Muhammad Nadeem Columnist and Chief Editor at Times Chicago and Toronto 618

اونٹ رے اونٹ تری کون سی کل سیدھی

اسلامی جمہوریہ پاکستان جسے اسلام کے نام پر بنایا گیا۔ اور کہا گیا ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ“ جب کہ حقیقت بالکل اس کے برعکس تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کو ایک سیکولر ملک کے طور پر چلانا تھا۔ جہاں تمام مذاہب کو آزادی کے ساتھ اپنی دینی پریکٹس کرنے کا اختیار ہو۔ مگر انہیں مہلت نہ ملی یا انہیں مہلت دی نہ گئی۔ اور یوں بوٹوں والی سرکار نے پاکستان کو بندوق کی نوک پر ہائی جیک کر لیا۔ اب یہی بوٹوں والی سرکار نے اپنی بی ٹیم مذہبی جنونیوں کی شکل میں پاکستان بھر میں پھیلا دی ہے۔ یہ کبھی علامہ طاہر القادری، کبھی خادم حسین رضوی کی شکل میں عدلیہ کو اور حکومت کو گالیاں دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں نہ تو پاکستان سیکولر پاکستان بن سکا اور نہ ہی پاکستان کا مطلب لا الہ الا اللہ پورا ہو سکا۔ کیا حکمران، کیا مذہبی درندے، کیا ملک کی اشرافیہ، کاش کوئی تو ہوتا کہ ملک میں حق اور سچ کی آواز بلند کرتا۔ حد تو یہ ہے کہ جس نے سچ کہنے کی کوشش کی اس کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ کچھ مار دیئے گئے اور کچھ ملک چھوڑ گئے۔ اور جو رہ گئے وہ تمام مفاد پرست اور کمزور، جو نہ تو ملک سے باہر نکل سے اور نہ گھر سے باہر نکل پاتے ہیں۔ پاکستان کی عوام کا تو کچھ نہ پوچھئے وہ تو ڈھول کی تھاپ پر ناچ رہی ہے۔ کیونکہ بے بس اور مجبور قوم اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتی۔ ہماری عوام کہہ لیجئے کہ کم تعلیم یافتہ ہیں۔ اور ملکی وڈیرہ شاہی نے انہیں یرغمال بنا رکھا ہے۔ مگر کیا کیجئے جو پڑھے لکھے جاہل ہیں۔ جس کی تازہ مثال آسٹریلیا میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر محترمہ نائلہ چوہان کی اسٹوری وائرل ہو چکی ہے۔ اور آسٹریلوی حکومت نے اس پر ایکشن لے لیا ہے۔
Pakistani Australian Pakistani High Commissioner
پاکستان کے لئے کس قدر شرمندگی کا باعث ہے کہ ایک ایسے ڈپلومیٹ جو اللہ اور اس کے رسول کا ماننے والا ہے کہ جس کے نبی نے غلاموں کو آزاد کرایا اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک اور مساوات کا درس دیا۔ وہ ایک شاہد محمودنامی کشمیری نوجوان کو اسلام آباد میں اپنے ڈرائیور کی حیثیت سے رکھتی ہے اور جب آسٹریلیا کی ہائی کمشنر بن کر آتی ہے تو اسے بھی اپنی اور اپنی فیملی کی خدمات کے لئے ویزہ لگوا کر ساتھ لے آتی ہے، مگر آسٹریلوی قانون کے مطابق اس کو اس کے حقوق نہیں دیتی بلکہ اسے حبس بے جا میں رکھا جاتا ہے اور اس سے 24 میں سے 18 گھنٹے بیگار کرایا جاتا ہے، مگر شاید وہ یہ بھول جاتی ہے کہ وہ پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا کے ایسے ملک میں ہے جہاں انصاف کے تقاضے پورے کئے جاتے ہیں۔ جو کلمہ گو تو نہیں مگر انسانیت پر یقین رکھتے ہیں اور انسان کی عزت کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی انہی غلط عادتوں کے باعث آج الزامات کی زد میں ہے۔ پاکستان میں تو شاید وہ بچ جاتی مگر آسٹریلیا میں نہ انہیں حکومت پاکستان بچا سکتی ہے اور نہ کوئی اور قوت۔ اور وہ مکافات عمل کا شکار ہو چکی ہیں۔ یہ کیسے پڑھے لکھے سرکاری افسران ہیں جو ایک مسلم ملک کی نمائندگی تو کرتے ہیں لیکن اسلام کی اصل روح سے بہت دور ہیں۔ یہ اپنے قول و فعل میں بلا کا تضاد رکھتے ہیں۔ یہ ہم پاکستانیوں کا وطیرہ بن چکا ہے کہ انسان کو ہمیشہ چھوٹا سمجھتے ہیں۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں دیکھیں یا پاکستان سے باہر، اپنے ہم وطنوں کی حالت زار پر ترس آتا ہے۔ دل دکھتا ہے کہ یہ اگر مذہب کے لبادے میں توبھی منافقت سے باز نہیں آتے۔ اگر لادین ہیں تو بھی انسانیت سے دور۔ درحقیقت ان کا احساس مر چکا ہے، کسی نے کیا خوب کہا ہے
احساس مر نہ جائے تو انسان کے لئے
کافی ہے ایک راہ کی ٹھوکر لگی ہوئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں