فیٹف، پاکستان اور اُمید و پیہم 65

جوزف آر بائیڈن۔۔۔ نئے امریکی صدر

20 جنوری 2021ءکو امریکہ کے جوزف آر بائیڈن نے امریکہ کے 46 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی یہ تقریب ایک غیر معمولی اور انتہائی انوکھے انداز میں انجام پائی۔ وہ رونق اور گہماگہمی جو عموماً اس تقریب کا خاصہ ہوا کرتی تھی کا فقدان رہا۔ کچھ تو اس کی وجہ کورونا جیسی وبا بنی اور اس سے بڑھ کر واشنگٹن میں رونما ہونے والے 6 جنوری کے اس واقعہ نے جس میں سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کا ٹھیک اس وقت جب کانگریس صدر بائیڈن کے فتح کی توثیق میں مصروف تھی، کیپیٹل ہلز پر دھاوا بولنے نے بھی اس تقریب کو محدود پیمانے پر منعقد کرنے کا باعث بنی۔ اس خوف سے کہ کہیں حلف برداری کی تقریب کے دوران مظاہرین یکجا نہ ہو جائیں اور کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ انجام پا جائے۔ واشنگٹن کو مکمل طور پر محفوظ رکھنے کے لئے نیشنل گارڈ کی تحویل میں دے دیا گیا۔
25000 گارڈز واشنگٹن میں تعینات کرد یئے گئے تاکہ دہشت گردی کے کسی بھی قسم کے خطرے سے نبردآزما ہوا جا سکے۔ نہ صرف دارالحکومت بلکہ تمام ریاستوں میں اس کا یقین کیا گیا کہ کسی بھی قسم کا کوئی بھی خطرہ مول نہ لیا جا سکے۔
امریکہ کے نئے صدر جوزف بائیڈن ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں ان کا سیاسی سفر 40 سالہ مدت پر محیط ہے وہ اپنی سیاسی زندگی کی ابتداءہی سے ایک غیر معمولی زیرک اور مدبر سیاستدان گردانے جاتے ہیں۔ وہ امریکہ کی سینیٹ کے سب سے کم عمر منتخب ہونے والے سینیٹر تھے اور اب امریکہ کی صدارتی تاریخ میں سب سے زیادہ عمر کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔
بائیڈن آٹھ سال اوبامہ کے نائب صدر کی حیثیت سے فرائض انجام دیئے ہیں اس عرصہ میں بھی وہ نہ صرف ایک بہترین نائب صدر مانے گئے بلکہ ان کے کئی تجاویز کو حکومتی حلقوں میں انتہائی مدبرانا تسلیم کیا گیا۔ اپنی ذاتی زندگی میں بھی بائیڈن نے کئی سخت مشکلات کا سامنا کیا۔ ابتدائی زندگی ہی میں اپنی رفیقہ حیات اور بیٹی کی رحلت سے لے کر حال ہی میں اپنے جواں سالہ بیٹے کی کینسر جیسے موذی مرض سے موت بلکہ خود اپنی کئی بیماریوں کا مقابلہ بھی کیا مگر ان کا کہنا ہے کہ ان صدمات نے مجھے اور زیادہ مضبوط بننے کے مواقع فراہم کئے۔
جوبائیڈن ایسے وقت میں امریکہ کے صدر منتخب ہوئے ہیں جب امریکہ کو داخلی اور بیرونی طور پر کئی محاذوں پر بے انتہا دشواریوں کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ کی پچھلی چار سالہ حکومت ہمیشہ اعتراضات اور تبصروں کی زد میں رہی ہے اپنی ناقص پالیسیوں اور رویوں کی وجہ سے۔
اس وقت عالمی سطح پر امریکہ کی نئی حکومت کو اس امید کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے کہ وہ ان تمام مسائل کا ازالہ کرے گی جو پچھلے دور حکومت میں داخلی اور بیرونی سلسلوں میں مشکلات کا ذریعہ قرار پائے۔
جوبائیڈن نے الیکشن میں فتح حاصل کرنے کے بعد سے لے کر حلف اٹھانے کے وقت کا بہترین استعمال کیا ہے۔ پچھلے تین ماہ میں انہوں نے آنے والے وقت اور اس کے تقاضوں کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ اپنی کابینہ وہ تقریباً نامزد کر چکے ہیں انہوں نے اس امر کا خصوصی طور پر خیال رکھا ہے کہ ان کی کابینہ اپنے شعبے میں انتہائی تجربہ رکھتی ہو اور وہ خود اس بات کے خواہشمند ہیں کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد سے ان کی پوری طرح واقفیت ہو۔ ان کی کابینہ میں ہر نسل اور مذہب کے لوگ شامل کئے گئے ہیں۔
اپنے صدارتی خطاب میں بائیڈن نے اس بات کا اعادہ کیا اور اپنے مخالفوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ امریکہ کے صدر ہیں اور وہ اس امر پر مستحکم رہیں گے کہ تمام تفریقات کو بھلا کر امریکہ کے ہر شہری کے لئے بہتر ثابت ہوں۔ انہوں نے اس امید کا تذکرہ کیا کہ پوری امریکی قوم پر اختلاف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بہتری کی طرف قدم بڑھنے میں یکجا ہو جائے گی۔
بائیڈن نے پہلے دس دنوں میں صدارتی احکامات جاری کرنے کا عندیہ دیا تھا کہ وہ اس امر کا انتظار نہیں کریں گے کہ کانگریس اور سینیٹ اپنی کارروائی شروع کرے اس وقت تک کئی معاملوں پر پیش رفت کر دی گئی ہے۔ مسلم ممالک پر لگائی گئی سفری پابندیاں اٹھائی گئی ہیں۔ امیگریشن سے متعلق ان تقریباً گیارہ ملین قانونی باشندوں کے لئے ایسے راستے نکالنے کی کوشش شروع کردی گئی ہے جس سے ان کے لئے آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ 12500 ریفیوجی امریکہ میں داخل ہو سکیں گے۔ پچھلی چار سالوں میں امریکہ میں نسلی فسادات کی نئی لہر ابھر کر سامنے آئی جس نے نہ صرف امریکہ کے طول و عرض میں بلکہ عالمی سطح پر ایک پریشان کن کیفیت پیداکی۔ BLM (Black Life Matters) کے نعرے نہ صرف امریکہ بلکہ اس کی گونج پوری دنیا میں بھی سنائی دی۔ بائیڈن نے اس نسلی تفریق کی سخت ترین مذمت کی ہے اور امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوریوں پر تحفظات رکھنے والوں کو اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ پولیس فورس کی بہتری کے لئے اقدامات کئے جائیں گے اور خود اس فورس کو اخلاقی اور مالی سہارا دیا جائے گا تاکہ وہ اپنے فرائض ہر قسم کے تعصب اور کمزوریوں سے بالاتر ہو کر انجام دے سکیں۔ نئی امریکی حکومت میں نسلی بنیاد پر تفریق کی نفی کرتے ہوئے پہلی دفعہ ایک اقلیت سے تعلق رکھنے والی خاتون کمالا ہیرس کو نائب صدر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ کمالا ہیرس کے والد جمیکا جب کہ ان کی والدہ ہندوستان سے تعلق رکھتی ہیں۔ امریکہ کی تاریخ میں یہ انتخاب ایک سنگ میل کی حیثیت رکھے گا کہ نہ صرف اقلیت بلکہ ایک خاتون کو حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
پچھلے ایک سال کے دوران کورونا کی وباءنے پوری دنیا کو تقریباً ہر شعبے میں ایک عظیم نقصان سے دوچار کیا ہے۔ امریکہ میں تقریباً اس وقت تک 23 ملین مریض جب کہ 400,000 اموات ہوئیں اس وبا کی وجہ سے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس سلسلہ میں جس غیر ذمہ داری کا مظاہر کیا اس کے بھیانک نتائج سامنے آئے۔ حکومت ریاستوں کو امداد دینے میں ناکام رہی، عوام کو صحیح صورت حال سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ صدر بائیڈن 415 بلین ڈالر کی درخواست کانگریس سے کررہے ہیں تاکہ ویکسین اور ٹیسٹنگ کے آلات مقامی طور پر بھی تیار کی جا سکیں۔ بائیڈن کی حکومت اپنے پہلے سو دنوں میں سو ملین امریکیوں کے لئے ویکسین فراہم کرنے کا وعدہ پورا رکنے کی ابتداءکر چکی ہے۔ جوبائیڈن ACA یعنی Affordable-careact کے حامی ہیں۔ اوبامہ کیئر کو دوبارہ نافذ کرنے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے اس کے علاوہ میڈی کیئر کی اہلیت کے لئے عمر 65 سال سے گھٹا کر 60 سال کی تجویز بھی زیرغور ہے۔
کورونا نہ صرف صحت بلکہ ملک کو معاشی بدحالی کی طرف تیزی سے گامزن کیا ہے، تمام تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ خاص طور پر چھوٹے کاروبار کرنے والے کام بند کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ بے روزگاری اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی ایسا مستحکم معاشی پلان ترتیب دیا جائے جو گرتی ہوئی معیشت کو سنبھال سکے۔ بائیڈن حکومت اس سلسلہ میں 109 (Trillion) ڈالر کے پیکیج کا اعلان کررہی ہے۔ جس سے کورونا اور تجارتی ریلیف مل سکے۔ نئی حکومت کم سے کم پندرہ ڈالر اجرت پر بھی اصرار کرے گی۔ اس کے علاوہ چار سو بلین ڈالر ان صنعتوں پر بھی لگانے کی تجویز ہے جو امریکہ میں مصنوعات تیار کرنے کی یقین دہانی کریں گے تاکہ افرادی قوت کو مقامی طور پر روزگار مہیا کی جانے والی پالیسیوں پر عمل درآمد کیا جاسکے۔
امریکہ نے 2016ءمیں پیرس میں ہونے والے ماحولیاتی معاہدہ سے 2019ءمیں علیحدگی اختیار کرلی۔ ماحولیاتی ماہرین اور دنیا کے وہ ممالک جو اس مسئلہ کی سنگینی سے باخبر ہیں نے ٹرمپ حکومت کے اس قدم کی شدید مذمت کی تھی اس وقت بائیڈن نے اس سے متعلق 107 ٹریلین کا پروپوزل دیا تھا جس کے گرین ٹیکنالوجی پر اگلے دس سال تک کام کیا جا سکے جس کے تحت 2050ءتک امریکہ کے لئے یہ مشق کارآمد ثابت ہو سکتی ہے اپنے پہلے ہی دن دنوں میں نئی حکومت نے یہ اعلان کردیا ہے کہ وہ دوبارہ ماحولیاتی عمل میں شامل ہو گی اور عالمی طور پر کی گئی ان تمام کوششوں میں بھرپور حصہ لے گی جس سے اس کرہ ارض پر ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ نئی حکومت گن کنٹرول، ٹرانس جینڈر، پرولائف جیسے ایشوز پر بھی اپنے پہلے 100 دن میں ہی حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔ صدر بائیڈن ٹرانس جینڈر کے متعلق پہلے ہی یہ بیان دے چکے ہیں کہ انہیں امریکی افواج سے مسنلک ہونے کا حق ملنا چاہئے۔
جوبائیڈن کیتھولک ہیں اور باقاعدگی سے عبادت کرتے ہیں مگر وہ ابارش کے حامیوں میں گنے جاتے ہیں مگر وہ اس کی بھی وضاحت کرتے ہیں کہ ایک عرصہ کے بعد اس عمل سے ایک زندگی ختم کرنے کے مترادف ہے اس ایشو پر اب اور کیا پیش رفت ہو گی اس کا فیصلہ مشکل ہو گا۔ کرونا کے باعث تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، وہ طلبہ جو ہائی اسکول ختم کرکے یونیورستیاں میں داخلہ لینے والے تھے، بے شمار دشواریوں کا شکار ہوئے، نہ صرف تعلیمی سال میں تعطل آیا بلکہ معاشی طور پر بھی کالجوں میں داخلوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ اس پر بھی کام کرے گی کہ 25000 سالانہ سے کم آمدنی والوں کے لئے یا ان کے بچوں کے لئے کالج مفت فراہم کیا جا سکے۔
خارجہ پالیسی امریکہ کے لئی ہمیشہ ایک بہت اہم شعبہ رہا ہے، پچھلے چار سالوں میں اپنی پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ کئی معاملوں میں تنہائی کا شکار ہوا جب کہ بعض امور میں کئی بہتر اور اہم پیش رفت ہوئی، افغان مذاکرات کا آغاز ہوا اور ٹرمپ اس بات کے خواہاں رہے کہ کوئی نئی جنگ شروع نہ کی جائے۔ اسرائیل سے کئی عرب اور مسلم ممالک کی سفارتی تعلقات قائم کروانے میں امریکہ نے کردار ادا کیا۔ اسرائیل کا دارالحکومت تبدیل کیا گیا۔ کئی ممالک سے امریکی فوجوں کا انخلاءشروع کیا گیا مگر اس کے ساتھ ساتھ 2015ءمیں ایران سے کئے جانے والے معاہدے سے انحراف کیا گیا۔ نیٹو کے ممالک سے تعلقات میں سردمہری آئی، ماضی پر نظر ڈالتے ہوئے جوبائیڈن اسرائیل کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے نظر آتے ہیں مگر اس وقت انہوں نے آنے کے ساتھ ہی اسرائیلی دارالحکومت کی مطابقت سے ایک نئے آرڈر کا اعلان کیا ہے، ایران سے ان کے تعلقات کا رویہ کیا ہو گا جب کہ ایران نے یورونیم کی افزائش کا اعادہ کرنے کا اعلان کیا ہے، عالمی طور پر چین اور امریکہ کے تعلقات کو بھی ایک خاص زوایہ سے پرکھا جا رہا ہے۔ بائیڈن حکومت ساﺅتھ ایشیا میں اپنا توازن کیا رکھے گی۔
بھارت نواز سابق عہدیداروں سے تو فی الحال اس حکومت نے سردمہری کا برتاﺅ کا اظہار کیا ہے۔ افغانستان مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں اس سے متعلق ثالث خلیل زاد کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کس نہج پر جائیں گے جب کہ بائیڈن اچھی طرح اس سے آگاہ ہیں کہ پاکستان نہ صرف افغانستان بلکہ ہمسایوں سے امن کا خواہاں ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اور کئی عوامل اور محرکات اثر انداز ہوتے ہیں۔ یوروپ اور روس سے پچھلے چار سالوں میں کئی تحفظات ہر طرف سے ابھر کر آئے ہیں، امریکہ کی جانب۔
نئی حکومت یقینی طور پر اپنی داخلی مسائل کو فوقیت دیتے ہوئے آگے کی طرف پیش قدمی کرے گی۔ پچھلی حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کی توسیع یا نفی پر ردعمل عالمی طور پر بغور دیکھا جائے گا اور لازمی طور پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں