62

بلّا اِن، کپتان آﺅٹ: لاہور کے بعد میانوالی سے بھی نا اہل قرار

پشاور (فرنٹ ڈیسک) پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے انتخابی نشان بلا بحال کر دیا۔ پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس سید ارشدعلی نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ جسٹس سید ارشد علی نے پوچھا الیکشن کمیشن نے کون سے سیکشن کے تحت اس پارٹی کے خلاف کارروائی کی، وکیل شکایت کنندہ نے بتایا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 215 کے تحت کارروائی کی ہے، جس پر عدالت نے کہا الیکشن کا رزلٹ تو 7 دن کے اندر جمع کیا گیا ہے، وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا الیکشن کمیشن نے دیکھنا تھا کہ سیکشن 208 کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے، سب نے کہا کہ جو بانی پی ٹی آئی کہیں گے وہی ہوگا۔ جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے یہاں تو سب جماعتیں ایک ہی خاندان کے لوگ چلاتے آرہے ہیں، شاید یہ واحد جماعت ہے جو ورکرز کو آگے آنے دے رہی ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے ہیں کہ کبھی کوئی تو کبھی کوئی لاڈلا بن جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفرنے شکایت کندہ کے وکلا کے اعتراضات پر جواب دیتے ہوئے کہا فریقین کے وکلا نے عدالتی دائرہ اختیار پر سوالات اٹھائے، دائر اختیارپر اصول کیا ہے وہ بتانا چاہتا ہوں، آرٹیکل 199 ہائیکورٹ کو سماعت کا اختیار دیتا ہے۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہمارے انٹرا پارٹی الیکشن پشاور میں ہوئے جو ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اب الیکشن ہو رہے ہیں تو پورے ملک کے لیے ہیں، ہماری پارٹی کے جنرل سیکرٹری بھی اس صوبے سے ہیں۔ جسٹس اعجاز انور نے سوال کیا آپ کی پارٹی کے جنرل سیکرٹری کون ہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ عمر ایوب جنرل سیکرٹری ہیں جن کا تعلق اس صوبے سے ہے، ماڈل ایان علی کے خلاف کیس راولپنڈی میں تھا، اسے کراچی ائیرپورٹ پرگرفتار کیا گیا تھا، اس وقت بھی ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھا تھا۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے بتایا کہ ایان علی کیس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سندھ ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار بنتا ہے، شکایت کنندہ کی شکایات بد نیتی پر مبنی ہیں، شکایت کنندہ دوبارہ انتخابات نہیں پارٹی ختم کرنا چاہتے ہیں، الیکشن کمیشن کا فیصلہ اسلام آباد یا پشاور ہائیکورٹ کہیں بھی چیلنج ہو سکتا ہے، اس صوبے میں 2 بار پی ٹی آئی نے حکومت بھی کی ہے، یہ کہنا کہ پارٹی آفس اسلام آباد میں ہے کیس یہاں نہیں ہو سکتا غیر مناسب ہے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل سکندربشیر مہمند نے اپنے دلائل میں کہا کہ کاغذ لہرا کر کہا گیا کہ یہ پارٹی چیئرمین ہے اوریہ نتائج ہیں، یہ غیرقانونی انٹرا پارٹی انتخابات پر کہتے ہیں کہ ہمیں انتخابی نشان دیں جبکہ وکیل شکایت کنندہ کا کہنا تھا سب نے کہا جو بانی پی ٹی آئی کہیں گے وہی ہوگا۔ جسٹس ارشد علی نے کہا الیکشن ایکٹ کی سیکشن 208 کے تحت انٹراپارٹی انتخابات ہوتے ہیں، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 209 کی سب سیکشن 2015 کے تحت کیسے پارٹی نشان واپس لیا گیا، جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سیکشن 209 کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات فارم 65 کو صرف دیکھنا نہیں مطمئن ہونا الیکشن کمیشن کا کام ہے، پی ٹی آئی والے الیکشن کمیشن کو ایک ریکارڈ کیپر سمجھتے ہیں، الیکشن کمیشن ایک ریگولیٹری باڈی ہے جو انٹرا پارٹی انتخابات کو دیکھ سکتی ہے۔ وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا سیکشن 209 میں ہے کہ پارٹی چیئرمین کا فارم 65 اقرار نامہ ہے کہ پارٹی انتخابات پارٹی کے آئین کے تحت ہوئے، انتخابی نشان صرف انتخابات کے وقت پارٹی کے پاس ہوتا ہے، انتخابات کے بعد چار سال یہ نشان الیکشن کمیشن کے پاس ہوتا ہے، انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد پارٹی انتخابی نشان مانگتی ہے، الیکشن شیڈول جاری ہوتا ہے تو پھر انتخابی نشان الاٹ ہوتے ہیں، کل اورپرسوں انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے، الیکشن ہونے کے بعد سیاسی جماعت کا نشان سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے درخواست گزاروں، الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی وکلا کے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ پشاور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ نے درخواست گزاروں، الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی وکلا کے دلائل سننے کے بعد محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف کا انتخابی نشان “بلا” بحال کر دیا۔اس سے قبل سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی بلے کے انتخابی نشان کی درخواست واپس لینے پر خارج کردی۔پاکستان تحریک انصاف کی بلے کے نشان کی بحالی کیلئے درخواست پر سماعت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بھی بنچ کا حصہ ہیں۔ سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس پاکستان نے بیرسٹر گوہر سے استفسار کیا آپ کون ہیں؟ حامد خان صاحب کہاں ہیں؟ بیرسٹر گوہر سے نے بتایا میں درخواست گزار کا وکیل ہوں۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا حامد خان صاحب آپ نے پرسوں کہا تھا آپ وکیل ہیں، حامد خان بولے ہمارا کیس اس وقت پشاور ہائیکورٹ میں ہے، چیف جسٹس بولے آپ کھڑینہیں ہوئے، یہ بتائیں آپ وکیل نہیں ہیں اس کیس میں؟ حامد خان نے کہا نہیں میں اس کیس میں وکیل نہیں ہوں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کل کو کوئی آکریہ دعوی کر دے کہ ہم نے درخواست واپس نہیں لی تھی توپھر؟ علی ظفرکہاں ہیں، انہیں تو اعتراض نہیں درخواست واپس لینے پر؟، حامد خان نے کہا نہیں، علی ظفر کو اعتراض نہیں، وہ اس وقت پشاور ہائیکورٹ میں ہیں۔ سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی جانب سے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے کسی وکیل نے درخواست واپس لینے پراعتراض نہیں کیا۔دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کو انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کے معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کا اہم اجلاس آج طلب کرلیا گیا۔ڈان نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اجلاس آج صبح الیکشن کمیشن کے سیکریٹرٹ میں ہوگا۔ اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں ہوگا۔اجلاس میں کمیشن کے چاروں اراکین اور اسپیشل سیکریٹریز شرکت کریں گے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اجلاس میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر مشاورت کی جائے گی اور الیکشن کمیشن کا لائ ونگ کمیشن کو پشاور ہائی کورٹ فیصلے سے متعلق قانونی نکات پر بریفنگ دے گا۔انہوں نے کہا کہ تاحال الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخاب سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ موصول نہیں ہوا ہے۔”بلا چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ “بلا” پاکستان کے عوام کی ترجمانی کا نشان ہے مگر الیکشن کمیشن نے ناجائز طور پر روک لیا تھا۔ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ الحمداللہ پشاور ہائیکورٹ نے تاریخی فیصلہ دے دیا، تحریک انصاف کا انتخابی نشان بلا بحال ہوگیا ہے۔ گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ یہ نشان پاکستان کے عوام کی ترجمانی کا نشان ہے، الیکشن کمیشن نے ہر محاذ پر ناکام کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نشان بحال نہ ہوتا تو227ریزرو سیٹیں چلی جاتیں اور تقریبا860 جنرل سیٹوں کے امیدوار بھی آزاد ہوجاتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں