور تھوڑی بہت روشنی اس وقت تک قائم رہتی ہے جب کہ میڈیا کے اہم افراد غیر جانبداری اور ایمان داری سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں یعنی روشنی اس وقت تک تھوڑی بہت رہتی ہے جب تک میڈیا غیر جانبدار ہوتا ہے لیکن کسی بھی معاشرے میں گھپ اندھیرا ہمیشہ قائم نہیں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کچھ بندوں سے اس اندھیرے میں روشنی پھیلانے کے لئے کام لیتا ہے، چاروں طرف بدعنوانی کے اندھیرے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے اپنے مقام پر ایک دیا جلائے رکھتے ہیں، دنیا کچھ بھی کہتی رہے وہ روشنی کی ایک کرن سے ہی مطمئن رہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ سب لوگ صرف اپنے اپنے مقام پر ہی ایک چھوٹے سے دیئے کے ساتھ بیٹھے رہتے ہیں۔ ان کے اردگرد کی روشنی تو ان کو مطمئن رکھتی ہے لیکن معاشرے پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ لوگ بہت ایمان داری اور غیر جانبداری سے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے ایک دن کسمپرسی کے عالم میں اس دنیا سے رخضت ہو جاتے ہیں ان لوگوں کے پاس شاید اتنے وسائل یا وقت نہیں ہوتا کہ یہ دیئے سے دیا جلاتے ہوئے مزید روشنی کا انتظام کریں ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ ہم تو اپنے حصے کا کام کررہے ہیں، ہمیں باقی لوگوں سے کیا مطلب، لیکن معاشرہ لوگوں کے وجود سے ہی اچھا یا برا ہوتا ہے۔
روشنی کو مزید آگے بڑھانے کے لئے مزید کوشش اور جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے، یقین کریں، معاشرے کو سنوارنے یا بگاڑنے میں میڈیا کا اہم کردار ہوتا ہے، لوگ صرف خبروں، تبصروں اور تجزیوں پر یقین رکھتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنے روئیے تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ میڈیا ایک بڑی طاقت ہوتی ہے اور وہ معاشرے کو بدعنوان لوگوں سے بدعنوان حکومتوں سے بدعنوان تاجروں سے سیاست دانوں غرض زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے بدعنوان لوگوں سے نجات دلا سکتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں میڈیا سے متعلق اکثریت غیر جانبداری کا مظاہرہ نہیں کررہی ہے۔ اس میں بھی کسی شک کی گنجائش نہیں رہی ہے کہ لفافوں کے بدلے اس ملک کے ناسوروں کی پشت پناہی بھی ہو رہی ہے۔
میڈیا میں کچھ لوگ اچھے بھی ہیں لیکن وہ اپنی اپنی جگہ ایک مدھم سا دیا لئے بیٹھے ہیں۔ وہ اس سے آگے بڑھنے کا سوچتے بھی نہیں ہیں لیکن ایسا لگتا ہے ایک طویل عرصے کے بعد ایک شخص اپنی جگہ سے اٹھا ہے اور اس چھوٹے سے دیئے والے نہ صرف اس دیئے پر اکتفا نہیں کیا اور بہادری اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس دیئے کو ایک بڑی مشعل کی صورت بنانے کا عزم کیا۔ اس شخص کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ مشہور پرعزم صحافی پاکستان جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے چیئرمین جناب ایس اے صہبائی، جنہوں نے اس ایسوسی ایشن کو طاقت دینے کے لئے بہت محنت کی، لوگوں کو اکھٹا کیا اور ہر شخص نے ان کی تائید کی۔ ایس اے صہبائی یعنی صہبان عارف صہبائی نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز روزنامہ وطن کے رپورٹر کی حیثیت سے کیا اس کے بعد اپنی محنت ایمانداری اور عزم کی وجہ سے آگے بڑھتے ہی چلے گئے۔ مزاج میں بہت ٹھنڈک، خوش اخلاقی اور شفقت کے باعث ایک بڑے حلقے کی پسندیدہ شخصیت بن گئے۔ صہبائی صاحب کئی صحافتی اداروں میں نیوز ایڈیٹر سے ایڈیٹر انچیف تک رہے۔ صحافت میں کئی عہدے سنبھالنے کے علاوہ انہوں نے اپنی محنت سے گولڈ میڈل اور کئی اہم ایوارڈ حاصل کئے۔ صہبائی صاحب صحافی ہونے کے علاوہ ایک ادیب شاعر اور روحانی شخصیت بھی ہیں۔ روحانیت پر ان کی معروف کتاب عشق سمندر قابل مطالعہ ہے۔ صہبائی صاحب نہایت ہی پرعزم مستقل مزاج اور اصول پسند شخصیت ہیں انہوں نے یہ عزم کرلیا ہے کہ پاکستان میں صحافتی کو دوبارہ ایک اچھا مقام دلوائیں گے۔
صہبائی صاحب نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن اور امریکن یونیورسٹی سے ایم بی اے بھی کیا چونکہ سوشل ورکر بھی ہیں۔ ہیومن رائٹس ایکٹی ویسٹ، ورلڈ اسلامک میڈیا، انٹرنیشنل پریس کونسل فار پیس اینڈ لووکے علاوہ متعدد ادبی سماجی تنظیموں کے بانی بھی ہیں۔ اسی بناءپر صحافیوں کے بہتر مستقبل کے بارے میں پروگرام تشکیل دیئے جارہے ہیں۔ غریب صحافیوں کو سہارا دیا جائے گا ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ ایک بہتر اور پراعتماد زندگی گزارنے میں مدد دی جائے گی۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنا ہم خیال بنا کر صحافیوں کو معاشرے میں ایک ایسا مقام دیا جائے کہ ان کو اپنے معاشی حالات کے سلسلے میں پریشانی نا ہو۔ وہ ایک ہمدرد، روشن خیال، ذہین اور قابل اعتماد شخصیت ہیں۔ ان کی نیت نیک ہے جس مشن کو لے کر چلے ہیں اس میں ضرور کامیاب ہوں گے۔
آج کے میڈیا کے حالات بہت خراب ہیں، ہمارا میڈیا تعمیر کے بجائے صرف تخریب پر بات کرتا ہے، صرف مسائل پر سارا دن ٹاک شو کرتے ہیں اس کے حل پر بات نہیں ہوتی۔ کرپشن کے بادشاہوں کے کارنامے سارا دن بیان کئے جاتے ہیں، ان کی گرفتاری مال کی ضبطی اور سزا دینے پر شور کیوں نہیں ہوتا۔ حکومت یا فوج کے خلاف تو سڑکوں پر آجاتے ہیں، دھمکیاں دی جارہی ہیں، لوگوں کو مشتعل کیا جارہا ہے۔ چوروں، ذخیرہ اندوزوں، کرپٹ مافیا، بدعنوان افسران، پولیس افسران کی غنڈہ گردی پر سڑک پر کیوں نہیں آتے، کیوں آواز نہیں اٹھاتے، آپ کے پاس تو ٹی وی اخبار سب کا سہارا ہے، سب معلوم ہوتا ہے کہ کیا بدعنوانیاں ہو رہی ہیں لیکن لفافے مل رہے ہوں تو اس طرف سے آنکھیں بند ہی رہتی ہیں۔ کیوں کہ ان لوگوں کے خلاف زبان صرف لفافہ ہی بند کرتا ہے لیکن پوری امید ہے کہ آنے والے وقتوں میں پاکستان جرنلسٹس ایسوسی ایشن اپنا مثبت کردار ادا کرکے صاف اور شفاف صحافت کو دوبارہ جنم دے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں