ریاست جمہوریہ/عسکریہ پاکستان 132

جنت کون نہیں جانا چاہتا

نیشنل سیکیورٹی ایکٹ سے متعلق صدر عارف علوی کا وہ ٹوئیٹ جس میں انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ انہوں نے ان دو بلوں پر پارلیمان کی تائید نہیں کی بلکہ اسے واپس بھیجنے کی ہدایات اپنے عملے کو دیں اور استفسار کرتے رہے کہ وہ بل مقررہ مدت میں واپس بھیج دیئے گئے کہ نہیں؟ تہلکہ مچاتے ہوئے بہت کچھ آشکار کرگیا ہے۔ ایک اعلیٰ ترین منصب بھی اگر کسی حکومت کا حفاظتی اور انتظامی حصار میں نہ رہ پائے تو گویا ریاست میں دراڑیں پڑ چکیں۔ صدر پاکستان آئینی طور پر ہکومت کا سپریم کمانڈر ہوتا ہے۔ آئین اس عہدے سے متعلق وضاحتیں کرتا ہے، اس کے اختیارات کے بارے میں تفاصیل آئین میں موجود ہیں۔ اعلیٰ ترین ادارے اس کی ماتحتی کے اندر آتے ہیں۔
محلاتی سازشوں کے پیچ در پیچ سلسلے بادشاہت کی تواریخ میں رقم ہیں۔ صدریاں گزرنے کے بعد بھی یہ تمام سلسلے اسی طرح جاری و ساری ہیں، صرف ان کی ہیت بدل گئی ہے۔ ہمیشہ سے اسی طرح غلام خریدے جاتے ہیں جو سازشی ٹولوں کے اشاروں پر رقصاں رہتے ہیں۔ اب فرق صرف یہ آیا ہے کہ انہوں نے جمہوریت کا منافقانہ لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ بیوروکریسی میں یہ مہرے ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ پاکستان کے ابتدائی دنوں سے لے کر موجودہ وقت تک بیوروکریسی نوازشات کے چنگل میں رہی ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہیں مگر بیوروکریسی اپنے اطوار پر کاربند رہی۔
نگراں حکومت توقعات کے مطابق ویسی ہی بے دست و پا ثابت ہوئی جب کہ اندیشے تھے۔ پاکستان معاسی طور پر بربادی کے سنگین دہانے پر کھڑا ہے۔ پاکستان کے 25 کروڑ عوام اس وقت اپنی زندگی کی بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے سے قاصر ہو گئے ہیں۔ بجلی کے بلوں اور مہنگائی پر جو عوامی ردعمل سامنے آرہا ہے گویا آتش فشاں پھٹنے کے قریب ہے۔ نگراں وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف سے اپنی حالیہ گفتگو کے بعد حالات میں بہتری سے مایوسی کا اشارہ دے دیا ہے بلکہ اشارہ دیا ہے کہ عنقریب بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کا امکان ہے۔ اس سوال پر کہ نگراں حکومت، اشرافیہ جس میں سول سرونٹ، عدلیہ اور فوجیوں کو بجلی اور پیٹرول کی سبسڈی پر پابندی عائد کرنے کے لئے تجاویز پر غور کررہی ہے کا جواب انتہائی سہولت سے یہ دیدیا گیا کہ یہ ہمارے مینڈیٹ میں نہیں ہے گویا یہ ظاہر کردیا گیا کہ ”نہیں یہاں ہمارے پَر جلتے ہیں“۔
پاکستان کی 76 سالہ تاریخ میں کبھی اس قدر دگرگوں حالات نہیں دیکھے گئے۔ عوام نہ صرف موجودہ حالات سے حیران و پریشان ہیں بلکہ نجات کی کوئی صورت نکلتی نہیں دیکھ رہے۔
دور دور تک روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی اور نگراں وزیر اعظم اور وزراءکے بیانات آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ سول نافرمانی کے راستے کھلنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔ ہر چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں احتجاج کے سلسلے شروع ہو چکے ہیں۔
مہنگائی کے ہمراہ عوام میں عدم تحفظ اور نا انصافی کا احساس گہرا ہوتا جارہا ہے۔ جو غصہ اس وقت ہر عام آدمی کی طرف سے دیکھنے میں آرہا ہے یہ اس کے مضبوط محرکات ہیں جس طرح ہر طرف معاملات کو الجھایا جارہا ہے وہ ایک خطرناک ترین صورت حال بنتی نظر آرہی ہے۔ جب عدالتوں سے نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے آنے لگیں تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ انصاف کے ترازو کے پلڑے بھر دیئے گئے ہیں۔ کہیں شدید دباﺅ سے اور کہیں نوازشات سے۔ سپریم کورٹ نے جس رواداری کا مظاہرہ پچھلے 8 ماہ کے دوران کیا ہے وہ انتہائی مایوسی کن رہا ہے۔ کہاں تو ”توہین فلاں ابن فلاں“ پر سخت اقدامات اور کہیں پارلیمان اور حکومت کے کسی بھی عدالتی حکم سے انحراف کو درگزر۔ اگر عدالت عالیہ نے کچھ فیصلے بروقت صحیح کرنے کا حوصلہ کرلیا ہوتا تو آج نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ عالمی عدالتوں کی فہرست میں پاکستان کی عدالتیں انتہائی نچلی سطح پر آتی ہیں اور اب شاید موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے تو وہ شاید اس فہرست میں شامل ہی نہ ہو سکیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین کی سزا ٹرائل کورٹ میں بنا گواہان کو سنے جس عجلت میں سنائی گئی اور پھر اس سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں جس سست روی کا مظاہرہ کیا گیا وہ یقینی طور پر عدالت عالیہ اور پورے عدالتی نظام کی کمزوریوں کی حقیقت بیان کرتا ہے۔ منصف اپنے فیصلوں کی وجہ سے یاد رکھے جاتے ہیں۔ انصاف کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے تاکہ صرف اور صرف بلاتفریق انصاف کیا جا سکے۔
یہ امر اب کھل کر سامنے آتا جارہا ہے کہ اب پاکستان میں حالات جو کروٹ لے رہے ہیں ان میں اب سیاسی اختلافات کا رنگ کم اور کچھ ذاتی عناد کی جنگیں شروع ہو چکی ہیں جس میں حسب روایت سیاستدانوں کو آلہءکار بنا لیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتیں ہمیشہ کی طرح ایسے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں جنہوں نے دہائیوں سے اقتدار غصب کرنے کے خواب دیکھنے شروع کردیئے تھے۔
تحریک انصاف کو یوار سے لگا دینے کی خواہش کے اقدامات اب بہت کچھ واضح طور پر سامنے لے آئے ہیں، موجودہ نگراں حکومت دانستہ یا نادانستہ طور پر ریاست کو کمزور کرنے میں شامل ہو رہی ہے۔ پاکستان کا آئین کھل کر ہر شہری کو زندہ رہنے کے ساتھ ساتھ تمام آئینی حقوق تفویض کرتا ہے۔ فوج سرحدوں کی محافظ ہے اور انتظامیہ سرحدوں کی محافظ ہے اور انتظامیہ شہریوں کی جان و مال و عزت کی۔ مقننہ پر ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازی کرے۔ عدلیہ پر لازم ہے کہ ان تمام اداروں کو اپنی حدوں میں رہنے پر مجبور کرے۔
الیکشن کمیشن کی دعوت پر تمام سیاسی جماعتوں نے ملاقاتیں شروع کردیں ہیں۔ سابق 13 جماعتی اتحادی کے نمائندوں کی طرف سے یہ مطالبہ کہ انتخابات 90 روز میں کروا دیئے جائیں ایک دلچسپ صورت حال ہے۔ یہ وہی جماعتیں ہیں جو اپنی برخاستگی سے کچھ پہلے مشترکہ مفادات کونسل کی میٹنگ میں اس امر پر رضامند ہو کر ووٹ کرچکی ہیں کہ نئی مردم شماری کی جائے اور نئی حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن کروائے جائیں۔ الیکشن کمیشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد اب چونکہ الیکشن کمیشن اختیارات کلی طور پر رکھنے کے مجاز ہو چکے۔ اس لئے اب وہی ہو گا جو الیکشن کمیشن چاہے گا۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ درپردہ ہر طرف سے یہ پیغام الیکشن کمیشن کو دے دیا گیا ہے کہ جب تک تحریک انصاف بیلٹ پیپر پر موجود رہنے کا خدشات ہیں الیکشن التواءمیں ڈالا جا سکتا ہے۔
عمران خان کا پاکستان نہ چھوڑنے کے فیصلے نے بھی مقتدر اداروں کے لئے ایک مسئلہ کھڑا کیا ہوا ہے، امید یہ ہی تھی کہ وہ اپنے پیشروﺅں کی طرح ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے مگر ایسا نہیں ہوا ہے اور کچھ اقتدار کے ایوانوں میں زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کی صلاحیت بھی مفقود نظر آرہی ہے۔ اس وقت پاکستان کے طول و عرض میں تحریک انصاف جڑیں پکی کر چکی ہے، تمام تر سختیوں کے باوجود عوام میں اس کی مقبولیت میں کمی نہیں آرہی بلکہ لوگوں میں اب خوف کے سائے کم ہوتے نظر آرہے ہیں یا پھر لوگوں نے سوچ لیا ہے کہ جب جان دینی ہے تو یوں ہی سہی۔ مہنگائی اور عدم تحفظ اور نا انصافیوں کے مارے ہوئے عوام کے لئے آزادی کا نعرہ جنت سے کم نہیں اور جنت کون نہیں جانا چاہتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں