عدالتیں یا ڈاک خانے؟ 141

بن بادل برسات

خزاں کے آنے سے پہلے ہی پتوں کے جھڑنے کا مطلب ہے بن بادلوں کی برسات۔۔۔ اسی طرح سے تحریک انصاف سے ایک کے بعد ایک فصلی بٹریے کا نکلنا اسی طرح کی بے موقع کی راگ کی عکاسی کررہا ہے اور اس صورتحال پر بغلیں بجانے والے یا بتیسی نکالنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ اس طرح سے کرکے وہ نہ تو تہریک انصاف کو اور نہ ہی عمران خان کو کوئی نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ اس طرح سے کرکے وہ غیر ارادی طور پر تحریک انصاف اور عمران خان کی مدد کررہے ہیں۔ اس آبیاری کو پروان چڑھانے کے لئے پانی کے بجائے خون دے رہے ہیں۔ ان احمقوں کو یہ ہی نہیں معلوم کہ جن لوگوں نے اس وقت پارٹی کو چھوڑا ہے انہوں نے دراصل اپنی اصلیت اپنی زبان سے واضح کردی ہے کیونکہ وہ ٹرانزٹ کے مسافر تھے وہ تو کبھی پارٹی کے اپنے تھے ہی نہیں۔ اس لئے ان کے جانے یا آنے سے پارٹی کی صحت پر کوئی اثر نہیں، پارٹی چھوڑنے والوں کو جاوید ہاشمی اور فیصل واوڈا کے انجام سے عبرت حاصل کرنا چاہئے۔ ان کی عزت پارٹی سے تھی، پارٹی سے نکالے جانے کے بعد ان کی حالت دھوبی والے ”کاف“ کی ہو گئی ہے جن لوگوں نے پارٹی کو خیر آباد کہہ دیا ہے ان کی اپنی حالت تو گملے کے پودوں سے بھی بدتر ہے ان میں اپنے حلقے سے کونسلر کا الیکشن جیتنے کی بھی صلاحیت نہیں۔ میرا یہ دعویٰ صرف دعویٰ نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے۔ الیکشن میں حصہ لے کر وہی دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ تحریک انصاف پاکستان کے عوام کی پارٹی ہے اور عمران خان کے ایک اشارے ملکی عوام حرکت میں آجاتی ہے۔
عمران خان کھمبے کی طرف اشارہ کرے گا، لوگ اسے ووٹ دیں گے، یہ جو فصلی بٹیرے کسی بھی وجہ سے پارٹی چھوڑ کر گئے ہیں، انہوں نے خود اپنے سیاسی موت پر دستخط کرلئے ہیں اب ان کی سیاست میں سوائے رسوائی کے اور کچھ نہیں ملے گا۔
ملکی عوام کی نفرتیں گلی کوچوں اور شاپنگ سینٹروں میں ان کا استقبال کرے گی اور پی ڈی ایم کے جن پالیسی سازوں نے ایسا کرکے اپنے جشن کا اعلان کیا ہے، میرے خیال میں وہ بھی پرلے درجے کے بے وقوف لوگ ہیں جو پھونکوں سے آگ کو بجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ بھلا کبھی پھونکوں سے بھی کبھی آگ بجھی ہے اور یہ جو پاکستان میں بیٹھی لفافہ صحافت جس طرح سے اسے پی ڈی ایم کی بہت بڑی کامیابی اور پی ٹی آئی کو جعلی انقلاب سے تشبہہ دے رہے ہیں وہ دراصل خود بھی غافل ابن غافل ہیں اور پوری قوم کو بے وقوف سمجھ کر ان پر اپنا فلسفہ تھوپ رہے ہیں ان بے چاروں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ اب پاکستانی قوم 1970ءیا 1990ءکی دہائی والی پاکستانی قوم نہیں رہی۔ اب ان کی ذہنی حالت پاکستان کے سقراط اور بقراط نما صحافیوں سے کہیں آگے پہنچ چکی ہے اب پاکستانی قوم بہت باشعور ہو چکی ہے، برے پھلے کی انہیں تمیز ہو چکی ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا کو اب پی ٹی وی کا ایکسٹینشن سمجھ رہے ہں اس لئے ان کی اطلاعات اور تبصروں اور تجزیوں کو وقت کا ضیاع خیال کرتے ہوئے وہ سوشل میڈیا کے علاوہ غیر ملکی نشریات پر انحصار کرتے ہیں اور وہاں سے ملنے والی معلومات کو ہی حقیقت خیال کرتے ہیں کیونکہ کسی ایک بھی پاکستانی میڈیا نے تاحال ایم آئی کی اس چونکا دینے والی رپورٹ کا کہیں ذکر ہی نہیں کیا ہے جو انہوں نے آرمی چیف کو بھجوائی ہے جس میں انہوں نے 9 مئی کے افسوسناک واقعات سے نہ صرف پردہ اٹھایا ہے بلکہ اس میں ملوث اصل کرداروں کو بڑی جرات اور ہمت کے ساتھ بے نقاب کیا ہے۔ ایم آئی کی اس رپورٹ نے تو ساری کی ساری کایا ہی پلٹ ڈالی ہے اس رپورٹ کا علم پوری قوم کو ہوچکا ہے اگر کسی کو اس کا علم نہیں تو وہ پاکستان کی باخبر مین اسٹریم میڈیا ہے اب اس پر فخر کیا جائے یا پھر ماتم اس کا فیصلہ قارئین آپ خود کریں۔ جو کچھ بھی اس وقت پاکستان میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر کروایا جارہا ہے وہ دراصل ایک نئے پاکستان کے قیام کے لئے ضرور راہیں ہموار کرنے کا باعث بن رہا ہے کیونکہ جس طرح سے گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے کے مصداق مخالفین خود ہی تحریک انصاف کو تیزاب سے غسل دے کر اس میں سے گند کو نکال کر چمکانے کی کوششیں کررہے ہیں اس پر یقیناً وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور وزیر دفاع خواجہ آصف مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پاکستانیوں کو اس وقت ثابت قدمی سے صورتحال کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں