Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 164

اٹھارویں ترمیم اور پاکستان

کرونا وائرس دنیا بھر میں جہاں انسانوں کو انتہائی بے رحمی سے نگل رہا ہے وہیں وہ پاکستان میں ایک ایسی اٹھارویں آئینی ترمیم کو بھی نگلے جارہا ہے جس کے ناقص اور ناقابل استعمال ہونے کا بھانڈا خود کرونا وائرس نے ہی پھوڑا جب صوبے صحت کے وزارت کے بلا شرکت غیرے مالک ہونے کے باوجود کرونا وائرس پر قابو پانے میں ناکامی اور بوکھلانے کے بعد خالی نگاہوں سے وفاق کی جانب یہ جاننے کے بعد بھی دیکھنے لگے کہ وہ ان کی مدد کرے جب کہ وفاق کا صحت کے شعبہ سے کوئی لینا دینا نہیں تو کیا یہ سب اٹھارویں آئینی ترمیم کی ناکامی نہیں؟ اس ترمیم کو تخلیق کرنے والے پاکستانی سیاست کے سقراط اور بقراط آکر بتائیں کہ کیا یہ اٹھارویں ترمیم قابل استعمال ہے؟ آج مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ کرونا وائرس کے بعد سندھ حکومت اور خاص طور سے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اتنے متحرک کیوں ہو گئے تھے؟ انہیں کرونا کے ہاتھوں لوگوں کی ہلاکت کا غم نہیں تھا بلکہ وہ کرونا وائرس کے ذریعے اٹھارویں ترمیم کی ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کی کوشش کررہے ہیں اور بار بار اپنی اور اس اٹھارویں ترمیم کی ناکامی کا ملبہ وہ خود اور اس بوسیدہ اور غیر فعال ترمیم کے خالق سیاسی ارسطو اور سقراط وفاقی حکومت پر گراتے رہے جب کوئی وزارت وفاق کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں تو پھر وفاق سے مداخلت اور مدد کرنے کا سوال کیسا۔۔۔؟
کرونا وائرس کے بعد جب بیرون ملک میں پھنسے لوگوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوا تو تب یہ سوال پیدا ہوا کہ ان لوگوں کا کرونا ٹیسٹ کس کی ذمہ داری ہے؟ وفاق کی یا صوبوں کی؟ پھر وہی سوال، جس کا جواب یہ ہی ہو سکتا ہے کہ جب صحت کے شعبہ سے مرکز کا کوئی لینا دینا ہی نہیں تو وہ کس طرح سے مداخلت کر سکتی ہے؟ اٹھارویں ترمیم کے ناقابل عمل ہونے کا اندازہ تو اس کے تخلیق کے فوری بعد ہی ہو گیا تھا لیکن اس طرح کا کوئی ناقابل تردید ثبوت وفاق کے ہاتھ نہیں لگا تھا کہ جسے جواز بنا کر دوبارہ سے اس آئینی ترمیم کے خدوخال کو تبدیل کرنے کے لئے سرجوڑ کر بیٹھا جائے۔ خدا کا کرنا ہوا کہ کرونا وائرس کے ذریعے یہ موقع وفاق کے ہاتھ لگ گیا اور اس پر اب باضابطہ ہوم ورک شروع ہو گیا ہے اور یہ جلد ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس اٹھارویں ترمیم کا پورے کا پورا مسودہ ہی کہیں اور بنایا گیا تھا لیکن اس پر دستخط پاکستان کے دونوں ایوانوں کے اندر کئے گئے تھے۔ بظاہر اس آئینی ترمیم کا مقصد 1973ءکے آئین کو اس کے اصل شکل میں واپس لانا تھا لیکن پس پردہ اس کے عوامل صرف اور صرف قومی خزانے کو مرکز کی کسی بھی طرح کی مداخلت کے بغیر ہڑپ کرنا تھا اور اس نیک کام میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی دونوں پیش پیش تھیں اس لئی کہ دونوں نے اپنے اپنے صوبے پنجاب اور سندھ کو اپنی میراث اور وہاں کے رہنے والوں کو اپنے مزارعے خیال کر لیا تھا اس لئے انہیں یہ اندھا یقین ہو گیا تھا کہ مرکز میں ان کی حکومت بنے یا نہ بنے لیکن صوبوں میں تو ان کی حکومت ہر حال میں بنے گی اس لئے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اس اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو مکمل خودمختاری دیتے ہوئے صحت، تعلیم، پولیس سمیت بعض دوسرے شعبے مرکز سے لے کر صوبوں کے حوالے کر دیئے تھے جب کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی فرمائش پر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے تیسری بار بننے پر عائد آئنی پابندی بھی ختم کرادی گئی۔
اس اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد اب اربوں کا فنڈ جو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے لئے وفاق سے صوبوں کو دیا جاتا ہے وہ صوبوں کے پاس جانے کے بعد عوام پر خرچ کئے جانے کے بجائے ان لٹیرے سیاستدانوں کی تجوریوں میں چلا جاتا ہے جس کا جیتا جاگتا ثبوت صوبہ سندھ اور بلوچستان کی خستہ حالت ہے یہ سب اس اٹھارویں آئینی ترمیم کا ہی شاخسانہ ہے جسے بچانے کے لئے پیپلزپارٹی ایک بار پھر ہاتھ پیر مار رہی ہے اور دوبارہ سے ایک گرینڈ الائنس بنانے کی تیاری کررہی ہے لیکن ان کی یہ کوششیں اسی طرح سے ناکام ہو جائیں گی جس طرح سے وہ اس آئینی ترمیم کو بناتے ہوئے کامیاب ہو گئے تھے اس لئے کہ جن لوگوں نے اس وقت اپنے ذاتی مفاد کو مدنظر رکھ کر اپنا ووٹ اس آئینی ترمیم کے پلڑے میں ڈال دیا تھا وہی لوگ اب اپنا ووٹ وفاق کے پلڑے میں ڈال دیں گے اس لئے کہ اس وقت مفادات کی ترجیحات کچھ اور تھیں اور اس وقت کچھ اور ہیں۔
ابھی مریم نواز اندرون ملک ہے اور انہیں بیرون ملک جانا ہے۔ شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز بھی ریلیف چاہتے ہیں۔ وفاق کے پاس بہت سارے کارڈ ہیں اس بازی کو جیتنے کے لئے۔ جب کہ پیپلزپارٹی کے پاس سوائے اپنے کرپشن کے اور کچھ بھی نہیں۔ ان تمام تر صورتحال کے باوجود بحیثیت ایک محب وطن پاکستانی کے بھی اگر اس صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے وفاق کو کمزور اور کھوکھلا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ وہ عمارت کس طرح سے طوفانوں کا مقابلہ کر سکتی ہے جس کی بنیادوں کو کمزور سے کمزور تر کر دیا جائے؟ یہ اٹھارویں ترمیم ایک طرح سے مرکز پر شب خون مارنے کی تیاری تھی جس طرح سے مغلوں کی حکومت کی تباہی صوبوں کی آزادی و خودمختاری سے ہوئی تھی بالکل اسی طرح سے پاکستان کو برباد کرنے کی شروعات بھی صوبائی خودمختاری سے کردی گئی ہے۔ نادرا جیسے شعبے جو وفاق کے پاس ہیں ان کی کارکردگی پوری دنیا میں تسلیم کی جاتی ہے اس کے برعکس کراچی کا کچرا اٹھارویں ترمیم کے ماتھے پر جھومر کی طرح سے جگمگا رہا ہے۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وقت کا ضیاع کئے بغیر اٹھارویں ترمیم میں کئے جانے والے غلط آئین سازی کو فوری طور پر دو تہائی اکثریت سے ختم کروا دیں اس لئے کہ آئین اور اس کی دفعات اور سیاست و جمہوریت کا براہ راست تعلق ریاست سے ہے اس لئے پہلے ریاست اور اس کا استحکام ضروری ہے۔ ریاست رہے گی تو اس کے عوام بھی رہیں گے اور عوام ہوں گے تو حکمرانوں کی ضرورت پڑے گی۔ اس لئے ہم سب کو پہلے ایک مضبوط پاکستان کے بارے میں سوچنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں