کمیونٹی کی عدم دلچسپی کے باعث اللہ کا گھر روز بروز بوسیدہ ہوتا جارہا ہے جہاں وضو کے مقام پر کیچڑ، باتھ روم نہایت گندے، مسجد میں چوہوں کا راج، مگر مسجد انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے ان کے من مانے فیصلوں نے نہ صرف کمیونٹی کی بلکہ مساجد میں خدمات انجام دینے والے مفتی اور امام صاحبان کی زندگی بھی اجیرن کر رکھی ہے۔ 24

جامع مسجد شکاگو کی انتظامیہ کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے

شکاگو (پاکستان ٹائمز) پاکستان ٹائمز کا یہ اعزاز رہا ہے کہ گزشتہ برسوں کئی بار کمیونٹی کی توجہ دیوان ایونیو سے ملحقہ جامع مسجد انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور من مانی کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی ہے مگر نہ ہی کمیونٹی کے کان پر جوں رینگتی ہے اور نہ ہی جامع مسجد بورڈ کے ارکان کے دل میں خوف خدا پیدا ہوتا ہے۔
کمیونٹی کی عدم دلچسپی کے باعث اللہ کا گھر روز بروز بوسیدہ ہوتا جارہا ہے جہاں وضو کے مقام پر کیچڑ، باتھ روم نہایت گندے، مسجد میں چوہوں کا راج، مگر مسجد انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے ان کے من مانے فیصلوں نے نہ صرف کمیونٹی کی بلکہ مساجد میں خدمات انجام دینے والے مفتی اور امام صاحبان کی زندگی بھی اجیرن کر رکھی ہے۔
حال ہی میں بہ یک جنبش قلم مسجد کے مشہور اور قابل احترام مفتی عبدالمنان اور مفتی غلام صمدانی کو برطرف کردیا گیا۔
واضح رہے کہ برسوں سے مفتی نویل الرحمن اپنی من مان کرتے دکھائی دے رہے ہیں جنہوں نے جامع مسجد کی تعمیر تو آگے نہ بڑھائی البتہ چندے کی اپیلیں کرکے کئی ایک دیگر مساجد تعمیر کیں اور ویسٹرن ایونیو پر ایک بلڈنگ کے مالک بھی بنے بیٹھے ہیں یعنی کمیونٹی کے چندے جامع مسجد کی تعمیر اور انتظامات کی مد میں لئے جاتے ہیں مگر رقم اپنی مرضی سے خرچ کی جاتی ہے۔
مساجد میں عملہ کا کوئی فرد ان کے آگے سر خم نہ کرے تو برطرف کردیا جاتا ہے۔
کمیونٹی ابھی بھولی نہیں کہ کس طرح سلمان ابراہیم کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے کمیونٹی کو لاکھوں ڈالر کا چونا مفتی نویل الرحمن اور ان کے چیلوں نے لگایا تھا۔
بارہا مسجد انتظامیہ کی توجہ مسجد کی حالت زار کی جانب مبذول کرائی گئی مگر چندے کے لاکھوں ڈالر دیوان بینک میں رکھ کر اور اس کے فوائد حاصل کرکے مسجد انتظامیہ ستو پی کر سو رہی ہے مگر اب پانی سر سے اوپر چلا گیا ہے اور یہ ضروری ہو گیا ہے کہ نہ صرف دیسی میڈیا بلکہ مین اسٹریم کے اخبارات کو مسجد کی حالت زار پر فیچر لکھنا چاہئے تاکہ شکاگو سٹی اندرونی حقائق جان سکے اور جامع مسجد بورڈ کو برطرف کرکے کسٹوڈین مقرر کرے جو مسجد کے چندے کی مد میں حاصل ہونے والی رقم سے ایمانداری اور انصاف کر سکے اور مسجد کی ازسرنو تعمیر پر توجہ دی جا سکے وگرنہ مسجد انتظامیہ میں بیٹھے گدھ جامع مسجد کے وسائل کو نوچ نوچ کر کھاتے رہیں گے اور نمازیوں کو یونہی بدبودار کارپٹ، ٹپکتی چھت اور گندے باتھ روم نہ جانے کب تک استعمال کرنے ہوں گے۔
خدارا، اٹھ کھڑے ہوں اور ان بدکرداروں اور مفاد پرستوں کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ مسجد انتظامیہ میں بیٹھے یہ فرعون اپنے انجام کو پہنچ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں