yasmeen-muzafar columnist 113

جسٹس رتھ بیڈر جنسبرگ

جسمانی طور پر ایک مخفی ایک چھوٹی سی خاتون مگر اپنی شخصیت میں ایک چٹان کی مانند مضبوط۔ سپریم کورٹ کی جسٹس رتھ بیڈر جنسبرگ ایک طویل مدت تک اپنے عہدے پر فائز رہنے کے بعد 87 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی خدمات اور کاوشیں خواتین اور اقلیتوں کے مساوی حقوق کے لئے تاریخ کا ایک سنہری باب کی طرح قائم رہیں گے۔ یہ رتھ ہی کی کوششوں کا ثمر ہے کہ آج امریکہ میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ہر شعبے میں اپنی اہلیت منوانے میں نہ صرف آزاد ہیں بلکہ کئی جگہوں پر ترقی کی دوڑ میں اپنے آپ کو مکمل طور پر منوا رہی ہیں۔
رتھ 1933ءمیں نیویارک میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ بقول ان کے میرے والدین زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے مگر انہوں نے اس امر کا خاص خیال تھا کہ ان کی اولادیں تعلیم کے میدان میں ترقی کریں۔
رتھ بچپن ہی سے ایک انتہائی محنتی اور با صلاحیت طالبہ رہیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیتی رہیں جب وہ اسکول میں ہی تھیں تو ان کی والدہ کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہوئیں اور رتھ کی ہائی اسکول گریجویشن سے پہلے ہی وفات پا گئیں۔ اس واقعہ کا رتھ پر بہت گہرا اثر ہوا مگر بقول رتھ کے انہوں نے اپنی ماں کی اس نصیحت کو اپنی زندگی کا شعار بنا لیا کہ ہمیشہ ایک اعلیٰ خاتون کی طرح زندگی گزارنا اور ہمیشہ خود مختاری کو مدنظر رکھنا۔ رتھ نے نہ صرف خود کو ایک بہترین خاتون ثابت کیا بلکہ خواتین کے لئے قانون سازی میں بھرپور کردار ادا کیا۔
ہائی اسکول کرنے کے بعد رتھ نے فل اسکالرشپ کے ساتھ کورنل یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور وہیں ان کی ملاقات اپنے ساتھی طالب علم سے ہوئی اور یہ ملاقات رشتہ ازدواج میں بدل گئی۔ رتھ کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر نے ان کی صلاحیتوں کو سراہا اور انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ وکالت کی طرف توجہ دیں۔ رتھ نے ہارورڈ لاءکالج میں داخلہ لیا۔ اس زمانے میں لڑکیوں کا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا کچھ اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا بلکہ تصور یہ تھا کہ لڑکیاں کم حیثیت جنس ہیں جنہیں مردوں کے مساوی نہ تو تعلیم کا حق ہے نہ ہی نوکری کا اور نہ ہی دیگر معاشرتی اور قانونی حقوق کا۔ جب رتھ کچھ اور لڑکیوں کے ساتھ ہارورڈ لاءکالج پہچنیں تو وہاں کے ڈین نے یہ سوال کیا کہ تم لوگ یہاں کیا کررہی ہو؟ تم لوگوں نے لڑکوں کے حق پر قبضہ کیا ہے۔ ہارورڈ میں دو سال گزارنے کے بعد ان کو نیویارک منتقل ہونا پڑا اپنے شوہر کی نوکری کی وجہ سے اور اس طرح انہوں نے اپنی وکالت کی ڈگری کولمبیا یونیورسٹی سے 1959ءمیں مکمل کی۔ رتھ اپنی کلاس میں ٹاپ پوزیشن ہولڈر تھیں مگر اس کے باوجود ان کو اپنے لئے وکالت کا منصب ڈھونڈنے میں بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس زمانے میں عورتوں کو نوکری ملنا اور خاص طور پر وکالت کے پیشے میں انتہائی دشوار اور کٹھن عمل تھا۔
1963ءجب وہ اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز تھیں تو انہیں اطلاع دی گئی کہ انہیں مردوں سے کم تنخواہ دی جائے گی کیونکہ وہ ایک عورت ہیں اور اس کے علاوہ ان کے شوہر ایک اچھی مالی حیثیت رکھتے ہیں۔ رتھ کے لئے اس قسم کے انکشافات نہ صرف ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے تھے بلکہ ان کے مساوی حقوق کے نظریہ کے لئے تقویت کا سبب۔
جب ان کے دوسرے بچے کی آمد آمد ہوئی تو انہوں نے اس خوف سے کہ کہیں وہ نوکری سے برخاست نہ کر دی جائیں، ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننے شروع کردیئے تاکہ کسی کو ان کی حالت کا اندازہ نہ ہو۔ ان حالات کو رتھ نے بجائے نا امید اور مایوسی ہونے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی سول رائٹس یو سی میں ویمن رائیٹس پروجیکٹ قائم کرنے میں بھرپور معاونت کی۔
1980ءاس وقت کے صدر جی کارٹر رتھ کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے امریکہ کے اپیل کورٹ میں کولمبیا ڈسٹرکٹ کے لئے جج مقرر کیا اور 1993ءمیں صدر بل کلنٹن نے رتھ کو سپریم کورٹ کے جسٹس کے طور پر نامزد کیا۔ جہاں ان کی تقرری 96-3 کی اکثریت سے قرار پائی۔
ویسے تو رتھ بیڈر جنسبرگ سپریم کورٹ میں 300 کے قریب مقدمے لڑے مگر خصوصی طور پر چھ مقدمے ایسے تھے جو تاریخ میں ہمیشہ رقم کئے جائیں گے یہ تمام مقدمے خواتین اور اقلیتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ تاریخ رتھ کو ایک ایسے ہیرو کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنی فراست اور ذہانت سے اپنی کم مائیگیوں کو ایک طاقتور حربے کے طور پر استعمال کیا اور آنے والی نسلوں کے لئے ایسے قوانین اور حقوق کی بنیاد ڈالی جو ہمیشہ حفاظتی طور پر کام آئے گی۔
رتھ کے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی نرم آواز مگر انتہائی مضبوط لہجہ رکھنے والی شخصیت تھیں۔ سابق صدر بل کلنٹن کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے جسٹسوں کے درمیان ایک انتہائی امتیازی شخصیت رکھتی تھیں۔ صدر کارٹر اپنے تاثرات میں انہیں ایک انتہائی مربوط ذہن اور مساوی حقوق کی علمبردار قرار دیا ہے۔ رتھ نے اپنی زندگی ایک انتہائی مضبوط شخصیت کے طور پر گزاری۔ کچھ سال پہلے جب ان سے استفسار کیا گیا کہ کیا آپ اپنی بڑھتی ہوئی عمر کی وجہ سے اپنے عہدے سے دستبرداری لینا چاہتی ہیں تو ان کا جواب تھاکہ ”نہیں میں آخری وقت تک یہ کام جاری رکھوں گی“۔
جہاں رتھ بیڈر جنسبرگ کے جانے سے ایک بڑا خلا پیدا ہوا ہے وہیں اس وقت امریکہ کے حکومتی ایوانوں میں ایک انتہائی کھلبلی اور کشمکش کا آغاز ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ ایک کنزرویٹو جسٹس لانے کے خواہاں ہیں جب کہ ڈیموکریٹ پارٹی رتھ کی طرح کسی لبرل جسٹس کی خواہاں ہے ۔ صدارتی الیکشن تقریباً صرف 6 ہفتے دور ہیں۔ ڈیموکریٹک کی خواہش ہے کہ نئے جسٹس کا تقرر صدارتی انتخابات کے بعد عمل میں آئے مگر ری پبلکن اسی عرصہ میں اس نشست کو پُر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ 4 سال پہلے وہ خود اس مسئلے کو لے کر اعتراض کر چکے ہیں جب صدر اوبامہ کے نامزد امیدوار کی تقرری کا وقت تھا کہ انتخابات کے سال میں یہ تقرری نہیں ہونی چاہئے۔ اب دیکھنا ہو گا کہ اس مسئلہ کا کیا حل نکلتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں