افغانستان، حقوق نسواں 31

اندھے لوگوں کا دیس

یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے
اِس دیس میں اندھے حاکم ہیں
نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں
نہ لوگوں کے وہ خادم ہیں
وہ کہتے ہیں سب اچھا ہے
مغرب کا راج ہی سچا ہے
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر
ہر طرف شور شرابہ ہے۔ سوشل میڈیا دیکھیں تو ہر طرف ظاہر جعفر اور نور مقدم قتل کیس پر ہر شخص اپنے اپنے انداز میں چیختا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا، ہر بار یہی سب کچھ ہوتا ہے اور شاید یہی ہوتا رہے گا۔ دراصل پاکستان میں رہنے والے تمام لوگ تماش بین ہیں اور ہر معاملے کا تماشہ بنا کر اُس کی سنگینی سے صرف نظر کرتے ہوئے اُسے منطقی انجام تک پہنچانے کے بجائے جذباتی انداز میں نہ صرف کیس بلکہ پورے معاملہ کا رُخ ہی موڑ دیتے ہیں۔ ہر شخص سوشل میڈیا پر خبریں دیتا اور تجزیہ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری جانب ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں جس میں اعلیٰ سطح سے لے کر ایک پولیس کانسٹیبل تک سفارشی بھرے پڑے ہیں، کہیں زبان کی بنیاد پر، کہیں رشوت کے عوض بھرتیاں ہو رہی ہیں۔ میرٹ کا دور دور تک نام و نشان نہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ معاشرہ خستہ حالی کا شکار ہو چکا ہے۔ قانون گھر کی رکھیل بن چکا ہے۔ کہیں کوئی اپنی گاڑی تلے عام عوام کو روند ڈالتا ہے تو کوئی گھروں سے اپنے ہی ہم وطنوں کی بہو بیٹیوں کو اُٹھا کر ان کی عزت تار تار کررہا ہے۔ کوئی سنوائی نہیں، کہیں انصاف کا بول بالا دکھائی نہیں دیتا۔ عدالتی نظام تباہ حالی کا شکار ہے۔ وکلاءاور عدالتیں طوائف کے کوٹھہ سے کم نہیں۔ غرض یوں محسوس ہوتا ہے کہ پورا ملک ”بازاری لوگوں“ سے بھر چکا ہے اور چند شرفاءعزت بچانے کے لئے شتر مرغ کی طرح منہ چھپائے زندگی گزار رہے ہیں۔
موجودہ نور مقدم کیس کا شور بھی کچھ دن رہے گا اور پھر یہ معاملہ بھی سرد خانے کی زینت بن جائے گا تاوقتیکہ کوئی اور ظلم و جبر اور سفاکی کی نئی داستان جنم لے اور ایسا چند دنوں میں پھر ہوگا اور یہ ملک اسلام کے نام پر بنایا گیا، جس کا مطلب لا اللہ الہ اللہ رکھا گیا، یہاں کا ملا مذہبی جنونی، شہوت زدہ اور یہاں کا با اثر شخص، دولت کے بل بوتے پر عزتوں کا لٹیرا بنا پھر رہا ہے۔ اللہ کے نام لیوا، نبی سے محبت کے دعویٰ دار عملی طور پر قلاش دکھائی دیتے ہیں۔ ظلم و جبر، کرپشن لوٹ مار، اخلاقی گراوٹ، معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ چکا ہے۔
کوئی سرا دکھائی نہیں دیتا کہ جہاں سے شروع کرکے ملک کو سیدھے راستے پر ڈال دیا جائے، جہاں آئندہ ہونے والے واقعات کو انصاف کے نشتر سے لہولہان کردیا جائے مگر سوال یہی ہے کہ کون کرے گا؟ وہ جنہوں نے پہلے ملک کو اس حال پر پہنچایا یا پھر وہ جو آج پاکستان کو ریاست مدینہ کا درجہ دلوانا چاہتے ہیں؟ یاد رہے کہ ریاست مدینہ کے لئے جس ایثار اور قربانی کی ضرورت ہے وہ ہم پاکستانیوں کے پاس نہیں، ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہم بازاری لوگ ہیں اور ہم نے پاکستان کو طوائفوں کا کوٹھہ بنا کر رکھ دیا ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا عزم اور لیاقت علی خان کے آخری الفاظ یہی تھے کہ ”اللہ پاکستان کی حفاظت کرے“ جب کہ اُن کے آخری الفاظ ہونے چاہئے تھے کہ اللہ پاکستانیوں کی حفاظت کرے اور پاکستانیوں کو پاکستانیوں کے ظلم، جبر اور سفاکی سے محفوظ رکھے، آمین۔
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں