عدالتیں یا ڈاک خانے؟ 164

تباہی اور بربادی؟

اس وقت پی ڈی ایم ایڑی چوٹی کا زور لگا کر پی ٹی آئی کو پاک فوج سے لڑوانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس مقصد کے لئے جرنلزم کے لفافے پوری طرح سے متحرک ہو گئے ہیں اور بہت ہی بُری طرح سے ”رائی کا پہاڑ“ بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں یعنی ملکی عوام کو اپنی ہی میڈیا اس وقت گمراہ کررہی ہے، حقیقت کو مسخ کرکے بیان کیا جارہا ہے، پاک افواج کو ہتھیار کے طور پر عمران خان اور ان کی جماعت پی ٹی آئی کو کچلنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے، جس کے مظاہر ہر کسی کو اس وقت نظر آرہے ہیں کہ کس طرح سے ایک جمہوری معاشرے اور نام نہاد جمہوری حکومت میں آرمی ایکٹ کے تحت پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات درج کرنے کی حمایت کی جارہی ہے۔ غرض ملک کو پوری طرح سے خانہ جنگی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے اور ایک سازش کے تحت فوج کو اپنے ہی عوام سے لڑوانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لاہور کے کور کمانڈر کے گھر پر حملہ بھی اسی سازش کی کڑی بتلائی جارہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس واقعہ کی کوئی آزادانہ یا شفاف انکوائری تک نہیں کی جارہی ہے۔ اتنے بڑے واقعہ پر مجرمانہ غفلت و لاپرواہی کے مرتکب پنجاب کے آئی جی عثمان اور لاہور کے سی سی پی او کے خلاف تاحال کسی بھی طرح کی کارروائی کا نہ کرنا جہاں شکوک و شبہات کو جنم دینے کا باعث بن رہا ہے وہیں اس سے بہت سارے سوالات بھی کھڑے ہورہے ہیں کہ اصل میں حملہ آور کون تھے۔۔۔؟ بظاہر بے شک اس کا الزام پی ٹی آئی پر تھوپا جارہا ہے مگر اصل حملہ آوروں کا بھی سب کو علم ہے، حملہ آور تو بہت خوفناک کام کرنے کی غرض سے آئے تھے مگر بقول شاعر کے
مدعی لاکھ بُرا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
اللہ تعالیٰ نے ان کی ساری چالیں ناکام بنا دی اور اب حملہ آور اور منصوبہ ساز خود اپنے ہی جال میں پھنستے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پچھلے 75 سالوں میں ایسا کبھی نہیں ہوا، ایسا تو کبھی دشمنوں نے بھی نہیں کیا۔
اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں
غیروں نے تو پھر بھی آکے ہمیں تھام لیا ہے
وہ کون دشمن نما اپنا تھا؟ جس نے کور کمانڈر ہاﺅس جسے اب جناح ہاﺅں بھی ایک مقصد کے تحت کہا جارہا ہے، اس پر حملہ کیا۔۔۔ آخر وہ کب بے نقاب ہوگا اور اس انکوائری کا کیا بنا؟ جس کے کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ میری سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور خود آرمی چیف عاصم منیر سے درمندانہ اپیل اور گزارش ہے کہ خدارا وہ اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کروائیں۔ اتنے اہم ترین معاملے کو کسی سمجھوتے یا سیاست کی نظر نہ کریں بلکہ جو بھی اتنے بڑے اور افسوس ناپاک واردات میں ملوث ہے جو اس کا ماسٹر مائنڈ ہے وہ کسی بھی طرح کی رعایت یا ہمدردی کا مستحق نہیں ہے، وہ پاکستان کا بالخصوص اور پاک افواج کا بالعموم دشمن ہے اور اس کے ساتھ دشمنوں کی طرح سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ چاہے اس کا تعلق آستین کے سانپوں سے ہو یا پھر کسی بھی سیاسی جماعت یا حکمران پارٹی سے کیوں نہ ہو، اس پر قانون کو ہر حال میں حرکت میں آنا چاہئے اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر پاکستانی سیاست میں اپنے مخالفین کو کچلنے کے لئے اسی طرح کی سازشوں سے کام لینے کا سلسلہ شروع کردیں۔
بہتر ہے کہ اس فتنے کو اسی موقع پر کچل کر دوسروں کے لئے نشان عبرت بنانے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کی وجہ ٹرانسپرنسی پیدا ہو چکی ہے اس لئے اس اہم ترین معاملے کو کسی بھی طرح کی ہنکی پھنکی کے ذریعے دبانے یا پھر اس کا رُخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ بہتر یہ ہی ہو گا کہ اس واقعہ کے اصل کرداروں کو سامنے لا کر ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے ورنہ یاد رکھیں کہ یہ واقعہ اس وقت تک ان کرداروں کا پیچھا کرتا رہے گا۔ جب تک انہیں سزا نہیں دی جاتی، اس واقعہ کے ذریعے بہت بڑے جوالامکھی کو پھاڑنے کی کوشش کی گئی تھی مگر ایسا نہ ہوسکا مگر اب اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو پھر اس جوالا مکھی کو پھٹنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ اصل منصوبہ سازوں کے خلاف کارروائی میں ہی پاکستان اور ان کے اداروں کی بقاءو سلامتی مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں