یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں ہنود 112

بوڑھا شیر اور چالاک لومڑی

الطاف حسین نے جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید سے اپنے رابطوں کے حوالے سے اپنے حالیہ خطاب میں انکشاف کیا کہ اسٹیبلشمنٹ سے ایک بار پھر نئے رابطوں کے ذریعے ان کو سندھ کے شہری علاقوں میں کارکنوں سے رابطہ مہم کے ساتھ ساتھ تنظیم کے یوم تاسیس کے سلسلہ کی تقریبات مکہ چوک پر منعقد کرنے کی بھی اجازت دی گئی لیکن انعقاد سے کچھ ہی گھنٹوں پہلے ہی اجازت نامہ منسوخ کردیا جس کی وجہ سے الطاف حسین نے اپنی توپوں کا رُخ ایک بار فوجی اسٹیبلشمنت کی طرف پھیر دیا اور جی بھر کر فوجی حکمرانوں کو کوسنا شروع کردیا۔ اب وہ اس ہی قابل رہ گئے ہیں کہ دشمنوں کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی بددعائیں ہی دے سکتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ الطاف حسین کے یوم تاسیس کے انعقاد کے اعلان کے سلسلے میں شہری علاقوں کے عوام نے ناقابل یقین حد تک جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس میں شریک ہونے کی تیاری دھوم دھام سے شروع کرکے مخالف حلقوں کو حیرت کے ساتھ ساتھ پریشان کردیا تھا۔ تصویر کا ایک رخ۔
دوسرے رُخ کی طرف دیکھا جائے تو یہ سب کچھ اس موقع پر ہوا جب ملک میں پی ڈی ایم کی تحریک بڑے زور و شور سے جاری تھی، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی راتوں کی نیند اڑا چکی تھی۔ نواز شریف اور مریم نواز فوج اور حکومت پر بڑھ چڑھ کر حملے کررہے تھے۔ بلاول بھی ان کی دیکھا دیکھی آستینیں اونچی کرکے حکومت کے بخیے ادھیڑ رہے تھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ ہی دنوں میں ڈوبتی ہے حکومت سرکار کی۔
فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، فوجی حکمرانوں کے بار بار اعلانات ہو رہے تھے کہ ہم سیاست سے بہت دور ہیں۔ مخالفین اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ مختلف طرح کی افواہوں کے بازار گرما گرم تھے۔ بہت بڑے جلسے منعقد ہو رہے ہیں۔ میاں نواز شریف فوجی حکمرانوں کے نام لے لے کر ان کو بعرت کے نشان بنانے کے انتباہ جاری کررہے تھے۔ اس کے باوجود عمران خان اپنا ہی راگ الاپ رہے تھے، نہیں چھوڑوں گا، نہیں چھوڑوں گا۔
ایک طرف عمران خان حکومت اسٹیبلشمنٹ کو آنکھیں دکھا رہی تھی، دوسری طرف پی ڈی ایم نے اپنا پورا زور دکھایا ہوا تھا یوں بقول تجزیہ نگار اپوزیشن کے غبارے میں ہوا بھری ہوئی تھی اس میں آصف علی زرداری نے ایک تیلی لگا کر اس بھرے ہوئے غبارے سے ہوا نکال دی۔ جس پر اپوزیشن کے ساتھ ساتھ خود پیپلزپارٹی پنجاب کے حلقے حیران پریشان ہو گئے۔ آصف علی زرداری نے پی ڈی ایم میں اپنے مقاصد جب پورے کر لئے تو اب ان کے لئے اپوزیشن کی حیثیت ٹیشو پیپر کی رہ گئی تھی ان کو جس ڈیل کے لئے اس میں شمولیت اختیار کی تھی وہ مقاصد اب پورے ہونے کا وقت آگیا۔ ان کے معاملات اسٹیبلشمنٹ سے بہت عرصے سے طے نہیں ہو پارہے تھے اور جیسے ہی یہ ڈیل مکمل ہوئی آصف زرداری نے پی ڈی ایم سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔
آصف علی زرداری سے جب یہ طے کردیا گیا کہ سندھ میں ان کی حکومت کو چھیڑے بغیر مزید اگلے پانچ سال تک کا واک اوور مل جائے گا جیسا کہ انہیں گزشتہ 2008ءسے سندھ میں بلاشرکت غیرے اپنی حاکمیت برقرار رکھنے کے اختیارات حاصل ہیں۔ ساتھ ساتھ اگلے انتخابات میں کچھ نشستیں جنوبی پنجاب، بلوچستان اور کے پی کے میں دلوائی جائیں گی۔ ان معاملات تک پہنچنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ نے آصف علی زرداری کو دباﺅ میں رکھتے ہوئے اپنے پرانے ہتھیار ایم کیو ایم کو استعمال کیا۔ یوں ان کے مذاکرات الطاف سے شروع کئے گئے اور اس دوران ان سے معافی نامہ کے ساتھ ساتھ ان کا آڈیو پیغام بھی جاری کروایا گیا جس کو دکھا کر آصف زرداری سے ڈیل کو حتمی حیثیت دی گئی۔ یہ ڈیل نئی نہیں تھی، آصف زرداری سے اس طرح کے انتظامات 2008ءسے جاری تھے جس کے تحت سندھ سے ایم کیو ایم کو ان کے راستے سے ہٹا کر اس کی جگہ رینجرز کو سامنے لایا گیا تھا۔ سندھ میں آصف زرداری نے جب یہ دیکھا کہ سندھ میں مہاجروں کی متبادل رینجر کو طاقت کے توازن کو قائم کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے تو انہوں نے مرکز میں بھی اس ہی طرح سے مہاجروں کی جگہ اپنا حصہ طلب کیا۔ اس اصول پر کہ سندھ میں رینجرز اور پیپلزپارٹی اور اس ہی طرح مرکز میں مہاجروں کی جگہ پیپلزپارٹی کے حامیوں کو حصہ دیا جائے گا اس طرح کے انتظامات کے تحت سندھ میں 2008ءسے مہاجروں کو راستے سے ہٹا دیا گیا یہ ہی طریقے مرکز میں بھی اس ہی تناسب سے اختیار کئے گئے۔
یہ ہی اسٹیبلشمنٹ نے ماضی میں مہاجروں کے ساتھ اختیار کئے اور مہاجروں نے فوج کے ساتھ مل کر سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف کارروائی جاری رکھیں تو کچھ سندھی دانشوروں نے الزام لگایا کہ مہاجر سندھیوں کا ساتھ دینے کے بجائے فوج کا ساتھ دے کر سندھ سے وفا کا ثبوت نہیں دے رہے یہ بھی حقیقت ہے کہ مہاجروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی گھٹی میں ”اسلام“ ”پاکستان“ اور ”فوج“ کو ڈالا جاتا ہے جس کا اندازہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام کے نام پر وہ سب کچھ چھوڑ کر اس خطہ زمین پر آگئے جہاں پر وہ گزشتہ ہزار سال سے حاکموں کی طرح زندگی بسر کررہے تھے اور اس زمین کو چھوڑ کر وہ ایک ایسی سرزمین پر آگئے جہاں وہ محکوم زندگیاں گزارنے پر مجبور تھے۔ اسلام اور پاکستان کے نعرہ لگاتے رہے، اسلام پاکستان سے محبت کو وہ اپنے دل سے لگائے تمام زخم سہتے رہے اور پاکستان کی خدمت اور ان کے لئے بہت کچھ قربان کرنے کا جذبہ ان کے وجود سے نہ مل سکا اور جب ان کو مسلسل استحصال کا نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا اور ان کے حقوق پامال ہوتے رہے تو انہوں نے ایم کیو ایم کی حمایت شروع کردی جس کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ اس کی تشکیل میں بھی فوج کا ہاتھ تھا۔
اس کے قائد الطاف حسین کی ایک آواز پر ووٹ، نوٹ اور جان قربان کرتے رہے یوں پوری کی پوری نسل برباد کرتے چلے گئے۔ بعد میں اس قائد کو جسے انہوں نے اپنی آنکھوں پر بٹھایا اس کے منہ سے پاکستان کے خلاف نعرے سنے تو ایک بہت بڑی تعداد مایوس ہو کر گھروں میں بیٹھ گئی ان کے نام پر ایم کیو ایم کے کچھ گروپ بنائے گئے جن کو اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی سے استعمال کرتی رہی اس طرح ایک طرف مہاجروں کی نسلیں برباد ہوتی چلی گئیں دوسری طرف سندھ کے اربن علاقوں میں پیپلزپارٹی نے بلاشرکت غیرے اپنا غلبہ قائم کرلیا۔
اس کے باوجود فوج سے اور پاکستان سے محبت مہاجروں کے دل میں موجود رہی جب ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں لاکھوں کی تعداد میں اسلحہ برآمد ہوا اور کراچی میں ایم کیو ایم کے طاقتور نیٹ ورک کے باوجود ایک گولی کسی فوجی کے خلاف نہیں چلی جیسا کہ اس طرح کے آپریشن کے خلاف فاٹا بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں فوجی جوانوں کی لاشیں ان کے آبائی گھروں تک پہنچتی تھیں مگر کراچی کراچی میں بڑی تعداد میں اسلحہ اور طاقتور تنظیم کے باوجود ایک گولی اپنے فوجی جوانوں کے خلاف نہیں چلی جب کہ رینجرز کے خلاف بہت غم و غصہ مہاجروں کے ذہنوں میں پل رہا تھا۔ انہوں نے اپنے محبوب قائد کو بھی پاکستان اور فوج کی خاطر فراموش کرکے اپنے آپ کو دوسرے درجہ کا شہری سمجھ کر صبر کرلیا۔ مہاجروں کو بے یارومددگار پیپلزپارٹی اور رینجرز کے حوالے کردیا گیا، کسی نے بھی ان کے زخموں پر مرہم نہ رکھا، پیپلزپارٹی کو سندھ میں مالک و مختار بنا دیا اس نے بھی سندھی مہاجر یکجہتی کا موقع ضائع کردیا حالانکہ انہوں نے سندھ میں 60/40 فارمولہ کے تحت مہاجروں کو ان کا حصہ سے بھی محروم رکھا۔ سندھ کے ہر محکمہ اور شعبوں سے مہاجروں کا صفایا کردیا گیا، سندھ کے شہری علاقے میں دیہی علاقوں کی طرح پسماندہ ہوتے چلے گئے اور مہاجر بھی ان کے ہاری بنتے چلے گئے دوسری طرف الطاف حسین اور ایم کیو ایم لندن پر بھارت سے رابطوں کے الزامات بھی لگتے رہے جس طرح اب نواز شریف پر غیر ملکی قوتوں کے آلہ کار بننے کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ ایم کیو ایم پر سندھ میں ٹارگٹ کلنگ کے بھی الزامات لگائے گئے، بوری بند لاشوں کو ایم کیو ایم سے بھی منسوب کیا جس طرح پچھلے دور میں بہادر بچہ راﺅ انوار پر ماورائے عدالت قتل کے الزامات لگائے گئے اس ہی طرح کے الزامات ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلر پر بھی لگائے جاتے تھے۔ باقی دوسرے علاقوں سے مسخ شدہ لاشوں کے الزامات ملکی ایجنسیوں پر بھی عائد کئے جاتے تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم میں مسلح دستہ شہروں میں دہشت پھیلانے میں استعمال ہو رہے تھے اس ہی طرح پورے ملک میں جہادی تنظیموں کو بھی مسلح دہشت گردی کی اجازت دے دی گئی تھی۔
سندھ سے تو مسلح دہشت گردی کا خاتمہ کردیا گیا جس کے لئے رینجرز کو یہ اعزاز دیا جا رہا ہے اس کے بر خلاف فاٹا کی شرائط کو پورا کرنے کے لئے کچھ جہادی تنظیموں کو اب کہیں جا کر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اب کیونکہ آصف علی زرداری کی ڈیل کے نتیجہ میں پی ڈی ایم کو کمزور کردیا گیا اس کے تحت اب ایک بار پھر ایم کیو ایم لندن کی ضرورت باقی نہیں رہی یوں الطاف حسین کے سیاست میں واپسی کے راستے فی الوقت بند ہی سمجھے جائیں گے اب مہاجروں کو بھی یہ ہی فیصلہ کرنا ہے کہ ان کو وہ الطاف حسین چاہئے جو اے پی ایم ایس او کے قائد کے تحت مہاجروں کی رہنمائی کرتے رہے ہیں یا وہ الطاف حسین جو اپنی بیماری کے نشے سے شرابو ر ایک رات فیصلہ کرنے کے بعد دوسرے دن ہوش میں آنے کے بعد اس کے برعکس عمل کریں۔ مہاجروں کے لئے بہتر یہ ہی ہے کہ وہ اے پی ایم ایس او والے الطاف حسین کی تلاش کریں جو اپنے دلائل کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھیوں کو برداشت کے ماحول میں ان کی رہنمائی کرتا رہا ہے۔ وہ الطاف حسین چاہئے جس کے منہ سے پھول جھڑیں نہ کہ شعلے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں