Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 567

تربیتی درس گاہ

ایک زمانہ تھا جب تربیتی درسگاہ ہمارے بزرگوں کے ہاتھ میں تھی۔ بچپن سے لے کر جوانی تک اور شاید اس سے بھی آگے تعلیم و تربیت مہیا کرنے کا کام ہمارے والدین، اسکول کے اساتذہ، محلے کے بزرگ، ہمار چچا، تایا، پھوپھا، غرض یہ کہ عمر جو بھی ہمارے آس پاس ہم سے بڑے ہوا کرتے تھے وہ اپنے تجربات اپنی تعلیم چھوٹے عمر کے لوگوں میں منتقل کیا کرتے تھے اس کے علاوہ علم حاصل کرنے کے لئے کتابیں بھی موجود تھیں۔ فائدہ یہ تھا کہ ہمارے بزرگ ہمیں اخلاقی تعلیم بھی مہیا کرتے تھے اور غیر اخلاقی مواد مثلاً غیر اخلاقی کتابیں ان کے مضامین اور تصاویر ہم تک پہنچنے نہیں دیتے تھے حالانلہ ہر زمانے میں غیر اخلاقی کتابیں مضامین تصاویر ہوا کرتی تھیں لیکن ان کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جاتا تھا۔ مغرب میں کیا ہو رہا ہے ہمارے بچے اس سے نا آشنا تھے۔ مواصلاتی ذرائع بھی اتنے عام نہیں تھے کہ بچوں کی ہر طرح کی معلومات ہوں۔ ریڈیو ہوا کرتے تھے جن پر گھر کے بڑوں کا کنٹرول ہوتا تھا اسی طرح ٹیلی ویژن اور بعد میں جب ٹی وی آیا تو وہ بھی 4 گھنٹے کا اور معیاری پروگرام کے مطابق تھا۔ فی زمانہ تعلیم و تربیت کا یہ شعبہ بزرگوں کے ہاتھ سے نکل چکا ہے جو غیر اخلاقی تعلیم غیر مناسب کتابوں اور تصویروں کے ذریعے بدکردار لوگ پیسے کمانے کے لئے پھیلانے کی کوشش کرتے تھے وہ مکمل طور پر کامیاب ہو چکے ہیں ہمارا معاشرہ جو چالیس سال پہلے تھا اب ویسا نہیں رہا۔ پہلے والدین بچوں کو پڑھایا کرتے تھے اب بچے سیل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے والدین کو پڑھانے لگے ہیں پہلے ہر شعبے کے لئے ایک علیحدہ ماہر ہوتا تھا، استاد ہوتا تھا، مثلاً ریاضی کے بارے میں پڑھانا سمجھانا ہر کسی کے بس میں نہیں تھا اسی طرح جغرافیہ، تاریخ، مذہب، سفرنامہ ان سب کے لئے ماہرین ہوا کرتے تھے اب یہ سب کچھ ایک انگلی پر آگیا ہے یوں تو انٹرنیٹ سوشل میڈیا کے بہت فائدے ہیں لیکن خرافات بھی بہت ہیں اور یہ تمام خرافات بچوں کی پہنچ سے دور نہیں رہیں لہذا اخلاقیات کا دیوالیہ بھی نکل رہا ہے۔ ہم نے وہ دور بھی دیکھا جب سیل فون اور کمپیوٹر کا کوئی نام و نشان نہیں تھا، گھر کے فون ہوا کرتے تھے، کچھ مسائل اس وقت بھی تھے لیکن جیسے جیسے زمانے نے ترقی کی ہے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ نفرتیں، رنجشیں اور قتل و غارت گری میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے تو سوچا جائے تو ترقی ہوتی جارہی ہے اور ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ نئی نسل کسی کے قابو میں نہیں ہے بلکہ نئی نسل تو ذہنی انتشار کا شکار ہو رہی ہے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں کچھ ہی دن پہلے انیس سال کے ایک لڑکے نے 17 لوگوں کو اسکول میں فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جس میں طلباءکے علاوہ ٹیچر بھی شامل تھے اور یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے۔ اس طرح کے کئی واقعات آئے دن ہو رہے ہیں۔ اور ان پر قابو نہیں پایا جا سکتا کیونکہ تعلیم و تربیت کا شعبہ بزرگوں کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ ہر بچے کے ہاتھ میں ایک فون ہے اور وہ تشدد بھری اور غیر اخلاقی ویڈیو آرام سے دیکھ سکتا ہے اور بے شمار چیزیں انٹرنیٹ پر ایسی ہیں جو اس کے ذہنی انتشار کا سبب بن رہی ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ سو فیصد نہیں ہے ابھی بھی کچھ خاندان اییسے ہیں جہاں تعلیم و تربیت کا شعبہ والدین کے ہاتھ میں ہی ہے اپنی اولادوں کو بالکل ہی لاوارث نہیں چھوڑا ہوا ہے اگر اولاد کو اچھی تربیت دینا ہے تو تین چار سال کی عمر سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ میں نے اکثر مساجد میں دیکھا ہے کہ نماز میں چھوٹے بچے کو اکثر لوگ لاتے ہیں اور وہ تین چار سال کا بچہ باپ کو دیکھ کر خود بھی رکوع اور سجدے میں جارہا ہوتا ہے اس دور میں بھی ایسے خوش نصیب والدین ہیں جنہوں نے دو یا تین سال کی عمر سے بچوں پر توجہ دی ان کی تربیت کی اور ماشاءاللہ سے وہ بچے ذہین بھی ہیں اور باتمیز اور با اخلاق اور والدین کی قدر کرنے والے بھی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں