اسلام آباد کی آل پارٹیز کانفرنس کا احوال! 102

جارج فلائیڈ کی ناگہانی موت ۔ ٹرمپ کا کڑا امتحان!

25 مئی کو امریکی شہر منی اوپلس میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 46 سالہ جارج فلائیڈ کی آخری رسومات ادا کی جارہی ہیں۔ واقعات کے مطابق جارج فلائیڈ نے ایک مقامی دوکان سے 20 ڈالر کی جعلی رسید دکھا کر سگریٹ کا پیکٹ لینے کی کوشش کی۔ شک پڑنے پر دوکاندار نے پولیس کو اطلاع دی۔ کچھ ہی دیر میں چار پولیس اہلکار (Derek Chauvin) ڈیرک چاﺅون کی قیادت میں وہاں پہنچ گئے اور فلائیڈ کو گرفتار کر لیا۔ ان کی بحث و تکرار جاری تھی کہ ڈیرک نے فلائیڈ کو پولیس گاڑی کے ساتھ ہی الٹا لٹا دیا۔ یہ امریکن پولیس کا روایتی طریقہ ہے۔ پولیس کا موقف ہے کہ یہ اس لئے کیا جاتا ہے کہ ملزم کی تلاشی لے کر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس کے پاس کوئی اسلحہ تو نہیں ہے۔ یعنی پولیس اپنے تحفظ میں یہ عمل کرتی ہے جس کا انہیں قانونی تحفظ حاصل ہے۔ فلائیڈ نے جرم تو کیا تھا لیکن اتنا بڑا نہیں کہ اسے جان سے مار دیا جاتا۔ سیاہ فام لوگوں کی اکثر پولیس کے ساتھ مڈبھیڑ کی رپورٹیں منظر عام پر آتی رہتی ہیں جس کے نتیجہ میں کئی افراد دونوں طرف سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
ڈیرک کے 19 سالہ پولیس کیریئر میں 18 مختلف نوعیت کی شکایتیں ریکارڈ پر موجود ہیں۔ یہ شخص پہلے امریکی فوج میں بھی کام کر چکا ہے۔
پولیس آفیسر ڈیرک نے 8 منٹ سے زائد فلائیڈ کی گردن پر اپنا گھٹنا اتنی زور سے رکھا کہ اس کا نظام تنفس اکڑنا شروع ہو گیا اس نے پولیس آفیسر کی منت سماجت بھی کی کہ میرا سانس اکھڑ رہا ہے اور میں سخت تکلیف میں ہوں۔ پولیس آفیسر ڈیرک کو تین ساتھی پولیس آفیسر کی مدد و حمایت حاصل تھی۔ جنہوں نے ڈیرک کو نہ صرف روکا نہیں بلکہ تحفظ فراہم کیا۔ ہر گزرتا لمحہ فلائیڈ کو موت کے قریب لے جارہا تھا مگر پولیس کو اس پر رحم نہ آیا۔ 8 منٹ سے زائد موت کا یہ کھیل جاری رہا۔ یہ سب کچھ سرعام دن دیہاڑے لوگوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ ریاستی دہشت گردی کی درجنوں کہانیاں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ دنیا کی سپرپاور، جمہوریت اور انسانی حقوق کی علمبردار ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں انسانی جانوں کے ساتھ یہ کھیل معمول کی بات ہے۔
ٹرمپ کے ہی دور اقتدار میں شارلٹ میں پولیس آفیسر نے سیاہ فام کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس پر بہت احتجاج ہوا تھا چنانچہ یہ واقعات روزانہ کی بنیاد پر سارے امریکہ میں ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن جارج فلائیڈ کا قتل ٹرمپ انتظامیہ کو بہت مہنگا پڑنے کے امکانات ہیں۔ اس واقعہ کے نتیجہ میں امریکہ بھر میں خونی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس میں دس افراد مارے جا چکے ہیں۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان آمنے سامنے لڑائی جاری ہے۔ پولیس گاڑیوں سمیت متعدد عمارتوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ مظاہرین نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ امریکہ میں اس وقت جنگل کا قانون نظر آرہا ہے۔ اس واقعہ کے بعد پوری دنیا میں نسل پرستی کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں اس میں نہ صرف سیاہ فام بلکہ ہر رنگ و نسل کے لوگ شامل ہیں۔
اسپیکر نینسی پلوسی نے بیان جاری کیا ہے کہ وہ پیر والے دن ایک بل لے کر آرہی ہیں جس میں پولیس کے اختیارات کو کم کیا جائے گا اور نسل پرستی کے خلاف قوانین لائے جائیں گے۔ فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ٹرمپ کے متضاد بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور مظاہرین کے ردعمل میں مزید شدت آگئی۔ کہا جارہا ہے کہ وائٹ ہاﺅس میں داخل ہونے والے مظاہرین کو جب روکا جارہا تھا تو اس وقت سیکورٹی حکام نے صدر ٹرمپ کو وائٹ ہاﺅس کے بنکر میں پناہ لینے کے لئے مجبور کردیا۔
تاریخی اعتبار سے اگر سرسری جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیاہ فام لوگوں کو شروع سے ہی کمتر سمجھا جاتا تھا اور ان کو غلام بنا کر رکھا جاتا تھا۔ ظہور اسلام کے بعد آپ نے جہاں اور بہت سارے قدیم جاہلانہ رسم و رواج کو ختم کیا وہاں سیاہ فام لوگوں کی غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرایا۔ حضرت بلالؓ کو آزاد کروا کر پہلا موذن مقرر کیا اور آخری خطبہءحج کے موقع پر آپ نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر برتری حاصل نہیں ماسوائے تقویٰ کے۔
جہوریت اور انسانی حقوق کے چیمپئنز کو اسلام کے ان زریں اصولوں سے کچھ سیکھنا چاہئے۔ یہ لوگ اب سیاہ فام لوگوں کے خلاف نسل پرستانہ قوانین کو بدلنے کی بات کررہے ہیں مگر اسلام نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے بڑے واضح الفاظ میں تمام انسانوں کو برابری کا درجہ دے دیا تھا۔ اڑھائی سو سال پہلے امریکہ جب آباد ہو رہا تھا تو اسے کھیتی باڑی کرنے کے لئے اور مزدوری کے دوسرے کاموں کے لئے ورکرز کی ضرورت تھی۔ لہذا مغربی افریقہ، ساﺅتھ افریقہ اور دوسرے افریقی ممالک سے عورتوں اور مردوں کو یہاں لایا گیا۔ میکسیکو میں لاکھوں کی تعداد میں سیاہ فام افریقی لائے گئے اور پھر اسی طرح امریکہ میں بھی ان کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے ساتھ اوائل زمانہ سے ہی ناروا سلوک کیا جاتا تھا۔ آج بھی اس ڈیجیٹل دور میں 52 افریقی ممالک کو وہ حیثیت حاصل نہیں ہے جو دنیا کے دوسرے براعظموں میں بسنے والے لوگوں کو ہے۔ براعظم افریقہ کو یکسر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ افریقہ کا نام آتے ہی عام آدمی سوچتا ہے کہ وہاں لوگ برہنہ رہتے ہوں گے۔ جسموں پر پتے لپیٹ کر پھرتے ہوں گے۔ غیر تہذیب یافتہ ہوں گے۔ افریقہ کا نام آتے ہیں لوگوں کے منہ کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ افریقہ کے متعلق لوگ منفی سوچ رکھتے ہیں۔ حقیقت میں ان کو اصل صورت حال سے آگہی نہیں ہے۔
راقم نے اپنی زندگی کا پرائم ٹائم افریقہ میں گزارہ ہے۔ خصوصی طور پر زمبابوے میں، وہاں جانے سے پہلے میرے خیالات بھی مختلف تھے۔ مگر وہاں اتنا طویل قیام اور افریقہ کے دوسرے ممالک کی سیاحت بھی کرنے کا موقع ملا۔ زمبابوے کے سیاہ فام لوگ دنیا کے مہذب ترین لوگ ہیں۔ دنیا کے کسی بھی تہذیب یافتہ ملک کے مقابلے میں ان کو جانچا جا سکتا ہے جن افریقی ممالک کے لوگ غیر تہذیب یافتہ ہیں ان میں ساﺅتھ افریقہ، کانگو اور نائجیریا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ باقی ممالک کے لوگ بہت شائستہ ہیں لیکن پھر بھی دنیا کا مین اسٹریم میڈیا براعظم افریقہ کے روزمرہ کے معاملات سے لاتعلق رہتا ہے۔
پچھلی کئی صدیوں کی تاریخ کھنگالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیاہ فام لوگ بدقسمتی سے غلامی کی زندگی ہی گزارتے آرہے ہیں لیکن ان پر جتنا جسمانی ظلم غیر مسلموں نے کیا ہے شاید کسی اور نے نہیں کیا۔ خصوص بالخصوص پچھلے تین سو سالوں میں شمالی اور جنوبی امریکہ میں بسنے والے سیاہ فاموں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں۔ امریکہ سیاہ فام لوگوں سے بھرا پڑا ہے جو کہ امریکہ کی کل آبادی کا 14 فیصد سے بھی زائد ہیں یعنی بہت بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ یہ سیاہ فام امریکی صدر سے لے کر ہر منصب پر فائز رہے ہیں جیسا کہ بہترین اتھلیٹ، گلوکار، ہنرمند، وکیل، ڈاکٹر، سائنسدان، سیاست دان، غرض یہ کہ ہر شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت بڑی تعداد میں گینگسٹر بھی ہیں۔ قانون سے کھیلنا ان کا مشغلہ ہے، ہر قسم کے جرائم میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وائٹ امریکینوں اور سیاہ فام امریکنوں کے درمیان بھائی چارہ اور ہم آہنگی کا ماحول پیدا کیا جائے۔ دونوں کو برابری کی سطح پر پرکھا جائے۔ نسل پرستی ختم کی جائے۔ گوروں کی اجارہ داری ختم کی جائے۔ سیاہ فاموں سمیت تمام اقلیتوں کو برابر کے حقوق دیئے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں