خود غرض اور انا پرست حکمران 144

با کمال لوگ، لاجواب سروس “Great People Fly with”

مجھے یاد ہے وہ زمانہ جب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن دنیا بھر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتی تھی۔ دنیا بھر کا ایئرلائن اسٹاف پاکستان آکر تربیتی کورسز مکمل کرتا تھا۔ پوری دنیا کی ایئرلائنز میں ہمارے عملہ اور ہمارے کپتان قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ جس محلے میں اور جس گھر میں پی آئی اے کا کوئی ملازم رہتا تھا تو اسے فخر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پی آئی اے کے ہرے رنگ کے لوگو والی گاڑیاں کراچی بھر سے اپنے عملہ کو شفٹوں کے حساب سے پک اینڈ ڈراپ کیا کرتی تھیں۔ پی آئی اے کی خواتین ایئر ہوسٹس جہاں سے گزر جائیں بالکل منفرد نظر آتی تھیں۔ اچھے اچھے گھرانوں کی لڑکیاں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن میں ملازمت کرتی تھیں۔ اس ادارے نے دنیا بھر میں اپنی جائیدادیں بنائیں اور خود کو معاشی طور پر مضبوط رکھا۔ آج کی کامیاب ایئرلائنز میں متحدہ عرب امارات کو بنانے اور چلانے کا سہرا بھی پی آئی اے کے سر جاتا ہے۔ پی آئی اے کے پائلٹ کا مقام عزت یہ تھا کہ ایک بار ملکہ برطانیہ نے پی آئی اے سے پائلٹس سروسز مانگ لیں۔ یعنی اس درجہ کا اعتماد رکھتا تھا یہ ادارہ اور اس کا عملہ مگر پھر جیسے جیسے پاکستان کے دیگر ادارے آہستہ آہستہ زمین بوس ہوتے چلے گئے اسی طرح پاکستان انٹرنیشنل بھی سیاستدانوں اور عملہ کے گھر کی باندی بن گیا۔ سیاسی بھرتیوں کے ذریعہ اس ادارے کو بربادی کے اس مقام پر پہنچا دیا گیا جہاں سے واپسی کے لئے شاید برسوں درکار ہوں۔ حکمرانوں کی بدنیتی کا یہ عالم رہا کہ پرائیوٹائزیشن کا عمل بھی پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا، سب نے یہی چاہا کہ اس ادارے کو خسارے میں ظاہر کرکے کوڑیوں کے مول خرید لیا جائے اور پھر مہنگے ترین کرایوں کے ذریعہ عوام کا خون چوس کر اس ادارے کے ذریعہ مزید پیسہ بنایا جائے۔ حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو یہ احساس کیوں نہ ہو سکا کہ یہ انہی کا ملک ہے۔ یہاں کے لوگ ان کے اپنے ہیں۔ یہاں کے ادارے ان کی عزت ہیں، بجز اس کہ ہر ایک ادارے کو لوٹ کھسوٹ کر آخرکار تباہ حال کردیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ روز ویلٹ ہوٹل نیویارک، پی آئی اے ہوٹل ان پیرس، ترکی اور دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ مزید جائیدادیں پی آئی اے بناتا اور خود کو معاشی طور پر مزید مضبوط کرتا چلا جاتا مگر آنے والی سیاسی حکومتوں اور فوجی آمروں نے جہاں سیاسی حکومتوں کو جینے نہیں دیا، وہیں انہوں نے تمام اداروں میں بھی اپنے تربیتی افراد بٹھائے جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ چیزیں برباد ہوتی چلی گئیں۔ جو ادارے اور کارپوریشن فوج کے زیر سرپرستی آئے، کامیابی سے چلتے رہے مگر دوسری جانب جو ادارے سیاسی جماعتوں نے چلائے وہ اقربا پروری اور سیاسی بھرتیوں کی نذر ہوگئے۔ افسوس اور حیرت یہ ہے کہ ہمارے فوجی جرنلز نے یہ کیوں نہ سوچا کہ یہ ادارے جو ان کی دسترس سے باہر ہیں کیوں نہیں چل رہے اور انہیں چلانے کے لئے بھی انہیں آگے آنا چاہئے مگر یہ ایک بہت بڑا سوال ہے کہ اسٹیل ملز، نیشنل ریفائنری، پی آئی اے اور پاکستان ریلوے ملک کے دیگر ادارے کیوں نظر انداز کئے گئے اور انہیں بربادی کے دہانے تک پہنچتے ہوئے دیکھنے والے کون تھے؟ انہیں کیا محب وطن کہا جانا چاہئے، ملک کو محتاجی اور عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دھنسا کر ہم نے کیا کھویا کیا پایا؟
آج پی ائی اے جیسا ادارہ آخری سانسیں لے رہا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ الیکشن کے بعد آنے والے کیا گل کھلاتے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں